سندھ میں لسانی تقسیم پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں ہندوبرادری کی نشست کا انعقاد، ڈاکٹر خالد مقبول، مصطفی کمال و دیگر کا خطاب
سندھ میں لسانی تقسیم پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں ہندوبرادری کی نشست کا انعقاد کیا گیا جس سے کنوینر ایم کیو ایم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپکے پاس ووٹ لینے نہیں بلکہ محبت کا پیغام لیکر آئے ہیں۔ ہم سب پاکستان اور خصوصا سندھ کے حالات سے پریشان ہیں۔
خالد مقبول نے ہندوستانی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور آپکے درمیان کئی قدریں مشترک ہیں آپ ایک مذہبی اقلیت ہیں اور ہم ایک لسانی اقلیت ہیں مصطفی کمال نے کہا کہ سندھ حکومت کو کراچی سے 300 ارب روپے ٹیکس ملتا ہے کراچی سے سندھ کو 1ہزار ارب روپے ملتے ہیں میں کہتا ہوں کہ 300 ارب روپے وائٹ منی کے ذریعے ملتے ہیں جبکہ باقی کے 700 ارب بلیک منی سے ملتے ہیں پاکستان میں بنیاد پرستی کی بنیاد وڈیرہ شاہی نظام سے ہے ایک جماعت مزہبی شدت پسندی کی وجہ سے اپنے ہی گورنر کی نماز جنازہ میں نہ جاسکی اس شدت پسندی میں بھی ایم کیو ایم ہی اسکے خلاف ایک توانا آواز ہے۔
انکا کہنا تھاکہ ہم نے منگلا شرما کو اسمبلی میں بھیج کر ایک مثال قائم کی منگلا شرما مڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہیں آپ ہمیں ووٹ دیں یا نہ دیں ہم آپکے حقوق کی حفاظت کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں یہاں بیٹھے زیادہ تر لوگ ہی اندرون سندھ کے نہیں بلکہ ہماری رابطہ کمیٹی کے اکثر لوگوں کا تعلق بھی اندرون سندھ سے ہے ہم نے اپنے لئے ایک مشکل راستہ کا انتخاب کیاہے پاکستان میں مروجہ سیاست پیسے کی سیاست ہے جب ایک نشست کی قیمت 75 کروڑ روپے تھی ہم نے اس صورتحال میں اپنی کنفرم سیٹ ایک اسکول ٹیچر کو دی ہمیں موقع ملے گا تو ہم ایک ہاری کو بھی اسمبلی میں وڈیرے کے برابر لاکر بٹھائیں گے موجودہ وڈیرہ شاہی نظام کو ہم سے یہی تو خطرہ ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ہم پیشہ ور سیاستدان نہیں ہیں درجنوں مثالیں ہیں کہ ہم نے لوگوں کو اسمبلیوں میں بھیجااسمبلیاں کے اختتام پر وہ لوگ اپنے اپنے پروفیشنز میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن انصاف کی ضمانت نہیں دے سکتا بلکہ انصاف امن کی ضمانت ہوتا ہے آئیں اس امن کو اس شہر کا مستقبل بنانے کیلئے ہمارا ساتھ دیجئے آپ بتائیں کہ جب مصطفی کمال ناظم تھے تو اسوقت کا دور اچھا تھا یا آج کا دور اچھا ہے ایم کیو ایم کے ناظم کے وقت پورا ملک کراچی کی مثال دیا کرتا تھا۔ پوری دنیا میں اسوقت کا کراچی ترقی کی ایک مثال بن گیا تھاکراچی میں جب جب جوجو ترقی ہوئی وہ ایم کیوایم کے دور میں ہوئی ہے1988 میں ایم کیو ایم نے ماس ٹرانزٹ پروگرام منظور کروا لیا تھا۔
کوئی سوال کرے کہ اسوقت بے نظیر بھٹو نے اس پروجیکٹ کیلئے سوورن گارنٹی کیوں نہ دی؟اسوقت صوبہ میں ایک طبقہ 98 فیصد ٹیکس دیتا ہے اوردوسرا طبقہ وہ 98 فیصد ٹیکس استعمال کرتا ہے سندھ میں لسانی تقسیم پیپلزپارٹی کی ضرورت ہے لسانی تقسیم کو پیپلزپارٹی اپنے ووٹ حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتی ہے ہم اپنے حصہ کی قربانی دے چکے ہیں اب قربانی ہم نے نہیں کسی اور نے دینی ہے۔سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ آج کی ایم کیوایم تمام نشیب و فراز سے گزر کر کندن بن گئی ہے اگر پاکستان کو کوئی جماعت آگے لے جاسکتی ہے تو وہ صرف ایم کیو ایم پاکستان ہے پاکستان آج اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں آوازیں آرہی ہیں کہ یہ خدانخواستہ ایک ناکام ریاست ہے اس نظام کہ تحت اب ملک کو آگے لے جانا ناممکن ہے۔
اٹھارہویں ترمیم پاس کرکے تمام اختیارات صوبوں کے وزرائے اعلی کو دے دئیے گئے ہیں نیشنل فنانس کمیشن کے تحت 56 فیصد شیئر صوبوں کو دے دئیے گئے ہیں اسطرح تقریبا َ1 ہزار ارب روپے سے زائد سندھ کو سالانہ دئیے جاتے ہیں اسی طرح سندھ تقریبا 300 ارب سے زائد ٹیکس کراچی سے جمع کرتا ہے اسطرح 1400 ارب روپے سالانہ سندھ کو ملتے ہیں این ایف سی ایوارڈ کے تحت یہ تمام فنڈز صوبہ کو ملتا ہے مگر صوبہ یہ تمام فنڈز لینے کے بعد پی ایف سی نہیں دیتاصوبہ کے تمام اختیارات پروزیراعلی قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے کونسے ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ وزیراعلی تمام اختیارات لئے بیٹھا ہووہ کیوں یونین کونسل، ٹاون کونسل، ڈسٹرکٹ کونسل اور شہری کونسل کو با اختیار اور باوسائل نہیں کر رہا،ایم کیوایم وہ واحد پارٹی ہے جس نے ملک کی محبت میں اپنے سربراہ سے لاتعلقی اختیار کی4 سال پی ٹی آئی حکومت میں رہی مگرمسائل حل نہ ہوئے صوبہ سندھ میں 15 سال سے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مسائل جوں کہ توں ہیں پیپلزپارٹی نے ہی سندھ میں کوٹہ سسٹم نافذ کیاآج صورتحال یہ ہے کہ وہ اس کوٹہ پر بھی عمل نہیں کر رہی آج سندھ میں سندھیوں کا ہم سے زیادہ برا حال ہوچکا ہے۔
یہ شہرکراچی ملک کی آخری امید ہے یہی وہ واحد چراغ ہے جو پورے پاکستان کو روشن کریگا۔انکا کہنا تھا کہ ملکی ترقی میں ہندو کمیونٹی کا ایک بڑا کردار ہے آج کی نشست کا مقصد ہندو برادری کے لوگوں کا ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے تعارف کروانا ہے۔ رکن رابطہ کمیٹی موہن منجیانی نے کہا کہ یہ ایک نئی ایم کیو ایم ہے جو ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں عوام کی خدمت اور انکے مسائل کے حل میں کو شاں ہے اور اس ہی طرح اپنی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔نشست سے سابق صدر پاکستان ہندو کاؤنسل ہوچندانی کرما،پاکستان ہندو کاؤنسل کے جوائنٹ سیکریٹری پون لال،ایم ایس سول ہسپتال ڈاکٹر گریش و دیگر نے بھی گفتگو کی۔
انکا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہے ہم اقلیت ضرور ہیں لیکن 95فیصد ہر شعبے میں موجود ہیں اس شہر کے مسائل کیلئے صرف ایم کیو ایم نے ہی آواز بلند کی ہے اس شہر کی نظامت اس کا درد رکھنے والوں کو ملنی چاہئے،شرکاء نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندو برادری ماضی میں بھی ایم کیو ایم کے ساتھ کھڑی تھی اور آنے والے وقت میں بھی ایم کیو ایم کا ساتھ دیگی۔
اس موقع پر ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائم خانی،اراکین رابطہ کمیٹی،مرکزی شعبہ جات کے ذمہ داران اور ہندو برادری کے عمائدین اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں پروگرام میں شرکت کی۔