نگراں حکومت سندھ، پیپلزپارٹی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ سید امین الحق
میئر کراچی مرتضی وہاب مارکیٹ کو دکانداروں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئے تھا لیکن ساتھ ہونا تو دور ان کے منہ سے دو الفاظ متاثرین کیلئے ہمدردی کے بھی کہیں نظر نہیں آتے۔ سید امین الحق
نگراں حکومت سندھ، پیپلزپارٹی کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ سید امین الحق
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے گزشتہ روز آگ کی لپیٹ میں آنے والی صدر موبائل مارکیٹ کا دورہ کیا اور کراچی کے علاقے صدر موبائل مارکیٹ میں لگنے والی آگ پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سید امین الحق کے ہمراہ اراکین رابطہ کمیٹی شریف خان ، دلاور اور دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔
اس موقع پر سید امین الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چند روز میں یہ شہر میں آتشزدگی کا ہونے والا تیسرا بڑا واقعہ ہے جو کہ باعث تشویش ہے اور اس پر میئر کراچی جناب مرتضی وہاب کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ میئر کراچی مرتضی وہاب مارکیٹ کے دکانداروں کے ساتھ کھڑے ہوتے لیکن ساتھ ہونا تو دور ان کے منہ سے دو الفاظ متاثرین کیلئے ہمدردی کے بھی کہیں نظر نہیں آتے، جبکہ اس قسم کے واقعات کے آئے دن رونما ہونے سے لگتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت شہر کے کاروباری مراکز کو تباہ کیا جارہا ہے۔
پیپلز پارٹی کی سابق سندھ حکومت کے پندرہ سالہ دور اقتدار نے شہر کا سارا نظام تباہ کردیا ہے،مارکیٹوں، فیکٹریوں اور ہسپتالوں کسی بھی جگہ سیفٹی کا کوئی نظام موجود نہیں اور اب نگراں حکومت سندھ بھی پیپلزپارٹی کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور شہر کو برباد کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی جارہی ہے۔
سید امین الحق نے اراکین رابطہ کمیٹی کے ہمراہ نگراں حکومت سے مطالبہ کیا کہ کراچی کے کاروباری مراکز میں آئے روز لگنے والی آگ کی مکمل تحقیقات کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو کراچی کے تمام کاروباری مراکز کا دورہ کر کے ایک جامع رپورٹ پیش کرے، تمام کاروباری مراکز میں احتیاطی تدابیر اور آتشزدگی سے قابو پانے کا نظام بہتر بنائے اور شاپنگ سینٹر،موبائل مارکیٹ و دیگر جگہ پر لگنے والی آگ سے متاثر ہونے والے افراد کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔