Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

تجاوزات شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور یہ شہریوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ سعید غنی

یہ ایک آسان کام نہیں ہے، آرٹسٹ کی محنت شامل ہے۔ سعید غنی

0

تجاوزات شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے اور یہ شہریوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ آرٹس کونسل کے ساتھ ذرائع ابلاغ سے بھی نمائش اور آرٹسٹ کے کام کو پذیرائی مل رہی ہے، ہم ایرانی آرٹسٹ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے کام کو ہمارےساتھ شئیر کیا۔ تجاوزات شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، اور یہ شہریوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ حادثات کی روک تھام ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور قونصلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ ایران کراچی کے مشترکہ تعاون سے آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں (لکڑی کے صحیفوں کی نمائش) کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب اور میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

قبل ازیں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ اور قونصل جنرل ایران حسن نوریان نے افتتاح کیا۔ ایرانی آرٹسٹ پرویز عابدی بھی اس موقع پر موجود ہیں۔ بعد ازاں صوبائی وزیر و دیگر مہمانوں نے نمائش میں لگائے گئ تصاویر اور فن پاروں کو دیکھ رہے ہیں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ احمد شاہ اکثر ایسی تقریبات میں شرکت کا موقع دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں مختلف طلبا اور قیدیوں کی بھی نمائش دیکھی ہے، ہر شخص اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ہوں وہ سب کی مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی آرٹس نے بتایا کہ آج کے فن پاروں میں ان کا ایک ایسا فننپارہ بھی ہے جس کو مکمل کرنے میں انہیں تین سال بھی لگے ہیں۔ یہ ایک آسان کام نہیں ہے، آرٹسٹ کی محنت شامل ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ آرٹس کونسل کے ساتھ ذرائع ابلاغ سے بھی نمائش اور آرٹسٹ کے کام کو پذیرائی مل رہی ہے۔ اس موقع پر میڈیا کے سوالات کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ تجاوزات شہر کا نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، اور یہ شہریوں کیلئے سب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سیاسی اعتبار سے تقسیم ہوچکا ہے، اس مسئلے کے حل کیلئے سب کے ساتھ مل کر کام کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجاوزات کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن ناگزیر ہوچکا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ اس پر تمام سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو بھی اعتماد میں لے کر یہ آپریشن بلا کسی تفریق کے لیے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کئی جماعتوں سے بات کی ہے کافی باتوں پر وہ اتفاق کرتے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ ٹریفک حادثات کا مسئلہ حکومت کیلئے بھی تشویش ناک ہے۔ ٹریفک قوانین کیلئے سختی سے عملدرآمد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکل سوار سمیت ڈمپر والے بھی شامل ہیں جو خلاف ورزی کرتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے قونصل جنرل ایران حسن نوریان نے کہا کہ ہم ایرانی آرٹسٹ کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اپنے کام کو ہمارےساتھ شئیر کیا۔ انہوں نے کہا کہ آرٹس کونسل نے پوری کامیابی سے اس نمائش کو آج یہاں سجایا ہے۔ قونصل جنرل ایران حسن نوریان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کا تہذیبی اور ثقافتی رشتہ آج سے نہیں بلکہ سالوں پرانا ہے، ہم زبان کے طور پر ایک ساتھ جڑے ہیں اور آج ہمارا فنکار دو ملکوں کو پریزنٹ کر رہا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر احمد شاہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے قدیم اور ہزاروں سال پرانے رشتے ہیں اور ہمارا ایران سے تہذیبی، ثقافتی اور زبان کا رشتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اردو فارسی کے بطن سے نکلی ہے۔ ہم بہت خوش ہیں کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ایران کے مایہ ناز فنکار کا کام نمائش کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ احمد شاہ نے کہا کہ یہ نمایاں آرٹسٹ ایران سے آئے ہیں جو کہ لکڑی پر زبردست کام کرتے ہیں۔ فنکار نے بہت سے مختلف درختوں کی لکڑیوں کا استعمال کرتے ہوئے شاہکار تخلیق کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ثقافت کے فروغ کا یہ سلسلہ چلتا تھا اور چلتا رہے گا اور میں ایرانی قونصل خانے قونصل جنرل اور ان کے اسٹاف کا شکر گزار ہوں۔ احمد شاہ نے مزید کہا کہ آرٹس کونسل ورلڈ کلچر فیسٹیول میں ایران کے فلم میکر ، میوزیشن اور تمام کلچر سے وابستہ لوگوں کو بلائے گا۔

نمائش میں لکڑیوں کی مدد سے بنائے گئے فن پارے اور صحیفے نمائش میں پیش کیے گئے ہیں جبکہ مختلف درختوں کی لکڑی کی مدد سے فن پارے تیار کیے گئے جن میں عناب، نارنج، سماروبا اور زرشک کے درختوں کی لکڑی شامل ہے۔ ایرانی آرٹسٹ پرویز عابدی کے بنائے ہوئے صحیفے جن میں آیت الکرسی، چہار قل، سورئہ الحمد سمیت گلاب کا پھول، پرندہ، چیتا، نشاط، ایثار اور ذبح اسماعیل دیکھنے والوں کی توجہ کامرکز بنا رہا۔ یہ خوبصورت شاہکار جو پینٹنگ کی طرح لگتا ہے مگر اسے چھونے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ یہ لکڑی سے بنا ہے۔۔ نمائش میں موجود چیتا حقیقت پسندانہ کام کا مجموعہ ہے جس میں 90فیصد لکڑی کا کام شامل ہے جبکہ 10فیصد پینٹ کیاگیا ہے اس میں پرویز عابدی کی بیٹی نے بھی اپنا کردار ادا کیا ہے، تصویر میں نظر آنے والا زرد حصہ زرشاک کی لکڑی ، دانت فائبر اور ناخن کو آر اے آر کی لکڑی سے بنایا گیا ہے۔۔ 7 فروری سے شروع ہونے والی نمائش 9 فروری تک احمد پرویز آرٹ گیلری ، احمد شاہ بلڈنگ میں جاری رہے گی۔

Comments
Loading...