سندھ کے شہری ٹینکرز مافیا، ٹریفک پولیس کی رشوت اور رہزنوں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ علی خورشیدی
قائد حزب اختلاف برائے سندھ اسمبلی علی خورشیدی کا ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد میں حق پرست اراکین اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب۔
ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والا کراچی پانی، بجلی، گیس اور انفراسٹرکچر سے محروم ہے۔علی خورشیدی
کراچی : سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادر آباد میں حق پرست اراکین سندھ اسمبلی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت شہریوں کو بنیادی سہولیات دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور وزیراعلی سندھ ہر سال بجٹ اسپیچ میں کہانیاں سُناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے ملک کو سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شہر کا یہ حال کردیا ہے کہ یہاں شہریوں کو نہ پینے کا پانی میسر ہے اور نہ گیس بجلی دستیاب ہے جبکہ انفراسٹرکچر کی صورتحال یہ ہے کہ شہری منٹوں کا سفر گھنٹوں میں کرنے پر مجبور ہیں۔ شہر کی اہم شاہراہوں پر اسٹریٹ لائٹس موجود نہیں ہیں جبکہ جگہ جگہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے کراچی کی شاہراہوں پر رہزنی کی وارداتیں عام ہوچکی ہیں۔
علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی جیسے ملٹی نیشنل شہر پر صوبائی اور شہری حکمرانی پیپلز پارٹی کے پاس ہے جس کی وجہ سے صوبے اور شہر دونوں سطح پر رشوت ستانی کا بازارگرم ہے، وزیروں، مشیروں سے لیکر بڑے چھوٹے افسران تک سب رشوت ستانی میں مصروف ہیں یہاں تک کے اپنے دفاتر اور کام کاج کیلئے جانے والے شہری ٹریفک پولیس کی رشوت ستانی سے تنگ آچکے ہیں۔ کراچی پاکستان کا واحد شہر ہے جہاں لوگ پینے کے ساتھ استعمال کا پانی بھی خریدنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے میڈیا نمائندہ گان کی شہر کے اہم مسئلے کی جانب توجہ مبذول کرواتے ہوئے کہا کہ ریڈ لائن کا پروجیکٹ مارچ 2022 میں شروع کیا گیا لیکن حکومتی نااہلی کے باعث تعطل کا شکار ہے، ریڈ لائن کے روٹ میں بے شمار تعمیراتی کام باقی ہیں جس کی وجہ سے اب ریڈ لائن کا پروجیکٹ شہریوں کیلئے اذیت کا باعث بنا ہوا ہے اور ان ادھورے تعمیراتی پراجیکٹس نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ میں پچھلے 16 سال سے انکی مطلق العنان حکومت قائم ہے اور انکے دور حکومت میں مسائل کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھ رہے ہیں، چار سال قبل انہوں نے یونیورسٹی روڈ بنائی، پھر اسے ریڈ لائن کے لئے کھود دیا جس کی وجہ سے پچھلے 2 سالوں سے شہری دھول مٹی میں گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ قائد حزب اختلاف علی خورشیدی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعلی سندھ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور پارٹی رہنماؤں کو خوش کرنے کے بجائے صوبے کی بہتری کیلئے کام کریں۔ کراچی کو یومیہ 1200 ایم جی ڈی کی ضرورت ہے جبکہ صرف 450 فراہم کیا جارہا ہے، اسی طرح موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی سندھ کے شہریوں کیلئے دن اور رات میں گیس کی فراہمی تقریبا نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ سندھ پاکستان کی گیس میں 50 فیصد سے زائد کا حصہ رکھتا ہے اور آئین پاکستان کا آرٹیکل 172/3 اور 128 معدنیات اور قدرتی گیس پر مقامی حق کو برتر بتاتا ہے سوئی سدرن گیس کمپنی سندھ کو اس آئینی حق سے محروم کر رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ بین الصوبائی کونسل میں اس معاملے کو اٹھائیں اور شہر سمیت پورے صوبے کے مسائل حل نہیں کرسکتے تو براہِ کرم مسائل بڑھانے کی وجہ بھی نہ بنیں اور رشوت ستانی کو لگام دیں۔