کراچی شہر کی روشنیوں کو برباد کرنے میں جتنا کردار کراچی دشمن تنظیموں نے ادا کیا ہے اتنا ہی کردار کے الیکٹرک نے کیا ہے۔ منیب وسیم
کراچی کی عوام اب مزید اس ظلم کو برداشت نہیں کر سکتی۔ منیب وسیم
کراچی شہر کی روشنیوں کو برباد کرنے میں جتنا کردار کراچی دشمن تنظیموں نے ادا کیا ہے اتنا ہی کردار کے الیکٹرک نے کیا ہے۔ منیب وسیم
کراچی : کونسلر منیب وسیم نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ کے-الیکٹرک کراچی شہر کے لئے ایک ناسور ہے۔ کراچی شہر کی روشنیوں کو برباد کرنے میں جتنا کردار کراچی دشمن تنظیموں نے ادا کیا ہے، اتنا ہی کردار کے-الیکٹرک نے کیا ہے۔ کھمبوں کی قیمت پر کراچی کی بجلی خرید کر، سارا تانبہ بیچ کر سلور پر سارا سسٹم ڈال کر، کراچی کے شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے۔ نیشنل گرڈ سے سستی بجلی خرید کر مہنگے داموں بیچ کر کراچی کی عوام کو اتنا پریشان کیا گیا کہ کراچی کے شہریوں نے خودکشیاں تک کی ہیں، لیکن اس ظالم اور جابر ادارے کو شرم نہ آئی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مونس علوی صاحب ویسے تو بڑی اخلاقیات اور مذہب کی باتیں کرتے ہیں لیکن ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ جو ظلم وہ روا رکھے ہیں۔ انہیں اس کا حساب بھی دینا ہے۔
اضافی بجلی موجود ہونے کے باوجود بجلی کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا، گیس پر یونٹ چلائے جاتے ہیں اور پیسے آئل کے لئے جاتے ہیں۔ سونے پر سہاگہ سلیب سسٹم کی آڑ میں جو بھتہ خوری مچا رکھی ہے۔ کراچی کی عوام اب مزید اس ظلم کو برداشت نہیں کر سکتی۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ان وائٹ کالر بھتہ خوروں کو مسندوں سے اٹھا کر پھینک دیں۔ دن میں 14 سے 18 گھنٹے کی غیر اعلانیہ اور غیر منصفانہ ظالمانہ لوڈ شیڈنگ اور بھاری بھرکم بل، بلوں کی عدم ادائیگی یا تاخیری ادائیگی پر لوگوں کے گھروں پر جا کر عوام کی تذلیل، بدمعاشی اور غنڈہ گردی اب ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کے-الیکٹرک کے لوگ ازخود 1500 روپے فی گھر کے حساب سے کنڈوں کا نیٹ ورک چلاتے ہیں اور پھر لائن لاسس اور ریکوری کا ڈرامہ رچاتے ہیں۔
کراچی کی عوام کو چور کہنے والی کے الیکٹرک خود ایک چور اور نا دہندہ ادارہ ہے۔ حکومت سے عوام کا دیرینہ اور ایک نکاتی مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کا فوری طور پر لائسنس منسوخ کیا جائے، کراچی کی بجلی کو قومی دھارے میں لایا جائے۔ مونس علوی کے خلاف ایف آئ آر کاٹی جائے اور اسے گرفتار کیا جائے۔