Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

کسی بھی ادارے میں اس وقت تک کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوسکتا جب تک اس میں کوئی ادارہ ملوث نہ ہو۔ محمد مبین جمانی

گذشتہ دو ماہ میں محکمہ بلدیات اور اس کے ماتحت اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کے اثرات عوام کو نظر آرہے ہیں۔ محمد مبین جمانی

0

کسی بھی ادارے میں اس وقت تک کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوسکتا جب تک اس میں کوئی ادارہ ملوث نہ ہو۔ محمد مبین جمانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نگران صوبائی وزیر بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ و بحالیات سندھ محمد مبین جمانی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے اس کے باوجود بھی گذشتہ دو ماہ میں محکمہ بلدیات اور اس کے ماتحت اداروں میں کرپشن کے خاتمے کے لئے اقدامات کے اثرات عوام کو نظر آرہے ہیں۔ ہمارے پاس ٹائم تو کم ہے سارا نہیں تو بہت حد تک کام کریں گے۔ کسی بھی ادارے میں اس وقت تک کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوسکتا جب تک اس میں کوئی ادارہ ملوث نہ ہو۔

فائر بریگیڈ کے محکمہ کو بہتر کررہے ہیں اور یہاں جدید مشینری اور آلات لائے جارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں منعقدہ 13ویں فائر سفیٹی اور سیکورٹی کنونشن 2023 کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

تقریب کا انعقاد نیشنل فورم براۓ انوار مینٹ اور ہیلتھ نے فائر پروٹیکشن انڈسٹری آف پاکستان کے تعاون سے کیا گیا۔ اس موقع پر پچاس کے قریب نمایاں صنعتی اور تجارتی اداروں کو اپنے دفاتر اور فیکٹریوں میں آگ سے بچاؤ کے لئے بہترین انتظامات کرنے پر ایوارڈز سے نوازا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد مبین جمانی نے کہا کہ سیفٹی ایشو پر یہ فورم کافی اچھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس تقریب میں 50 اداروں نے آگ سے بچاؤں کے لیے بہترین اقدامات کرکے ایوارڈ حاصل کیے وہ تمام مبارکباد کے مستحق ہیں اور امید کرتا ہوں کہ ایسے اقدامات سے فائر سیفٹی کا کلچر فروغ پائے گا اور حادثات میں کمی آئے گی۔ مبین جمانی نے کہا کہ محکمہ فائر بریگیڈ کو ہم بہتر کررہے ہیں اور یہاں جدید مشینری اور آگ بجھانے کے آلات فراہم کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں فیکٹری ورکرز کی سیفٹی ضروری ہے اور اس حوالے سے سندھ حکومت اور محکمہ بلدیات شاپنگ سینٹر،، کمرشل عمارتوں اور فیکٹریز میں فائر سیفٹی کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیفٹی اور سیکورٹی کے کلچر کو فروغ ملنا چاہیے ۔فائر سیفٹی کے سسٹم کو اپ گریڈ کرنا ہوگا کیونکہ لوگوں کی جان مال بچانا بہت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں وزیر ہوں یا نہیں سوشل ورکرز کے طور پر ہماری خدمات رہیں گی اور اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو مشکلات سے نکالے۔

انہوں نے کہا کہ آج فلسطین کے مسلمانوں کے دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالٰی ان کی مشکلات کو آسان فرمائے۔ بعد ازاں میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے صوبائی وزیر بلدیات مبین جمانی نے کہا کہ جو میں نے وعدہ کیا اس پر عمل کررہے ہیں اور ماضی میں جو غلط کام ہورہے تھے اس کا خاتمہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی یا کوئی بھی ادارہ ہو اس میں گھوسٹ ملازمین کے ساتھ گھوسٹ لوگ بھی تھے جو کام کر رہے تھے اس کو کنٹرول کیا ہے اور جو ناجائز پیسے جارہے تھے اس کو روکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ تمام ملازمین کی ویریفیکیشن نادرا کے ذریعے کرکے ان کو تنخواہوں کو آن لائن کیا جائے اور ہر یوسی کی سطح تک بائیو میٹرک کو متعارف کرایا جائے اور اس کی سینترلائیز مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ٹائم تو کم ہے سارا نہیں تو بہت حد تک کام کریں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جو عمارتیں مکمل ہوگئی ہیں ان مو سیل اور جو عمارتیں بغیر منظوری کے بن رہی ہیں ان کو توڑا جارہا ہے۔ ہم نسلہ ٹاور کی طرح ان کو بے گھر نہیں کرنا چاہتے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جن عمارتوں کے پلان منظور نہیں ہیں ایسی 25 سے 30 بلڈنگیں توڑ رہے ہیں۔ لیاری میں تیار عمارت کو توڑنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی والوں کو ہائی کورٹ نے اس حوالے سے آرڈر دیا تھا۔ اداروں میں ملازمین کی جانب سے رشوت کے سوال پر محمد مبین جمانی نے کہا کہ کسی کے لیے رشوت کی بات نہیں کرنا چاہیے جب تک اس کے شواہد نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اگر شواہد فراہم کردیں تو اس ملازم کے خلاف سخت کارروائی کی ضمانت دیتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مین اپنی کوشش کررہا ہوں دو ماہ میں جتنا بھی ہوسکا وہ کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ایس بی سی اے میں ایجنٹ پھیلے ہوئے تھے اور آج صورتحال جاکر خود دیکھ لیں اور آباد والوں سے پوچھیں کہ ان کے ماضی میں نقشوں کے مسائل کیا تھے اور اب بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جادو کی چھڑی نہیں ہے، لیکن جتنا کرسکتے ہیں اس سے زیادہ کیا ہے اور کرتے رہیں گے۔ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر کے سوال پر نگران صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ اس طرح کیبلڈنگ کا جو پلان منظور ہوتا ہے، اس کے بعد ڈیپارٹمنٹ کے لوگ ملوث ہوتے ہیں، اس میں اس علاقہ کے پولیس والے بھی ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ادارے میں کوئی بھی غیر قانونی کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک اس میں ادارہ یا ملازمین ملوث نہ ہوں۔ پانی کے سوال کے جواب میں محمد مبین جمانی نے کہا کہ کراچی میں سات قانونی ہائیڈرنٹس ہیں، اس کے علاؤہ ساڑھے تین ہائیڈرنٹس غیر قانونی تھے، ہم نے آنے کے بعد سو سے زائد ہائیڈرنٹس توڑ چکے ہیں، 70 تک ہائیڈرنٹس کو سیل کرچکے ہیں۔

سندھ سولڈ ویسٹ ہے سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی میں سندھ سالڈ ویسٹ کی چھ کمپنیاں ہیں، چار چائنہ کی ہیں، ایک ملائشیا اور ایک پاکستانی ہیں اور یہ تمام اس وقت کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خود نگران وزیر اعلٰی سندھ بھی اس حوالے سے سرپرائیز وزٹ کررہے ہیں۔ سابق وزیر اعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے سندھ میں ترقیاتی کام نہ ہونے کے الزام کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے مراد علی شاہ کی کوئی پریس کانفرنس نہیں سنی ہے۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ نگران دور حکومت میں کوئی نئی اسکیم نہیں آئی ہے اور ہم ماضی کی حکومت میں منظور ہونے والی اسکیموں کی ضرور وزٹ کررہے ہیں اور ان کو ضرور مانیٹر کررہے ہیں تاکہ کام اچھا اور بہتر ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دور کی کوئی بھی اسکیم نہیں ہے جو اگست تک ٹینڈر ہوچکے ہیں ان پر کام جاری ہے۔ سابق وزیر اعلٰی سندھ کو تخیتاں لگانے کے حوالے سے کوئی غلط انفارمیشن ہے ۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے پاس اپنا کوئی فورس نہیں ہے، جہاں بھی کوئی ایکشن لینا پڑے لوکل پولیس کی سپورٹ لینی پڑتی ہے۔ تقریب سے فائر پروٹیکشن انڈسٹری آف پاکستان کے صدر ڈاکٹر عمران تاج ، تقریب کے مہمان اعزازی کراچی چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی ) کے صدر افتخار احمد شیخ، عمان کے اعزازی قونصل جنرل انجنیئر سمیع عبداللہ سلیم الخنجری، نیشنل فورم براۓ انوار مینٹ اور ہیلتھ کے صدر نعیم قریشی، سیکٹری جنرل رقیہ نعیم و دیگر نے بھی خطاب کیا۔

Comments
Loading...