Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

ایم کیو ایم سانحہ بلدیہ کو ایک حادثہ مانتی ہے، اگر کوئی مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تو وہ فیکٹری ملکان ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال

شہید ہونے والوں کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے پوری کتاب لکھی جس میں انکشاف کیا تھا کہ بیسمنٹ میں غیر قانونی طریقے سے لکڑی کا فلور ڈال کر ایک ایکسٹرا فلور بنایا گیا

0

ایم کیو ایم سانحہ بلدیہ کو ایک حادثہ مانتی ہے، اگر کوئی مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے تو وہ فیکٹری ملکان ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال

کراچی : سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ جج صاحب نے جو فیصلہ لکھا ہے اس میں انہوں نے حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی ذاتی پسند کی عکاسی کی ہے۔ جبکہ 260 شہید ہونے والے افراد کے وکیل بیرسٹر فیصل نے جو پوری کتاب لکھی اور لوگوں سے شہادتیں لیں انہیں نظر انداز کر دیا گیا جج صاحب نے یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت کے بغیر ایم کیو ایم کے کارکنان نے یہ عمل کیسے کیا، اس پر تو ہمیں پھانسی دی جانی چاہیے نہ کہ کارکنان کو، انکا کہنا تھا کہ تحقیقات میں فیکٹری مالکان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے فیکٹری میں چوری کے ڈر سے دروازے اور کھڑکیاں لوہے کی چادریں ویلڈ کر کے بند کر دیے تھے اور فیکٹری کے تمام دروازے سیل تھے۔

کوئی سیفٹی کا سامان نہیں تھا، نہ ملازمین کو تربیت دی گئی تھی اور نا ہی کوئی فائر الارم تھا کوئی خارجی راستہ بھی نہیں تھا، فیکٹری میں آنے اور جانے کا صرف ایک راستہ تھا جہاں موجود چار گارڈز اور سی سی ٹی وی کیمرہ کے مطابق نہ کوئی فیکٹری میں گیا، نہ کوئی آیا پھر دہشتگردی کیسے ہوئی؟ شہید ہونے والوں کے وکیل بیرسٹر فیصل صدیقی نے پوری کتاب لکھی جس میں انکشاف کیا تھا کہ بیسمنٹ میں غیر قانونی طریقے سے لکڑی کا فلور ڈال کر ایک ایکسٹرا فلور بنایا گیا جس نے آگ پکڑی، نیز یہ کہ مذکورہ فیکٹری کہیں رجسٹرڈ ہی نہیں تھی، جس سے فیکٹری مالکان اور سندھ حکومت کی غفلت عیاں ہوتی ہے۔

اس بات کا کہیں ذکر ہی نہیں، فیکٹری مالکان میں سے ایک کینیڈا جبکہ دوسرا یو کے میں جا کر بیٹھ گئے ہیں اگر وہ 260 لوگوں کیلئے انصاف چاہتے تو آج پہلے جیسا ماحول نہیں یہاں پر ہوتے انکا کہنا تھا کہ لیکن لاڑکانہ کی عدالت جا کر فیکٹری مالکان کو چھڑوایا گیا، جس کے بعد پہلی فلائٹ سے دونوں باہر چلے گئے، جس زبیر کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے اسے آگ لگنے کے بعد گودھرا میں بننے والی نئی فیکٹری میں بھی 2.5 سالوں تک ملازمت پر رکھا گیا جس نے آگ لگائی اسے فیکٹری مالکان خود اپنی گاڑی میں ایئرپورٹ چھوڑ کر آئے۔

سوال بنتا ہے اگر وہ ایسا تھا تو اسے دوبارہ ملازمت پر کیوں رکھا گیا؟ جے آئی ٹی کا گواہ ایک چرسی ہے جو کہہ رہا تھا میں چرس پینے نیچے گیا تو زبیر کو کمیکل چھڑکتے دیکھا، بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں ہر جگہ کیمرے تھے، 12 سالوں میں کسی عدالت میں ان کیمروں کی ریکارڈنگ کیوں نہیں پیش کی گئی تمام سی سی ٹی وی کیمرے محفوظ تھے۔

پھر بھی اس کی مدد سے تحقیقات کیوں نہیں کی گئی، تفتیش بتاتی ہے کہ یہ حادثہ تھا جب اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ فیکٹری میں آگ لگائی گئی ہو، ایم کیو ایم اپنے کارکنان کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور انصاف کیلئے ہر دروازہ کھٹکھٹائے گی

Comments
Loading...