اس سے قبل کہ ہم عوام سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی اپیل کریں حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ حافظ نعیم الرحمن
بجلی کی قیمت کم کی جائے اور اس کی لاگت کے مطابق بل بھیجے جائیں۔ حافظ نعیم الرحمن
اس سے قبل کہ ہم عوام سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی اپیل کریں حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کا کراچی میں لوڈشیڈنگ‘کے الیکٹرک کی عوام دشمنی،گیس وبجلی کے بھاری بل، ظالمانہ سلیب سسٹم، آئی پی پیز سے عوام دشمن معاہدوں، ظالمانہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے و تاجروں پر ٹیکسزکے خلاف کراچی میں گورنر ہاؤس پر جاری دھرنے کے دوسرے دن فیملی دھرنے وعظیم الشان جلسہ عام سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا ایک بڑی تحریک میں بدل چکا ہے۔ راولپنڈی کا دھرنا گیارہویں دن میں داخل ہوچکا ہے اور کراچی میں بھی گورنر ہاؤس میں دھرنا جاری ہے۔ ہم نے واضح کیا تھا کہ ہم کسی تصادم کا راستہ اختیار نہیں کریں گے۔ آئندہ دنوں میں پشاور اور لاہور میں بھی دھرنے کا اعلان کیا جائے گااور بلوچستان میں بھی دھرنا ہوگا۔ جب بھی پیش رفت کی بات ہوتی ہے تو ڈی چوک اور پارلیمنٹ جانے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ حق دو عوام تحریک پاکستان کو آگے بڑھانے کی تحریک ہے۔ جماعت اسلامی کی تحریک اپنے سروں سے ظالم حکمرانوں کو ہٹانے کی تحریک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے تحریک کے پہلے مرحلے میں 7نکاتی ایجنڈہ رکھا ہے۔ بجلی کی قیمت کم کی جائے اور اس کی لاگت کے مطابق بل بھیجے جائیں۔ اس سے قبل کہ ہم عوام سے بجلی کے بل ادا نہ کرنے کی اپیل کریں حکمران ہوش کے ناخن لیں۔ جماعت اسلامی کا ایک کارکن بھی وزیر اعظم سے مناظرہ اور مباحثہ بھی کرسکتا ہے لیکن ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔ فارم 45کے مطابق فیصلے کیے جائیں تو وزیر اعظم شہباز شریف اوران کا پورا خاندان سمیت ان کی اتحادی پارٹی بھی گھر چلی جائے گی۔ جمہوریت کی اہمیت کی تحریک بھی جاری ہے،ہمارا مطالبہ ہے کہ بجلی کے بلوں کی قیمت کی جائے۔ وزیر اعظم عوام کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے مطالبات منظور کرلیں ورنہ تحریک حکومت گراؤ تحریک میں بدل جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکراتی ٹیم میٹنگ میں کہتی ہے کہ جماعت اسلامی کی تجاویز قابل عمل ہے لیکن میڈیاکے سامنے مکر جاتے ہیں۔ پیپلزپارٹی نے 1994میں آئی پی پیز کے نام دھندا شروع کیا ہے۔ ایم کیو ایم ہر حکومت کا حصہ رہی ہے اور آ ج یہ آئی پی پیز کے حوالے سے اپنا نام لکھوانا چاہتے ہیں۔ جتنی بھی آئی پی پیز بنی ہیں ان سب میں مسلم لیگ ق،مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم سب اس میں شامل ہیں۔ یہ کیسا ظلم ہے کہ جو بجلی استعمال ہی نہیں ہوئی ہے اس کی قیمت بھی وصول کی جاتی ہے۔ وزیر اعظم سے لے کر نچلی سطح تک تمام حکمران جھوٹ بول رہے ہیں۔ اگر آج فارنزک آڈٹ کیا جائے تو سب پتا چل جائے گا کہ اوور کیپسٹی شو کی گئی ہے۔ گیس پائپ لائن معاہدے میں ایران نے اپنا کام مکمل کرلیا لیکن پاکستان کے حکمرانوں نے اپنا کام نہیں کیااور ملک کے عوام کو سستی گیس سے محروم کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بیرون قرضوں میں سب سے زیادہ نواز لیگ پھر پیپلزپارٹی قرضے لیے اور پی ٹی آئی بھی بیرونی قرضے لینے والوں میں شامل ہیں۔ آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق عوام کی گردنوں میں ڈالا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی عوام کو ریلیف دلانے کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے۔ جماعت اسلامی نے پنڈی میں 10دن گزارلیے ہے اور اب 100دن بھی گزاریں گے۔ دھرنا پاکستان کے 25کروڑ عوام کی امید بن گیا ہے۔ بجلی کی قیمت کم کرو، جاگیرداروں پر ٹیکس لگاؤ، اپنی عیاشی ختم کرو۔ گورنر سندھ آج ہی اعلان کریں اور آغاز کریں کہ 1300سی سی کی گاڑی میں سفر کریں گے۔ مراعات یافتہ طبقے کو فری پیٹرول اور مہنگی مہنگی گاڑیاں مفت میں استعمال کے لیے دی جاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قرضوں کا سارا بوجھ عوام پر ڈالا جاتا ہے جو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ پیپلزپارٹی گزشتہ 16سال سے سندھ پر قابض ہے اور ایم کیوا یم ہر حکومت میں شامل رہی ہے۔ اگر کراچی کی صنعتوں کو سستی بجلی اور گیس فراہم کی جائے تو یہی صنعتیں پاکستان کی معیشت کو آگے بڑھاسکتی ہیں۔ آرمی چیف نے سندھ میں زمینوں کے سسٹم کو ختم کرنے کی بات کی تھی۔ آج اسی سسٹم کو صدر ہاؤس کی کرسی پر بٹھادیا گیا ہے۔بلوچستان میں بھی زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں