چینی سائنسدانوں نے کامیابی سے ’سپر کاؤز‘ کا کلون بنالیا
چینی سائنسدانوں نے کامیابی سے ’سپر کاؤز‘ کا کلون بنالیا
چینی سائنسدانوں نے کامیابی سے ’سپر کاؤز‘ کا کلون بنالیا
دنیا تیزی کے ساتھ ترقی کررہی ہے۔ ہمیں آئے دن کوئی نا کوئی ایسی چیز دیکھنے اور سننے کو ملتی ہے جس کا ہم نے سوچا بھی نہیں تھا اور اس کی وجہ دنیا بھر میں سائنسدانوں کی طرف سے کئے جانے والے تجربہ ہیں۔
ایسا ہی ایک تجربہ چین میں بھی سائنسدانوں نے کیا ہے۔ جہاں ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے سپر کاوز بنا لیں ہیں۔ جو عام گائے کے مقابلے میں بہت زیادہ دودھ دے سکیں گی۔ ان گائے کو بنانے کے لئے انہوں نے جو طریقہ اپنایا اس کو سومیٹک سیل نیوکلیر ٹرانسفر کہا جاتا ہے۔
اس میں جسم کے سیل کو استعمال کرکے ایک ایمبریوں بنایا جاتا ہے اور پھر ایک گائے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین ایسا کیوں کررہا ہے۔ تو اس کا جواب ہے کہ چین 70 فیصد اپنی ڈیری گائے باہر کے ملکوں سے منگواتا ہے۔ اس وجہ سے وہ کلونگ کا ستعمال کرکے ایسی گائے بنانا چارہا ہے جو زیادہ دودھ دے سکیں۔
اس کام کو کرنے کے لئے انہوں نے پہلے ایک ایسی گائے کو ڈھونڈا جو بہت زیادہ دودھ دیتی ہے۔ اس کے سیل کو کلون کیا گیا تا کہ ویسی اور گائے بنائی جاسکیں۔ پھر ان کی نسل ایسی گائے سے چلائی جائے گی۔ کچھ لوگوں کا سوال تھا کہ ان کی گائے سے نکلا ہوا دودھ پینا صحیح ہوگا۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان کی بنائی ہوئی گائے اور ایک عام گائے سے نکلے ہوئے دودھ میں کوئی بھی فرق نہیں ہوگا۔ تینوں بچھڑے ننگزیا ہوئی علاقے میں پیدا ہوئے۔ پہلا بچھڑا، جو 30 دسمبر کو سیزرین سیکشن کے ذریعے پیدا ہوا تھا۔ اس کا وزن 56.7 کلوگرام تھا اور اس کی شکل اور نمونہ بالکل وہی ہے، جس گائے سے اسے کلون کیا گیا تھا۔
دی گلوبل ٹائمز کے مطابق، وہ ایک سال میں 18 ٹن یا زندگی بھر میں 100 ٹن دودھ پیدا کر سکیں گے۔ 2008 میں، یو ایس فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس بات کی تصدیق کی کہ جانوروں کے کلون کا گوشت اور دودھ “کھانے کے لیے اتنا ہی محفوظ ہے جتنا کہ روایتی طور پر پالے جانے والے جانوروں کی خوراک”۔
اس طرح، یہ ’سپر گائے‘ بچھڑوں کے دو سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد بازار کے لیے دودھ تیار کرنا شروع کر دیں گی۔