Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

پاکستان کا عالمی درجہ بندی میں 150 ویں نمبر پر ہونا حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔فہیم صدیقی

صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اسے کمزور کرنا ملکی مفاد میں نہیں ہے۔لیاقت رانا جنرل سیکریٹری کے یو جے

0

آزادی صحافت کے حوالے سے پاکستان کی عالمی درجہ بندی افسوسناک ہے، کے یو جے۔

کراچی : کراچی یونین آف جرنلسٹسس نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ پاکستان آزادی صحافت کے اعتبار سے عالمی درجہ بندی میں 150 ویں نمبر پر ہے۔ جو ماضی کی حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ کے یو جے کے صدر فہیم صدیقی اور جنرل سیکریٹری لیاقت علی رانا سمیت مجلس عاملہ کے تمام اراکین کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک میں آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت دونوں پر غیر اعلانیہ سنسر شپ عائد ہے۔ جو معاشرے کیلئے زہر قاتل ہے۔

پاکستان میں صحافیوں کا اغوا، تشدد اور انہیں مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جانا معمول بن چکا ہے، ارشد شریف سے لے کر جان محمد مہر تک کے قاتلوں کی عدم گرفتاری بھی ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے جو ان کارروائیوں کے پیچھے ہیں بیان میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے کام کرے تاکہ پاکستان کا دنیا بھر میں ایک مثبت امیج اجاگر ہو۔

بیان میں سی پی این ای کی پریس فریڈم اینڈ مانیٹرنگ کمیٹی کی رپورٹ کو بنیاد بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یکم جنوری 2023 سے 30 اپریل 2024 تک پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ تشدد، حملوں، گرفتاریوں اور قتل کے 28 سے زائد واقعات ہوئے 13 صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا دو صحافیوں پر حملے ہوئے اور 10 صحافیوں کی گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات قائم کردیئے گئے ملک میں اس عرصے میں 04 صحافی قتل ہوئے جن کے قاتلوں کو تاحال عدالتوں سے سزائیں نہیں سنائی جاسکی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک میں آزادی صحافت کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت، سیاسی جماعتوں اور صحافی تنظیموں کو ایک پیج پر آنا ہوگا کراچی یونین آف جرنلسٹس اس سلسلے میں وقتا فوقتا اپنی تجاویز حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو بھیجتی رہی ہے اور ایک بار پھر اس کیلئے تیار ہے۔ کیونکہ ملک کی ترقی اور جمہوریت کے فروغ کیلئے آزادی اظہار رائے اور ازادی صحافت انتہائی ضروری ہیں صحافت ملک کا چوتھا ستون ہے اور اس ستون کو کمزور کرنا کسی بھی طرح ملکی مفاد میں نہیں ہوسکتا۔

Comments
Loading...