کراچی میں پہلا ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر قائم، صحت کا نظام جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کر رہے ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال
علاج کے ساتھ بیماری کی روک تھام ناگزیر ہے، صاف پانی، بہتر سیوریج نظام، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کو ہیلتھ کیئر پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا جا رہا ہے۔
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کا اصل تصور صرف بیمار افراد کے علاج تک محدود نہیں بلکہ لوگوں کو بیمار ہونے سے بچانا ہی حقیقی ہیلتھ کیئر ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پرائمری ہیلتھ کیئر کو مضبوط بنا کر بڑے سرکاری و نجی ہسپتالوں پر بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی ہیلتھ کیئر ڈیجیٹلائزیشن پروگرام کے تحت کراچی کے پہلے ڈیجیٹلائزڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں اسپیشل سیکریٹری صحت، جوائنٹ سیکریٹری، براڈر ہیلتھ سروسز کے حکام، صحت کہانی تنظیم کی ٹیم، ڈاکٹرز، میڈیا نمائندگان اور دیگر معززین شریک تھے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ حال ہی میں اسلام آباد میں ایک منصوبے پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے تحت بریسٹ، لیور اور لنگز کینسر کے مریضوں کو تقریباً ایک کروڑ روپے مالیت کی ادویات بالکل مفت فراہم کی جائیں گی۔ یہ سہولت حکومتِ پاکستان اور نجی شراکت داروں کے اشتراک سے اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مریضوں کے لیے فراہم کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 30 لاکھ افراد بیماری کے باعث غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے، اس لیے علاج کے ساتھ ساتھ بیماری کی روک تھام ناگزیر ہے۔ صاف پانی، بہتر سیوریج نظام، ویکسینیشن، ماں اور بچے کی صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کو ہیلتھ کیئر پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا جا رہا ہے۔
سید مصطفیٰ کمال نے واضح کیا کہ بڑے ہسپتالوں پر بڑھتا ہوا دباؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا نظام کمزور ہے۔ چھوٹی بیماریوں کے مریض جب بڑے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو ایمرجنسی اور سنگین بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل ہیلتھ سینٹرز کے ذریعے یہی بوجھ کم کیا جائے گا۔ کراچی میں موجود وفاقی حکومت کی غیر فعال ڈسپنسریوں کو جدید ٹیلی میڈیسن مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے جہاں مریض آن لائن مستند ڈاکٹرز سے علاج کروا سکیں گے۔ اس نظام کے تحت مریض کا مکمل ڈیٹا، معائنہ اور نسخہ ڈیجیٹل طریقے سے ریکارڈ ہوگا، جبکہ پرچی اسی مرکز پر پرنٹ ہو گی۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ یہ منصوبہ محض اعلان نہیں بلکہ عملی طور پر کام شروع کر چکا ہے۔ اسلام آباد کے دور دراز علاقوں میں ایسے مراکز پہلے ہی قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ کراچی میں مزید سینٹرز بھی جلد فعال کیے جائیں گے۔ آئندہ مرحلے میں اس مقام کو مکمل طور پر جدید، چوبیس گھنٹے فعال ہسپتال میں تبدیل کیا جائے گا۔
آخر میں سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ صحت کے شعبے میں کام عبادت کے مترادف ہے کیونکہ یہاں تکلیف میں مبتلا انسانوں کی خدمت کی جاتی ہے۔ انہوں نے صحت کے عملے، شراکت دار اداروں اور میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت صحت کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے گی۔