اسرائیل بیت المقدس میں نمار پڑھنے والے نمازیو پر بھی ظلم کرتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
حماس سیلف ڈیفینس کا حق استعمال کرتے ہوئے مقابلہ کررہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
اسرائیل بیت المقدس میں نمار پڑھنے والے نمازیو پر بھی ظلم کرتا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : حافظ نعیم الرحمن، امیر جماعت اسلامی کراچی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ فلسطین اور غزہ ہے۔ اسرائیل ہر سال ایوریج 100 لوگوں کو شہید کر رہا ہے۔ اسرائیل اب تک لاکھوں لوگوں کو بے گھر بھی کر چکا ہے۔ اسرائیل بیت المقدس میں نمار پڑھنے والے نمازیو پر بھی ظلم کرتا ہے۔ اسرائیل نے دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کل اسپتال میں بم پھینکا جس سے اسی وقت 500 افراد شہید ہوئے۔ اپنی نوعیت کی پہلی پریس کانفرنس کل ڈاکٹر یوسف صاحب نے لاشوں پر کھڑے ہوکر کی ہے۔ مسلم ممالک کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو کسی صورت قبول نہیں۔ یروشلم میں مسجد اقصی میں جو مسلمان نمز پڑھنے جاتے ہیں ان پر بھی تشدد کرتے ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ فلسطین میں واحد مزاحمت حماس کی ہے۔ حماس نے جمہوری جماعت کے طور پر انتخاب میں کامیابی حاصل کی تھی۔ حماس سیلف ڈیفینس کا حق استعمال کرتے ہوئے مقابلہ کررہی ہے۔ امریکہ اور برطانیہ نے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ امریکہ کے بہت سے لوگ حماس سے ڈرتے ہیں اور اس کا ساتھ نہیں دیتے۔ جب کہ حماس ایک قانونی و مزاحمتی جنگ لڑ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہاں کے لوگ مکمل طور پر حماس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ لوگ شہید ہورہے ہیں، بچوں کو قرآن پاک کی تلاوت کے ساتھ قبر میں اتاررہے ہیں۔ ہم۔مسلم ممالک سے سوال کرتے ہیں کہ کہاں ہیں حکمران۔ رات جو مناظر تھے، اس سے کسی بھی آدمی کا دل پگھل سکتا ہے۔ امریکہ اسرائیل کا ساتھ اس لئیے دے رہا ہے کیونکہ وہ خود ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ دہشت گرد ریاستوں کی پشت پناہی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسرائیل کے بم پھینکنے کو درست قرار دے رہے ہیں۔ پوچھنا چاہتا ہوں اب کہاں ہیں انسانی حقوق علمبردار۔ برطانیہ نے اسرائیل کو جب قبول کیا تو اس وقت 5 فیصد یہودی تھے۔ ہر جگہ سے لا کر یہودیوں کو فلسطین میں لاکر بسا دیا گیا۔ 1948 سے فلسطینیوں کو شہید کیا جارہا ہے۔ یہ پوری تاریخ ہے حماس نے یوں ہی یہ نہیں کیا۔ حماس کی زمینوں پر قبضے کئے گئے ہیں۔ لوگ اسرائیل کی مذمت اتنی نہیں کرتے جتنی حماس کی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے بھی اسرائیل کو قبول نہیں کیا وہ فلسطینیوں کے حامی تھے۔ 23 مارچ کو ایک قراردار پاکستان کی تھی دوسری فلسطین کی تھی۔ مسجد اقصی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انبیا کی امامت کروائی ہے۔ کاکڑ اور وزیر خارجہ کو کہتا ہوں کہ آپ اسرائیل کو قابض ریاست نہیں کہہ رہے جو کہا جاتا ہے۔ آپ فلسطینیوں کے ایجنڈے پر نہیں چل رہے۔ ہم فلسطینیوں کا حق ادا نہیں کرسکتے مگر انکے ساتھ تو کھڑے ہوسکتے ہیں۔ کراچی کا احتجاج بازی لے گیا، ہم نے تمام جماعتوں کے لوگوں کو بلایا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے لئے ہم سیاست کو استعمال نہیں کرنا چاہتے۔ نیند نہیں آتی جب ان بچوں کو دیکھتے ہیں۔ ہمیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ امیر جماعت سراج الحق نے پیٹیشن کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایک کروڑ پیٹیشن لکھنی ہے اقوام متحدہ کو۔ ان لائن شروع ہوگیا ہے اب گھروں میں بھی جا کر دسخط لیں گے۔ اسرئیل ایک قابض ریاست ہے اسے ماننا ہوگا۔ یو این او کے سیکرٹری جنرل سے بھی کہیں گے کہ امریکہ جیسے ریاستوں کی لونڈی نہ بنیں۔ افواج پاکستان دنیا بھر میں افواج یہ کام کرے دنیا کو میسج دے اپنا کردار ادا کرنے کے لئیے۔
انہوں نے کہا کہ 40 ممالک کی مشترکہ فوج کس لئیے بنائی گئی جو مسجد اقصی کی بھی حفاظت نہیں کرسکتی ۔ ایمان اور انسانیت کی بنیاد پر اس ظلم پر اٹھ کھڑے ہوں ۔ ہمارا سپاہی جذبہ شہادت رکھتا ھے۔ جنرل عاصم منیر آغاز کریں اور امریکہ اور دنیا کو واضح پیغام دیں ۔ ہمارے نوجوان بھی ایکٹو ہونگے ، فنڈز بھی جمع ہونگے۔ 2020 میں بھی یہ واقعات ہوئے تھے تو الخدمت وہاں پہنچی تھی۔ ابھی بھی ہمارا ایک چیپٹر غزہ میں ہے انھوں نے کام شروع کردیا ہے۔