Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئرمین سینیٹر عامر چشتی کا ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پارلیمانی نگرانی اور سخت ریگولیٹری نفاذ کا اعلان

ڈسپوزایبل سرنجز کے دوبارہ استعمال پر پابندی کے قانون (سندھ ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ 2010) پر سختی سے عمل درآمد کر کے ہی مہلک بیماریوں کا سدِباب ممکن ہے۔ نسرین جلیل

0

نسرین جلیل کا کراچی پریس کلب میں ایم کیو ایم پاکستان کے زیرِ اہتمام اہم ترین “ایچ آئی وی ایڈز آگاہی سیمینار” سے خطاب

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے زیرِ اہتمام کراچی پریس کلب میں انتہائی اہم “ایچ آئی وی اینڈ ایڈز اویئرنس سیمینار” کا انعقاد کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد ملک کے مستقبل کو اس موزی مرض سے محفوظ رکھنا اور عوامی شعور کو بیدار کرنا تھا۔ سیمینار میں “نیشنل ایکشن پلان فار سیفٹی 2019” اور “سندھ ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ 2010” کے موثر نفاذ پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اٹھارویں ترمیم کے بعد سندھ کے ہیلتھ کیئر سیکٹر میں خون کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں بالخصوص ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ اور ان کے تدارک کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر سینیٹر نسرین جلیل نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ڈسپوزایبل سرنجوں کے دوبارہ استعمال پر مکمل پابندی اور متعلقہ قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کا صحت مند مستقبل یقینی بنایا جا سکے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے چیئرمین سینیٹر عامر چشتی کے حوالے سے بتایا گیا کہ انہوں نے سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشنز کو سرنجوں کے دوبارہ استعمال کو روکنے، انفیکشن کنٹرول میکانزم کو مضبوط بنانے اور دیہی و شہری علاقوں میں کام کرنے والے غیر مستند جالی ڈاکٹروں (اطائیوں) کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ہدایات جاری کر دی ہیں تاکہ پارلیمانی نگرانی کے ذریعے اس وباء کا خاتمہ کیا جا سکے۔

اس اہم سیمینار میں مختلف تنظیموں اور صحت کے شعبے سے وابستہ ممتاز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ڈاکٹر رب نواز سموں (یو این ڈی پی)، ڈاکٹر سید غلام عباس زیدی (کے ایم سی)، مہناز رحمان (ایچ آر سی پی)، ڈاکٹر این راشد نلینتھران (ایل سی ایم ڈی/ڈی ایس ایچ)، ڈاکٹر اظہر حسین (ایل سی ایم ڈی/ڈی ایس ایچ)، ڈاکٹر ایم انور (کے کے ایف ہاسپٹل)، پرویز حسین (ڈی ایچ او ویسٹ)، ڈاکٹر اطہر خان (ایل سی ایم ڈی/ڈی ایس ایچ)، ڈاکٹر عبید علی (ڈی آر اے پی)، ڈاکٹر اصغر دشتی (فیڈرل اردو یونیورسٹی)، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر، مظہر خان (ایم پی اے)، ایم حسنین (زاب رابطہ)، نیاز احمد، سلمان مجاہد ایڈوکیٹ، ڈاکٹر ندیم اقبال (میڈیکل ایڈ کمیٹی ایم کیو ایم)، سکندر خاتون (حق پرست رکنِ سندھ اسمبلی)، ایم عامر صدیقی (حق پرست رکنِ سندھ اسمبلی)، سید یاسر ترمذی (ڈبلیو.ایچ.او) اور ایم طارق منصور ایڈووکیٹ (ایمنسٹی انٹرنیشنل یوکے / ایچ اے سی پی) شامل ہیں۔

سیمینار کے اختتام پر تمام شرکاء، پبلک ہیلتھ ایکسپرٹس اور طبی ماہرین نے اپنے تجربات اور تجاویز کا تبادلہ کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معلومات زندگی بچاتی ہیں اور ہمدردی معاشرے تعمیر کرتی ہے، اور ایم کیو ایم پاکستان اس قومی مقصد کے لیے ہر سطح پر اپنی بھرپور سیاسی اور سماجی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Comments
Loading...