بلیوں میں کیلسی وائرس کا انکشاف
ڈاکٹر عبدالقدیر نے بتایا کہ اگر ان کے پاس دن میں 10 بلیاں آتی ہیں تو ان میں سے آٹھ بلیاں اسی وائرس کا شکار ہو کر آرہی ہیں۔
بلیوں میں کیلسی وائرس کا انکشاف
تفصیلات کے مطابق کیلسی وائرس “چھوٹے گول ساخت والے” وائرسوں کا ایک خاندان ہے۔ جو بالٹی مور سکیم کے درجہ چہارم کے ارکان ہیں۔ کیلسی وائرس ریچھ بڑھے ہوئے پائی کرونا وائرس سے مشابہت رکھتا ہے اور پہلے پائی کرونا ویرینٹ کے اندر ایک الگ جینس تھا۔ وہ مثبت احساس، واحد پھنسے ہوئے آر این اے ہیں جو الگ الگ نہیں ہیں۔
ڈاکٹر عبدالقدیر کے مطابق بلیوں میں اس وقت کیلسی وائرس، وبا کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے بتایا کہ اگر ان کے پاس دن میں 10 بلیاں آتی ہیں تو ان میں سے آٹھ بلیاں اسی وائرس کا شکار ہو کر آرہی ہیں۔
ڈاکٹر ارسلان بھی لاہور میں ویٹنری ڈاکٹر ہیں۔ ان کے مطابق بلیوں میں کیلسی وائرس اکثر پایا جاتا ہے جس میں ان کے منہ میں چھالے بن جاتے ہیں اور وہ کھانا پینا چھوڑ دیتی ہیں۔ ویٹنری ڈاکٹر کے مطابق کھانا پینا چھوڑنے کی وجہ سے بلیوں کی قوت مدافعت کم ہو جاتی ہے اور وہ نمونیہ اور نزلہ زکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس بار وائرس کا شکار بلیاں ابتدا ہی میں نمونیہ اور نزلہ زکام کا شکار ہو کر ڈاکٹروں تک پہنچ رہی ہیں جس کی وجہ وائرس میں ہونے والی میوٹیشن ہے۔