Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اگر ہمیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو اب دیوار کے گرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

وزیر اعلیٰ کراچی کے پانی کی ذمہ داری وفاق کو دے رہے ہیں تو کیوں نا پورے کراچی کو وفاق کی ذمہ داری میں دے دیا جائے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

0

اگر ہمیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو اب دیوار کے گرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے تحت 27 مئی کو بہادرآباد پارک میں سانحہ پکا قلعہ حیدرآباد کے شہدا کی برسی کے سلسلے میں قرآن و فاتحہ خوانی کا اہتمام کیا گیا جس میں ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال، ڈپٹی کنوینر انیس قائمخانی اور وفاقی وزیر سید امین الحق سمیت رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین اور کارکنان کی بڑی تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کراچی کے پانی کی ذمہ داری وفاق کو دے رہے ہیں تو کیوں نا پورے کراچی کو وفاق کی ذمہ داری میں دے دیا جائے، پچاس سال کی تاریخ بتارہی ہے کہ پاکستان کی ضرورت اور صوبے کے حکمرانوں کی عیاشی کو بھی کراچی برداشت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور مہاجروں کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام کیلئے کہا جاتا ہے کہ وزیر کی لاش پر بنے گی، ہم نے پیپلز پارٹی کے متعصبانہ رویے کے باوجود پچاس سالوں سے سندھ کو جوڑے رکھنے کی کوشش کی ہے اورہم اپنے حصے سے زیادہ کی قربانی دے چکے ہیں، ہم ریاست کو بتانا چاہتے ہیں کہ ہم تاریخ میں منافق نہیں باغی کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں اگر ہمیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو دیوار کے گرنے کے زیادہ امکانات ہیں۔ مملکت ریاست عدالت اور سیاست پچاس سال سے قربانی دینے والوں انصاف فراہم کرے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پکا قلعہ حیدرآباد میں پاکستان بنانے والوں کی اولاد رہتی ہیں جہاں ہماری مائیں بہنیں قرآن شریف سروں پر لئے نکلی تھیں اور انہیں قرآن شریف سمیت گولیوں سے چھلنی کردیا گیا اور پورے پاکستان سے کسی کی آنکھ سے ایک آنسو نہ نکلا، یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین واقع تھا۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا پاکستان کی تاریخ میں ایسا کوئی واقع دیکھا ہے؟ کیا مہاجروں نے کبھی کسی علاقے کو محصور کیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی افواج پاکستان کے شہدا کی یادگار پر احتجاج کیا ہے؟ کور کمانڈر یا جی ایچ کیو پر ہم نے کبھی احتجاج کیا؟ آج کور کمانڈر کا گھر اور قائد اعظم کی رہائش گاہ جناح ہاؤس جلا دیا گیا اور جلانے والوں کو معافی دے دے کر چھوڑا جارہا ہے، ہمارا ریاست سے یہ بھی سوال ہے کہ ایک ہی ملک میں دو نظام انصاف و احتساب کیوں ہے؟

Comments
Loading...