میرے ساتھ آدھا دھوکہ ہوا انہوں نے سموسے کھلادئیے پکوڑے نہیں تھے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری
میں نے انھیں کل فون کیا تھا کہ گزشتہ دنوں چند معاملات کے بنا پر اختلافات ہورہے تھے۔ حافظ نعیم الرحمن
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی ادارہ نور حق آمد اور حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات
کراچی : گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی ادارہ نور حق آمد اور حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گورنر سندھ ادارہ نور حق تشرہف لائے۔ میں نے انھیں کل فون کیا تھا کہ گزشتہ دنوں چند معاملات کے بنا پر اختلافات ہورہے تھے۔ بہتر ہے کہ آکر چائے پئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہر کے مسائل حل کریں نا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑیں۔ جس گراونڈ کا مسئلہ ہے اس کے بارے میں غلط فہمی تھی۔ گورنر سندھ نے کہا کہ انھوں نے پارک سمجھ کر باقی پارکوں کی طرح افتتاح کیا۔ ڈی ایم سیز ختم ہونے کے بعد یہ پارک ٹاون کے اندر ہیں۔ ہمارا مقصد تھا کہ یہ کمرشل کے لئے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ گورنر صاحب نے کہا کہ یہ عوام کے لئے ہوںا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام نے اسے خالی کرنے کے لئے بہت زور لگایا۔ پلانٹ کی وجہ سے گرد گھروں میں جاتا تھا۔ جو وہاں نعرے بازی ہوئی وہ نہیں ہونا چاہیے تھی۔ لوگوں کو بھی برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ ماضی کی وجہ سے لوگوں کو رد عمل تھا لیکن اسے تہذیب سے خالی نہیں ہونا چاہئے تھا۔ جو بھی سیاسی ورکر ہو یا عوام برادشت ک دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ عوام کا غصہ کامران ٹیسوری کے لئے نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے شہر کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔ کہ جو سسٹم یہاں کردار ادا کررہا ہے اسے اتار کر پھینکیں۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ ٹرازیشن پیریڈ ختم ہو۔ یو سی چیئرمین ہو یا مئیر ، مالی اختیارات ائین کے مطابق ملیں۔ مردم شماری کے بارے میں کسی کا موقف ہو کہ ہمارا کردار ہو۔ لیکن مردم شماری ڈیڑھ کروڑ کم ہوئی اس کے اثرات تمام چیزوں پر پڑیں گے۔ میرے پاس تمام ثبوت ہیں کہ کراچی کی آبادی ساڑھے تین کڑوڑ ہیں۔
انکا کہنا تھا کہ اس سے اسمبلی میں کراچی کی نشستیں بھی کم ہوجائیں گی۔ ہم چاہیں کہ دوستی کا رشتہ قائم رہے اور اختلافات تہذیب کے دائرے میں ہوں۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حافظ صاحب کا شکر گزار ہوں انہوں نے دعوت دی۔ میرے ساتھ آدھا دھوکہ ہوا انہوں نے سموسے کھلادئیے پکوڑے نہیں تھے ۔ ایک غلط فہمی کی وجہ سے صورتحال تھوڑی خراب ہوئی ۔ مجھے یقین تھا کہ یہ لڑائی طویل نہیں ہوگی ۔ ھم نے آگے بڑھنا ھے کراچی معیشت کا حب ھے ۔ کراچی ملک کی اکنامی کو مضبوط کرتا ھے لیکن بہت بدتر حالت میں ھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کی ترقی کئی دہائیوں سے رکی ہوئی ھے۔ یہاں صحت اور انفراسٹرکچر بالکل نہیں ھے ۔ ساڑھے تین کروڑ سے کم نہیں۔ ھے اس شہر کی ابادی ۔ ھم اگر آپس کی لڑائیوں میں لگے رہے تو ھم مردم شماری کو گنوا نہیں سکیں گے ۔ جب تک اللہ نے اس منصب پر بتمٹھایا ھے محبت کرینگے ۔ اس شہر میں ترقی ہوگی میرا ایمان ھے آنے والے۔چند مہینوں میں 25 بلین ڈالرز آئیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملنے والی اس رقم کا 25 فیصد کراچی پر لگایا جائے گا ۔ آنے والے سرمایہ کاروں کو بہتر ماحول فراہم کرنا ہماری زمہ داری ھے ۔ میں سمجھتا ہوں جو سسٹم چل رھا تھا اب بند ہو اور شہر ترقی کرے ۔ ذاتی اختلافات اور ایک دوسرے کو نیچے دکھانا سب بے کار باتیں ہیں ۔ ہماری فورسزز کی قربانیاں آج تک دہشت گردی کے سلسلے میں جاری ہیں۔ اسٹریٹ کرائم اس شہر کا بہت بڑا مسئلہ ھے۔ باپ بیٹے کو ایک ھفتے قبل قتل کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کل ایک ڈاکو اور مجرم پکڑے گئے ہیں اسی طرح عالم دین کو شہید کیا گیا۔ آنے والے دس دنوں میں مولانا کے قاتلوں کو بھی گرفتار کیا جاہے گا ۔ آج وزارت تجارت آرھے ہیں تمام اسٹیک ہولڈرز اور صنعتکاروں کو بلایا گیا ھے ۔ گورنر ہائوس عوام اور اسٹیک ہولڈرز کو دعوت دے رھا ہوں جماعت اسلامی کو بھی دعوت دیتا ہوں وہ آئیں اور شہر کے مسائل کے حل کے لئیے اپنا حصہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کے حل کے لئیے سب مل جل کر کام کریں۔ ایک دوسرے کو لے کر چلنا ھے عوام کے لئیے۔ مردم شماری میں شہر کو کم گننے کے حوالے سے ھم عدالت جائینگے ۔ سسٹم والوں نے جو دعوی کیا ھے میں اسکی تائید کرتا ہوں۔ معیشت کا پہیہ چلنے سے اب کوئی روک نہیں سکتا۔ ڈالر اب 250 سے بھی نیچے جائے گا۔ جب سرمایہ کاری آئے گی خوشحالی آئے گی تین سییکٹرز میں کام شروع ہوچکا ھے۔ پاکستان میں جو بھی مافیاز ہیں ختم ہوں گے۔