Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کے انتخابات 2024 کے لئے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کے انتخابات 2024 کے لئے حلقہ این اے 237 اور پی ایس 105 سے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

0

صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کے انتخابات 2024 کے لئے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق صدر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن سعید غنی کے انتخابات 2024 کے لئے کاغذات نامزدگی منظور ہوگئے۔ کراچی شہر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے مختلف مقام پر ترقیاتی کام جاری ہیں۔ جس کو دیکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کراچی شہر کے لئے سعید غنی کی خدمات کو بھی بھولایا نہیں جاسکتا ہے۔ امید کی جارہی ہے آنے والے 2024 کے الیکشن میں اس حلقہ سے سعید غنی ہی کامیاب ہوں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر و سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ اس ملک کو اگر معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنا ہے اور اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے تو انتخابات ضروری ہیں۔ میری خواہش ہے پی ٹی آئی کے پاس بلے کا نشان رہے اور ہم ان کو اس نشان پر ان کو شکست دیں۔ پیپلزپارٹی اس ملک کی اس وقت واحد سیاسی جماعت ہے جو بھرپور طریقے سے الیکشن مہم چلارہی ہے اور پیپلزپارٹی نے کبھی الیکشن سے فرارکی کوشش نہیں کی۔ میں نے حلقہ پی ایس 105 اور این اے 237 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائیں ہیں اب پارٹی جو فیصلہ کرے گی اس پر میں انتخابات لڑوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کے روز ڈی سی ایسٹ کے دفتر میں پی ایس 105 اور این اے 237 سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

قبل ازیں سعید غنی ایک بہت بڑی ریلی کی شکل میں ڈی سی ایسٹ کے دفتر پہنچیں۔ اس موقع پر کراچی ڈویژن کے رہنمائوں اور پارٹی کے کارکنوں کی بڑی تعداد ان کے ہمراہ موجود تھی۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج میں نے پیپلز پارٹی کی جانب سے این اے 237 اور پی ایس 105 جمع کروائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ اس بار ہم صوبائی اور قومی اسمبلی کی دونوں نشست جیتیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو پہلے کبھی کراچی سے انتخابات کےبلئے اتنی بڑی تعداد میں درخواستیں نہیں ملی ہیں لیکن اس بار ایک ایک حلقہ سے 40 سے زائد درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور اس بار پیپلز پارٹی کراچی میں سب سے بڑی جماعتیں بن کر سامنے آئے گی۔ سعید

غنی نے کہا کہ ہم نے اس بار بہترین امیدوراں کو کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، ابھی ہر حلقے پر ایک سے زائد امیدواروں نے جمع کرائے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے التواء یا تاخیر کسی کی خواہش ضرور ہوسکتی ہے لیکن ملک کا آئین و قانون اور خود سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد انتخابات 8 فروری کو ہی ہونے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اس ملک کو اگر معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالنا ہے اور اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے تو انتخابات ضروری ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے 2018 کے انتخابات میں عرفان اللہ مروت کو ساڑھے 16 ہزار ووٹوں سے ہرایا تھا اور انشاءاللہ اس بار اس سے بھی زیادہ ووٹوں سے اس کو شکست دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عرفان اللہ مروت کی کوشش ہے کہ وہ حلقے میں لوگوں کو لڑائے لیکن ہم اس کو کامیاب نہیں ہوں دیں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جو لوگ نو مئی کے واقعات میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے البتہ میں سمجھتا ہوں کہ پی ٹی آئی کے نشان پر جو ہوا وہ نہیں ہونا چاہیے۔

Comments
Loading...