Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

متحدہ نے بائیکاٹ نہیں دستبردار ہونے کا اعلان کیا جو پیپلز پارٹی کی حمایت تھی

چیئرمین آفاق احمد نے جنرل ورکر اجلاس میں نئی تشکیل پانے والی زونل کمیٹیوں اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نئی ذمہ داریوں کی مبارک باد دی اور کہا کہ تمام ذمہ داران اور کارکنان آئندہ انتخابات کی بھر پور تیاریاں شروع کردیں۔

0

متحدہ نے بائیکاٹ نہیں دستبردار ہونے کا اعلان کیا جو پیپلز پارٹی کی حمایت تھی

کراچی : چیئرمین آفاق احمد نے جنرل ورکر اجلاس میں نئی تشکیل پانے والی زونل کمیٹیوں اور کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے انہیں نئی ذمہ داریوں کی مبارک باد دی اور کہا کہ تمام ذمہ داران اور کارکنان آئندہ انتخابات کی بھر پور تیاریاں شروع کردیں۔

آفاق احمد نے کہا کہ متحدہ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات روکنے کی دھمکی کے بعد کسی بھی تصادم اور مہاجر نوجوانوں کے جانی نقصان کے خوف سے انتخابات سے دور رہنے کی ہدایت کی جو ہماری غلطی تھی،کیونکہ متحدہ انتخابات سے مہاجر عوام کو دور رکھ کر پیپلز پارٹی کو سپورٹ کرنا چاہتی تھی جسکی انہوں نے بھرپور قیمت وصول کی۔

آفاق احمد نے کہا کہ بائیکاٹ اور دستبردار ہونے میں فرق ہوتا ہے دستبردار کسی حق میں ہوا جاتا ہے،اور متحدہ کی قیادت نے بائیکاٹ کے بجائے دستبردار ہونے کا اعلان کیا جو پس پردہ پیپلز پارٹی کے حق میں تھا۔ آفاق احمد نے کہا کہ مہاجر قومی موومنٹ آئندہ ہونے والے کسی انتخابات سے لاتعلق نہیں رہے گی بلکہ بھر پور حصہ لے گی۔

آفاق احمد نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے لوگوں کو اسٹریٹ کرائم سے نجات دلانے اور انکی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے 60 لاکھ سے زیادہ افغانیوں سمیت تمام غیر قانونی تارکین وطن کو کراچی سے نکالا جائے اور انہیں بارڈر کے قریب پناہ گزین کیمپوں تک محدود رکھا ھائے۔

آفاق احمد نے کہا کہ کے-الیکٹرک کے بلوں میں نا سمجھ میں آنے والے ٹیکسوں کی بھر مار ہے اور اضافی بلنگ بھتے کی بدترین صورت ہے۔ کراچی میں مہاجروں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے کراچی بھر میں شہر کی زمینوں پر قبضے کرکے غیر مہاجروں کی کچی آبادیاں بسائی گئیں انہیں بجلی،پانی، گیس جیسی بنیادی سہولتیں سرکاری سرپرستی میں فراہم کی گئیں یہ کچی آبادیاں بجلی پورے غرور کے ساتھ کنڈے کی استعمال کرتی ہیں جنہیں کے الیکٹرک کاٹنے کو تیار نہیں کیونکہ بجلی کے اس ناجائز استعمال کو لائن لاسیز کہہ وہ قانون اور امن پسند پڑھے لکھے شہریوں سے اضافی بل وصول کرکے پورا کررہی ہے۔

آفاق احمد نے کہا کہ یا تو کے الیکٹرک کو بھی وفاق اپنی تحویل میں لے کر پورے پاکستان کی طرح کراچی سے بجلی کی قیمت یکساں وصول کرے یا پھر کے-الیکٹرک کی کائسنس کی تجدید کرنے کے بجائے دنیا بھر سے سرمایہ کاروں کو کے-الیکٹرک کے مد مقابل مدعو کیا جائے تاکہ کے-الیکٹرک کی اجارہ داری خاتمہ ہو اور کراچی کے عوام اپنی پسند کی کمپنی سے بجلی خرید سکیں۔

آفاق احمد نے کہا کہ یہ مطالبہ انفرادی نہیں اجتماعی ہے اور حکومت اپنا شک دور کرنے کیلئے کے-الیکٹرک حمایت یا مخالفت میں سادہ سا ریفرنڈم کرائے جسمیں کے-الیکٹرک کے صارفین کو ووٹر کی حیثیت سے کے-الیکٹرک کی حمایت یا مخالفت میں ووٹ ڈالنے کا حق ہو۔

اگر ریفرنڈم میں کے-الیکٹرک کی مخالفت میں ووٹ آئے تو حکومت فوری طور پر کے-الیکٹرک کی متبادل کمپنیوں کو سامنے لائے اور کے-الیکٹرک کے لائسنس کی تجدید کرنے سے گریز کرے۔ آفاق احمد نے کہا کہ کراچی کی عوام زندہ انسان ہیں کوئی پتھر کے بے جان کے تکڑے نہیں کہ کسی کے احتجاج پر انکی گنتی کم اور کسی کی فرمائش پر زیادہ کردی جائے اس سے کراچی کی عوام کی تذلیل ہورہی ہے۔

آفاق احمد نے کہا کہ کراچی کی عوام ساڑے تین کروڑ سے کم نہیں ہیں انہیں پورا گنا جائے اور یہ بات حکمرانوں کو سمجھ لینی چاہیے کہ کراچی کے عوام کو پورا گن کر وہ کراچی کے عوام پر نہیں پاکستان پر احسان کرینگے،کراچی پاکستان کی شہ رگ ہیں معاشی حب ہے یہی سے وصول ہونے والے پیسے دفاع کو مضبوط کیا جاتا ہے، یہی سے وصول ہونے والے ٹیکسوں سے حکومتی نظام چلتا ہے۔

آفاق احمد نے کہا کہ ساڑے تین کروڑ کے شہر کو آدھا گنا گیا اور ان غلط اعداد و شمارکی بنیاد پر کوئی بھی منصوبہ بندی کی گئی تو وہ فیل ہوجائیگی اور کراچی بدامنی کا شکار ہوجائیگا یہاں لاقانونیت پروان چڑھے گی اور زندگی کی ہر بنیادی سہولت کا فقدان ہونے کی وجہ سے ہر شخص طاقت کے بل پر اسکے حصول کو یقینی بنائیگا،ہر طرف زبان کی بنیاد پر مسلح گروپ پروان چڑہنگے،شریف آدمی کیلئے کراچی جہنم بن جائیگا جو کسی بھی طور پر ملک کے استحکام اور ترقی کا باعث نہیں بنے گا۔

آفاق احمد نے کارکنان سے کہا کہ عوام سے رابطے کی مہم کو تیز کریں اور عید کے بعد باغ جناح میں بہت بڑے جلسے کی تیاری کریں۔

Comments
Loading...