Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

کیوں حکمران خاموش ہیں؟یہ دن میں سڑکوں پر موت بانٹتے پھرتے ہیں۔ معنم ظفر

شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور کراچی کے طلبہ کی تعلیمی نسل کشی اور دیگر بلدیاتی مسائل پر امیر جماعت اسلامی کراچی معنم ظفر ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس

0

اس شہر میں ایک مسئلہ نہیں کئی مسائل ہیں۔ معنم ظفر

کراچی : شہر میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات اور کراچی کے طلبہ کی تعلیمی نسل کشی اور دیگر بلدیاتی مسائل پر امیر جماعت اسلامی کراچی معنم ظفر ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس۔ انہوں نے کہا کہ آج سے دو دن پہلے سی ویو کے مقام پر غزہ مارچ کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی والوں نے بھر پور شرکت کی۔ ثابت کیا کہ کراچی کے دل مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ غزہ پر پوری دنیا مین آواز بلند کی جا رہی ہے۔ امریکہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کی پشت پناہی بند کرے۔ جماعت اسلامی نے 18 ،19 جنوری کو ایکسپو میں ایک میرا برینڈ پاکستان ایکسپو کا انعقاد کیا ہے۔ اس کا افتتاح امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم کریں گے۔ اس ایکسپو سے پاکستانی مصنوعات کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سال نو میں امید پیدا ہوئی تھی کہ حالات بہتر ہوں۔ اس شہر میں ایک مسئلہ نہیں کئی مسائل ہیں۔ انٹر کے طالب علموں کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا یے وہ ظلم ہے۔ 11ویں جماعت کے امتحانات سے صورتحال واضع ہوگئی ہے۔ دھاندھلی کا حل یہ ہے کہ اسکروٹنی کا عمل شفاف بنانا چاہئے۔ اسکروٹنی کی کوئی فیس نہیں ہونی چاہئے۔ امتحانی کاپیاں طالب علموں کو دکھانی چاہئیں۔ دو ہفتے گزر گئے، کمیٹی بن گئی مگر کچھ عملی کام نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی پارلیمانی کمیٹی کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جو اس عمل میں ملوث ہے اس کا تعین کیا جائے۔ ٹائیم فریم کا تعین کیا جائے۔ یہ نہیں ہو سکتا 80 فیصد سے زائد نمبر لینے والے طلبا کو تقریبا 30 نمبر لیں۔ جھوٹی خبریں چلائی جا رہی ہین کہ بچوں نے امتحان ٹھیک نہیں دیئے۔ سندھ میں تعلیم کا پچھلے 3 سال میں 1100 ارب روپے کا بجٹ تھا۔ صورتحال یہ یے کہ 2997 اسکولوں میں باونڈری وال موجود نہیں ہے۔ ہم ضلعی سطح پر ڈیسک قائم کر رہے ہی طلبا اور والدین سے کہتے ہیں کہ جماعت اسلامی سے رابطہ کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 16 جنوری کو 11 بجے انٹر بورڈ کے باہر مظاہرہ کیا جائے گا۔ طلبا سے اسکروٹنی کی 500 روپے فیس لی جا رہی ہے اس کو مکمل ختم کرکیا جائے۔ 13 دنوں میں 28 افراد جاں بحق اور 270 سے زائد زخمی ہیں،ٹینکرز سے واقعات ہو تے ہیں۔ بتایا جائے کہ جب لوگ اپنا حق مانگ رہے تھے،ٹینکرز کے وال کھعل دیئے۔ تو مرتضی وہاب اور سعید غنی پریس کانفرنس خرتے ہیں۔ اس ٹینکر مافیا کے خلاف کیوں لوگ بات نہیں کرتے؟ کیوں حکمران خاموش ہیں؟یہ دن میں سڑکوں پر موت بانٹتے پھرتے ہیں۔

Comments
Loading...