جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کرنے اور حقائق کو سامنے لانے پر پیپلز پارٹی کو بے چینی شروع ہو گئی ہے۔ علی خورشیدی
ایم کیو ایم پاکستان کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کا اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ
جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کرنے اور حقائق کو سامنے لانے پر پیپلز پارٹی کو بے چینی شروع ہو گئی ہے۔ علی خورشیدی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی کا اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ مرکزی دفتر پاکستان ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صبح ایم کیو ایم کی جانب سے کے جانے والی پریس کانفرنس پیپلز پارٹی کو آئینہ دکھانے کے لئے تھی جس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کو اُن کے کاموں کے اصلیت بتائی گئی تھی جھوٹ اور فریب کا پردہ چاک کرنے اور حقائق کو سامنے لانے پر پیپلز پارٹی کو بے چینی شروع ہو گئی ہے، پیپلز پارٹی نے درجن بھر سے زائد تو ترجمان بھرے ہوئے ہیں جبکہ خیرات پر بننے والے میئر اپنی کارکردگی بتائیں نہ کہ پیپلز پارٹی کے ترجمان بنیں جن کی اس صوبے میں کوئی حیثیت نہیں وہ ایم کیو ایم پاکستان کی لیڈر پر انگلی اٹھا رہے ہیں پیپلز پارٹی کی نااہلی چھپانے کے لئے صوبے کی عوام کے پیسے کو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لوگ ایم کیو ایم قیادت کو نشانہ بنانا بند کریں ورنہ آپ سے زیادہ مواد ایم کیو ایم کے پاس موجود ہے اپنی کارکردگی سے لوگوں کو مطمئن کریں نہ کہ لفاظی کرنے میں وقت ضائع کریں اس وقت یہ شہر دُنیا کے بدترین شہروں میں شامل ہے شہر کی ضرورت 15000 بسوں کی ہے مگر 100 بسیں دے کر حاتم طائی کی قبر پر لات ماری جاری ہے پچھلے 16 سال سے پیپلزپارٹی حکومت کررہی ہے 18ہزار سے زائد کا بجٹ استعمال ہوچکا 32سو ارب تعلیم 17سو ارب صحت پر خرچ کئے گئے ہیں تعلیم اور صحت کی صورتحال سب کے سامنے ہے 70 لاکھ سے زائد بچے سندھ میں اسکولوں سے باہر ہیں، ہزاروں ارب روپے خرچ کرنے کے بعد بھی سندھ کی حالت سب کے سامنے ہے اس صوبے میں اگر کوئی سانحہ ہوجائے تو کوئی ایسا ہسپتال نہیں جہاں علاج کرایا جا سکے سب کو کراچی لانا پڑتا ہے پیپلزپارٹی نے پچھلے 15 سالوں میں نہ صحت کا نظام درست کیا نا ہی تعلیم کا اگر سندھ سے چند لوگوں کو صحت کے نظام سے ہٹا دیا جائے تو سندھ میں صحت کا نظام بیٹھ جائیگا، میئر کراچی اپنی کارکردگی بتانے کے بجائے پیپلزپارٹی کی متعصب حکومت کی نااہلی چپانے میں مصروف ہیں اور عوام میں انتشار پھیلا رہے ہیں۔
جب پیپلزپارٹی کی حکومت کی کارکردگی بتاتے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے اس وقت ملک کو تعمیری سیاست کی ضرورت ہے اس لیئے پیپلز پارٹی اپنے کرائے کے کارندوں کو سنبھالے۔ اس موقع پر حق پرست رکن صوبائی اسمبلی انجینئر عثمان نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر ہماری لیڈر شب پر انگلی اٹھائی جا رہی ہے ہم اپنی قیادت کی ہدایت پر زبانوں کو بند رکھے ہوئے ہیں آپ جانتے ہیں کہ ہم آپکا مقابلہ کرنا جانتے ہیں لیکن اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو ہم بھی 1971ء سے لیکر آج تک کی جانے والی تمام نا انصافیوں پر بات کرینگے جب پیپلزپارٹی کے لیڈر نے مجیب الرحمن کے ساتھ نا انصافی کی تو اس وقت یہ لوگ کہاں تھے؟ پنڈی میں بینظیر صاحبہ کو شہید کیا گیا بھگتنا کراچی کو پڑا تھا پولیس تک کو یرغمال بنایا گیا تھا پیپلز پارٹی مُلک توڑنے والی جماعت ہے بینظیر کے قاتلوں کو تو آپ پکڑ نہیں سکے اور جھوٹے نعرے کے پیچھے چُھپ گئے ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم الذالفقار سے شروع کریں، شہر پر قبضہ کرنے کے لئے امن کمیٹی کے نام پر غنڈوں کو مسلط کیا گیا، سانحہ 12 مئی کروانے کا مرکزی کردار انہی کی جماعت کا رہنماء ہے، پہلے اپنا سیاسی قد دیکھیں اس کے بعد اس طرح کی باتیں کریں۔
اب آئندہ اگر چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر رہنماء سید مصطفٰی کمال، ڈاکٹر فاروق ستار سمیت کسی پر بھی انگلی اٹھائی تو ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دینگے ہم پھر تمہاری ماضی میں کی جانے والی زیادتیوں کی تاریخ لوگوں کو سنائیں گے تو رات سے دن ہوجائیگا لیکن زیادتیوں کی تاریخ ختم نہیں ہوگی جو لوگ بلدیات میں کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے وہ آج ہمارے ساتھ بیٹھنے کی باتیں کر رہے ہیں، مرتضٰی وہاب کی کارکردگی دیکھنی ہے تو گلستانِ جوہر کا انڈر پاس کافی ہے۔ اس موقع پردیگر اراکین صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔