جماعتِ اسلامی کا طرزِ عمل غیر سیاسی ہے آج بھی انہوں نے ضمنی انتخابات کے موقع پر بدمعاشی کی ہے۔ سعید غنی
جماعتِ اسلامی کے مینڈیٹ پر بہت سوالات ہیں مگر اسکو ہم مانتے ہیں، مگر آپ کو بھی ہمارا مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑے گا۔
جماعتِ اسلامی کا طرزِ عمل غیر سیاسی ہے آج بھی انہوں نے ضمنی انتخابات کے موقع پر بدمعاشی کی ہے۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ و صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی نے کہا ہے کہ جماعتِ اسلامی کا طرزِ عمل غیر سیاسی ہے آج بھی انہوں نے ضمنی انتخابات کے موقع پر بدمعاشی کی ہے۔ جماعتِ اسلامی کے مینڈیٹ پر بہت سوالات ہیں مگر اسکو ہم مانتے ہیں، مگر آپ کو بھی ہمارا مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں ملکر کراچی کی خدمت کریں تو ہم ڈیلیور کر سکتے ہیں۔
پیپلز پارٹی نے 11 میں سے 5 یوسیز پر کامیابی جبکہ 4 پر ہمیں شکست ہوئی ہے بقیہ تو پر ابھی فائنل نتیجہ نہیں آیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کی شب اپنے کیمپ آفس میں پرہجوم ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی، کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری آصف خان، شکیل چوہدری، خلیل ہوت، لیاقت آسکانی، جانی میمن، کامیاب ہونے والے یوسیز کے چیئرمین اور وائس چیئرمین سمیت پارٹی کے تمام اضلاع کے عہدیدار موجود تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ آج ہمارا ارادہ نہیں تھا کہہ رات گئے اس طرح پریس کانفرنس کرنے کا نہیں بلکہ ہمارا پلان تھا کل پریس کانفرنس کریں، مگر جماعت اسلامی اور تحریک انصاف نے وہی روایتی انداز میں الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک جو نتائج آئے ہیں اسکے مطابق گیارہ میں پانچ یوسیز میں ہم جیتے ہیں چار میں ہم ہارے ہیں دو کے نتائج تاحال نہیں آئے۔
سعید غنی نے کہا کہ مجھے افسوس ہوتا ہے جماعت اسلامی پہ اور تحریک انصاف پہ کہ آپ الیکشن لڑتے ہو تو جیتے بھی ہو اور ہارتے ہو تو الزام لگانا شروع کردیتے ہو۔ انہوں نے کہا کہ پانچ بجے پولنگ کا وقت ختم ہوتا مگر جو اندر موجود ہوتا ہے انکا ووٹ کاسٹ ہوتا ہے، مگر تحریک انصاف نے پانچ بجے سے پہلے ہی پریس کانفرنس کردی اور الزامات لگائے۔ سعید غنی نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کا طرزِ عمل غیر سیاسی ہے آج بھی انہوں نے بدمعاشی کی اور ہمارے تین کارکن کورنگی میں اور دو نیو کراچی میں زخمی ہوئے اور بھی کارکنان کے زخمی ہونے کے اطلاعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی لو جہاں پتہ چلتا ہے کہ یہ ہار رہے ہیں وہ وہاں جاکر حملہ کرتے ہیں۔ انہوں نے 15 جنوری کے انتخابات میں ایسٹ کی ایک خاتون افسر پر حملہ کیا اور انکی گاڑی توڑی میرے سامنے اس خاتون نے بتایا۔ سعید غنی نے کہا کہ جہاں آپ جیت گئے وہاں بڑا انصاف ہوا اور جہاں آپ ہار گئے وہاں بڑی نا انصافی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی والےپریزایڈنگ آفیسر کو فون کر کے دھمکی دی کہہ پوری زندگی کورٹ کے چکر لگوائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کے مینڈیٹ پر بہت سوالات ہیں مگر اسکو ہم مانتے ہیں، مگر آپ کو بھی ہمارا مینڈیٹ تسلیم کرنا پڑے گا۔ آپ پیپلز پارٹی کو کراچی سے بلکل صفر نہیں کرسکتے،پیپلز پارٹی نے کراچی میں اپنی محنت سے اپنے کاموں سے جگہ بنائی ہے جبکہ برعکس دوسری جانب جماعت اسلامی ہیں انہوں الخدمت کا فنڈ اپنے انتخابات کے لئے استعمال کیا، لوگ ان کو زکوٰۃ اور فنڈز دیتے ہیں اور یہ جو کام کرتے ہیں وہ لوگوں کے زکوٰۃ کے فطرے کے پیسے ہوتے ہیں، یہ لوگ لوگوں سے راشن کے نام پر ووٹ لیتے ہیں۔
سعید غنی نے کہا کہ ہم بھی اپنی توفیق کے مطابق زکوٰۃ خیرات دیتے ہیں مگر ہم لوگوں کے پاس جاکر یہ نہیں کہتے کہ ہم نے آپ کے یہ کیا وہ کیا، آپ بتائیں یہ کونسا سا اسلام ہے۔ یہ طریقہ کار غلط ہے ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہہ ہم لوگوں کو بتائیں آپ کیا کرتے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ صبحِ سے ہی واویلا مچانے کے لئے اپنا کیس بنا رہے تھے کیونکہ انکو سب سے زیادہ تکلیف لیاری کی سیٹ ہارنے پر ہے۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کراچی کی تمام سیاسی جماعتیں ملکر کراچی کی خدمت کریں تو ہم ڈیلیور کر سکتے ہیں، جماعتِ اسلامی اگر بضد رہی تو یہ انکی مرضی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہا کہ کونسی وہ آٹھ یوسیز ہیں جس میں جماعت اسلامی جیتی ہے اور کونسی ہمیں یہ دے رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ میں بھی کہتا ہوں ہمیں مل جل کر کراچی والوں کی خدمت کریں۔ سعید غنی نے کہا کہ میں کراچی کے لوگوں شکریہ ادا کرتا ہوں، انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہے پیپلز پارٹی کراچی والوں کے اعتماد پر پورا اترے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی والے ری کائونٹنگ کے لئے گئے پھر حافظ نعیم الرحمن نے ٹوئیٹ کیا کہہ فیصلہ ہمارے حق میں آگیا ہے جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ فیصلہ پیپلز پارٹی کے حق میں آگیا۔ مئیر کراچی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ جب مکمل نتائج آئیں گے اس کے مخصوص نشستیں تقسیم ہونگی۔
انہوں نے کہا کہ کراچئ کے لوگوں کا یہ تاثر ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کا میئر ہوگا تو کراچی والوں کی خدمت کرسکتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پچیس میں سے بارہ یا تیرہ ٹائون پیپلز پارٹی کے ہونگے اور مئیر کراچی بھی پیپلز پارٹی کا ہی ہوگا اور اس کا فیصلہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کریں گے کہ کون سا جیالا مئیر ہوگا۔ پی ٹی آئی کہ کچھ یوس چیئرمین کے پیپلز پارٹی کے رابطے کے سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اتنے لوگ رابطے میں ہیں جتنے خود پی ٹی آئی والوں کے پاس نہیں ہیں۔