اگر بلاول زرداری کے وزیراعظم بننے کا خواب عوام نے چکنا چور کردیا تو کیا اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پاکستان پر لگائیں گے؟ سید فیصل سبزواری
بلاول زرداری کے والد صاحب کئی بار ہماری دہلیز پر ہمارے ووٹ مانگنے آئے ہیں اگر ہم دہشت گرد تھے تو آپ کل تک ہمارے دروازے پر کیوں آتے رہے۔ سید فیصل سبزواری
اگر بلاول زرداری کے وزیراعظم بننے کا خواب عوام نے چکنا چور کردیا تو کیا اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پاکستان پر لگائیں گے؟ سید فیصل سبزواری
کراچی: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکزی انتخابی دفتر پاکستان ہاوس میں منعقد پریس کانفرنس سے رکن رابطہ کمیٹی و سینیٹر سید فیصل سبزواری کا خطاب۔ سید فیصل سبزواری نے کہا کہ آج میڈیا کے توسط سے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کی باتیں سن کر حیرت ہوئی باتوں سے ایسا لگا کہ بلاول بھٹو پاکستان کے موجودہ معاشی صورتحال کے باوجود سب مزے لینا چاہتے ہیں۔ جبکہ ہم نے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو معاشی بحران سے نکلنے کیلئے ایک ساتھ بیٹھ کر کام کرنے کا مشورہ دیا لیکن موجودہ حالات میں بلاول بھٹو زرداری کی باتیں سن کر افسوس ہوتا ہے۔ بلاول کا یہ کہنا کہ کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کو سیٹیں دی گئی ہیں ایسا لگتا ہے کہ بلاول زرداری آج سے پہلے کسی خواب میں ڈوبے ہوئے تھے۔
انکو یہ نہیں پتا کہ سندھ کے شہری علاقے ہمیشہ سے ایم کیو ایم کے ساتھ تھے جبکہ موجودہ انتخابی مہم ہم ستمبر سے چلا رہے ہیں اور ماضی میں بھی ہم اس شہر کی تمام نشستیں جیت تے آئے ہیں اور بلاول زرداری کو میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہماری انتخابی مہم کے دوران پیپلز پارٹی کے دہشتگردوں نے ہمارے متعدد کارکنان کو شہید کیا۔
پیپلز پارٹی یہ کیوں بھول رہی ہے کہ کراچی ایم کیو ایم پاکستان کا قلعہ ہے اور اگر بلاول زرداری کے وزیراعظم بننے کا خواب عوام نے چکنا چور کردیا تو اس کا الزام بھی ایم کیو ایم پاکستان پر لگائیں گے؟ کیا آپ یہ بھول گئے کہ ماضی میں آپ ہمارے ساتھ ہی کابینہ میں شامل تھے اور آپکے والد صاحب کئی بار ہماری دہلیز پر ہمارے ووٹ مانگنے آئے ہیں اگر ہم اتنے بڑے تھے تو آپ کل تک ہمارے دروازے پر کیوں آتے رہے ؟ ہمیں اس وقت عقلمندی کا مظاہرہ کرنا ہے اور آگے ہمیں ساتھ بیٹھنا ہے اگر آپ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھے تو آپکے والد صدر کیسے بن پائینگے؟
ہم اس وقت آپکی جذباتی باتوں کا جواب صحیح انداز میں نہیں دے رہے کیوں کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ترقی کرے اور ہم آپ سے بھی یہی امید رکھتے ہیں کہ سب سے مل بیٹھ کر بات کریں نا کہ الزام تراشی کی سیاست کی جائے اگر ہم چاہتے تو الزولفقار سے شروع کر کہ آگے تک بہت سی باتیں کر سکتے ہیں لیکن ہم آپ سے الجھنا نہیں چاہتے اور آپ کراچی کو فتح نہیں کر سکے تو اس میں آپکی غلطی ہے کیوں کہ آپ کراچی کے عوام کو کچھ ڈلیور نہیں کر پائے اور جو لوگ عوامی مینڈیٹ سے آئے ہیں انکا احترام کریں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اربوں روپے کی اشتہاری مہم چلائی لیکن انکو ہمارے جیتنے کی توقع نہیں تھی وہ سمجھ رہے تھے کہ ہم بائیکاٹ کردینگے لیکن ہم نے کراچی سے جیت کر عوام نے انکے خواب چکنا چور کردئے ۔اس موقع پر اراکین رابطہ کمیٹی و دیگر بھی موجود تھے