مجھ سمیت ہمارے تمام زمہ داران و کارکنان کل بھی کارساز کے مقام پر رات گئے تک موجود تھے اور آج بھی پورا دن وہاں موجود رہیں گے۔ سعید غنی
سعید غنی و دیگر رہنماؤں نے سانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہداء کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ قیادت کا حکم ہے کہ تمام شہداء کو نہ صرف یاد رکھا جائے بلکہ ان کے اہلخانہ سے زیادہ سے زیادہ تعلق رکھا جائے۔ سانحہ 12 مئی یا اس طرح کے دیگر سانحات میں اس کے کردار سب کے سامنے تھے، اس کے برعکس 18 اکتوبر اور 27 دسمبر کے سانحات ایک ہی سلسلہ کی کڑی تھے۔ ہماری حکومت آنے کے بعد ہم نے ان دونوں سانحات کی نہ صرف تحقیقات کروائی بلکہ اسکاٹ لینڈ اور یونائیٹڈ نیشن کو بھی اس میں شامل کیا۔ عدلیہ کی زمہ داری تھی کہ وہ ان کو سزائیں دیتی، بدقسمتی سے عدالتوں نے ان تمام کو بری کردیا۔ جن لوگوں نے صوبے اور ایڈمنسٹرٹیو یونٹس کا شوشا چھوڑا تھا شاید انہیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک کی کیا صورتحال ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر سید وقارمہدی و دیگر کے ہمراہ اعظم بستی قبرستان میں سانحہ کارساز کے شہداء کی قبروں پر حاضری کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر سید نجمی عالم، ڈسٹرکٹ ایسٹ کے صدر اقبال ساند، فرحان غنی، لالہ رحیم، سرور غازی سمیت پیپلزپارٹی کے دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔
سعید غنی و دیگر رہنماؤں نے سانحہ کارساز کے اعظم بستی قبرستان میں مدفون 7 شہداء کی قبروں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی. میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ ہم ہر سال سانحہ اٹھارہ اکتوبر کے شہدا کی قبروں پر حاضری دیتے ہیں اور اس قبرستان میں بھی اس سانحہ کے 7 شہداء مدفون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز میں زیادہ تر شہداء نوجوان تھے جن کی زیادہ سے زیادہ 25 سال عمر تھی۔
سعید غنی نے کہا کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کا حکم ہے کہ تمام شہداء کو نہ صرف یاد رکھا جائے بلکہ ان کے اہلخانہ سے زیادہ سے زیادہ تعلق رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت ہمارے تمام زمہ داران و کارکنان کل بھی کارساز کے مقام پر رات گئے تک موجود تھے اور آج بھی پورا دن وہاں موجود رہیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ سانحہ 12 مئی یا اس طرح کے دیگر سانحات میں اس کے کردار سب کے سامنے تھے، اس کے برعکس 18 اکتوبر اور 27 دسمبر کے سانحات ایک ہی سلسلہ کی کڑی تھے۔
سعید غنی نے کہا کہ ان دونوں سانحات میں ایک ہی کردار ملوث تھے۔ اٹھارہ اکتوبر اور 27 دسمبر کے واقعات محترمہ کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔ سعید غنی نے کہا کہ 18 اکتوبر کے سانحہ اور پنڈی میں محترمہ کی جائے شہادت کو سانحہ کے فوری بعد ہی دھو دیا گیا۔ جبکہ اس قسم کے خودکش حملے میں کسی حتمی نتیجے پر پہنچنا اتنا آسان نہیں ہوتا۔
سعید غنی نے کہا کہ کرائم سین سے کچھ شواہد حاصل ہوتے تو اس سے کچھ مدد مل سکتی تھی لیکن بدقسمتی سے ان دونوں سانحات کے بعد اس وقت کی حکومت نے نہ صرف کرائم سین سے کچھ شواہد حاصل کئے بلکہ کرائم سین کو فوری طور پر دھو کر تمام شواہد ختم کردئیے۔ سعید غنی نے کہا کہ ہماری حکومت آنے کے بعد ہم نے ان دونوں سانحات کی نہ صرف تحقیقات کروائی بلکہ اسکاٹ لینڈ اور یونائیٹڈ نیشن کو بھی اس میں شامل کیا، جس کے بعد بہت سے ملوث افراد کے نام عدالتوں میں بھی پیش کئے اور عدلیہ کی زمہ داری تھی کہ وہ ان کو سزائیں دیتی، بدقسمتی سے عدالتوں نے ان تمام کو بری کردیا۔
سعید غنی نے کہا کہ افسوس تو یہ ہے کہ جس کے قتل ہوئے انہی پر شق کیا جانے لگا۔ سعید غنی نے کہا کہ بلاول بھٹو، آصفہ اور بختاور بھٹو اور جو اس سانحات میں شہید ہوئے ان کے ورثاء سے زیادہ تکلیف کس کو ہوسکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ہم عدالتی فیصلے کے بعد دوبارہ اس کے خلاف گئے ہوئے ہیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی بھی صوبے کے وسائل پر کتنا حق صوبے اور کتنا وفاق پر ہے یہ آئین میں موجود ہے اور اس کو آئین اور قانون کے مطابق نکالنا چاہیے۔ صوبوں اور ایڈمنسٹرٹیو یونٹس پر ہونے والی خاموشی کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ ہم تو پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ نئے صوںے یا ایڈمنسٹر ٹیو یونٹس آئین اور قانون کے مطابق بننے چاہئے، جن لوگوں نے یہ شوشا چھوڑا تھا شاید انہیں یہ احساس ہوگیا ہے کہ اس وقت ملک کی کیا صورتحال ہے۔
کنٹونمنٹ ایریاز مئیر کے حوالے ہونے کے سوال پر سعید غنی نے کہا کہ یہ مئیر کو حق ہونا چاہیے کہ شہر کا کنٹرول اس کے پاس ہو۔
اس موقع پر پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر سید وقار مہدی نے کہا کہ 18 اکتوبر کے المناک سانحہ کو 19 سال بیت گئے ہیں اور یہ دنیا میں کسی بھی سیاسی جماعت کی ریلی پر سب سے بڑا حملہ تھا۔ وقار مہدی نے کہا کہ اس سانحہ میں ہمارے 175 سے زائد نواجوان شہید اور سینکڑوں شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کارساز اور سانحہ پنڈی جہاں پر محترمہ کے شہید ہوئی ان دونوں جگہوں کو دھو دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ 18 اکتوبر اور 27 دسمبر محترمہ کو نشانہ بنانے کے لیے تھا۔