بجلی کی تقسیم کے لیے ایک سے زائد کمپنیوں کو لائسنس فراہم کیئے جائیں، ایک کمپنی کی اجارہ داری کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ سید مصطفیٰ کمال
سید مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں حق پرست اراکینِ قومی اسمبلی کی چیئرمین نیپرا وسیم مختار سے ملاقات
کیپیسٹی چارجز اور ملک کی معیشت ایک ساتھ نہیں چل سکتی، کیپیسٹی چارجز ملکی سلامتی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ سید مصطفیٰ کمال
کراچی : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان میں جس طرح ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں اجارہ داری ختم کر کے صارفین کو فائدہ پہنچایا گیا اسی طرز پر بجلی کی تقسیم میں مقابلے کی فضاء قائم کی جائے اور کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی کی تقسیم کے لیے مختلف کمپنیوں کو لائسنس فراہم کیئے جائیں۔ ایک کمپنی کی اجارہ داری کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
آئی پی پیز کو کی جانے والی کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادائیگی معیشت کیلئے سب سے بڑا زخم ہے۔ جنوبی ایشیا کے خطے کے دیگر ممالک میں 6 سینٹ کی بجلی دستیاب ہے جبکہ پاکستان میں بجلی کی فی یونٹ قیمت 16 سینٹ ہے، جس سے ہماری برآمدات بہت متاثر ہو رہی ہیں اور فیکٹریاں بند نیز بیروزگاری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ یہ کسی بھی دہشتگردی سے بڑا مسئلہ ہے، پوائنٹ اسکورنگ نہیں کرنا چاہتا اس لیے نام لے کر کسی پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ مسئلے کا حل چاہتے ہیں، پاکستان میں ضرورت سے زیادہ بجلی موجود ہے، یہاں تک کہ ہم بجلی بغیر بنائے اس کے پیسے ہمیں ڈالر میں ادا کرنے پڑ رہے ہیں جس کا بوجھ گھریلو صارفین، صنعتکاروں اور تاجروں پر پڑ رہا ہے۔
ہمارا آئی پی پیز کے ساتھ کیپیسٹی چارجز کی مد میں ادائیگی کا ریاستی معاہدہ ہے۔ وزیراعظم پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ ان آئی پی پیز کے مالکان سے بات کریں دوست ممالک کے سربراہان سے بات کریں۔ ایک نکاتی ایجنڈا لے کر وہاں جائیں کہ اب ہماری معیشت مزید کیپیسٹی چارجز ادا کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی اور ان سے درخواست کریں کہ یہ شق وہ معاہدے سے نکال دیں اور حکومت کے ساتھ نیا معاہدہ کریں۔ ہمارے پاس ملک میں بجلی بنانے کی کیپیسٹی 43 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ مشکل سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں اور 13 ہزار میگاواٹ کے پیسے بغیر بجلی بنائے ادا کر رہے ہیں۔
اس وقت 2600 ارب روپے گردشی قرضوں کی مد میں آئی پی پیز کو ادا کرنے ہیں، 600 ارب روپے گزشتہ سال لائن لاسز اور بجلی چوری کی مد میں ادائیگی کی گئی۔ اس سال حکومت نے 1700 ارب روپے ان ادائیگیوں کی مد میں رکھے ہیں جبکہ 1400 ارب پورے پاکستان کا ترقیاتی بجٹ ہے۔ یہ سارے پیسے ہمیں صنعتکاروں اور تاجروں سے لینے ہیں لیکن اگر یونہی انڈسٹریز بند ہوتی رہیں تو ٹیکس کون دیگا ؟
ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیئرمین نیپرا وسیم مختار سے انکے دفتر میں ملاقات کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حق پرست اراکینِ قومی اسمبلی سید حفیظ الدین، ایڈوکیٹ حسان صابر، آسیہ اسحاق اور فرحان چشتی بھی انکے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور اوور بلنگ کے خاتمے کے لیے کے الیکٹرک اور حیسکو کے ٹیرف ریویو، بجلی چوری، لائن لاسز، لوڈ شیڈنگ کی فیڈر سے پی ایم ٹی پر منتقلی، کنزیومر مینوئل کے اجراء، تمام ڈسکوز کی لبرلائزیشن کے علاوہ آئی پی پی کی کیپیسٹی چارجز پر ناصرف سیر حاصل گفتگو ہوئی بلکہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے بجلی کی پیداوار، ترسیل اور فراہمی کے نظام کی اصلاح کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کی گئیں جس کی نیپرا حکام نے ناصرف تائید کی بلکہ عمل درآمد کا عندیہ دیا۔