Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

صوبے بھر میں جتنے ترقیاتی منصوبے 15 اگست تک منظور ہوئے ان پر کام جاری رہے گا۔ محمد مبین جمانی

کام کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ منصوبہ جو نہ صرف کراچی کے عوام کے لئے بلکہ اندرون سندھ سے کراچی آنے والوں کے لئے ایک خوبصورت تحفہ ہوگا

0

صوبے بھر میں جتنے ترقیاتی منصوبے 15 اگست تک منظور ہوئے ان پر کام جاری رہے گا۔ محمد مبین جمانی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) نگران صوبائی وزیر بلدیات، ہائوسنگ ٹائون پلاننگ و بحالیات سندھ محمد مبین جمانی نے کہا ہے کہ صوبے بھر میں جتنے ترقیاتی منصوبے 15 اگست تک منظور ہوئے ان پر کام جاری رہے گا اور الیکشن کمیشن نے ان تمام منصوبوں پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے۔

ملیر ایکسپریس وے پر کام تیزی سے جاری ہے اور یہ اپنے وقت پر مکمل ہوگا۔ ہم سیاسی لوگ نہیں ہے ہم سیاسی معاملات میں نہیں پڑتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز ملیر ایکسپریس وے کے زیر تعمیر کام کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری سندھ منظور شیخ، پروجیکٹ ڈائریکٹر ملیر ایکسپریس وے نیاز سومرو اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ نگران صوبائی وزیر محمد مبین جمانی نے ملیر وے کے آغاز کے پوائنٹ سے لے کر اس کے اختتامی پوائنٹ تک کا دورہ کیا اور وہاں جاری کام کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر پی ڈی نیاز سومرو نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت 27 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر کیا جارہا ہے اور یہ مئی 2022 سے شروع ہوا ہے اور آئندہ سال دسمبر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ 39 کلومیٹر طویل ایکسپریس وے ہے اور اس کو چوڑائی 30 میٹر ہے اور یہ 6 ٹریک پر مشتمل ہوگا، جس میں 3 یکطرفہ اور 3 دوسری طرفہ ہوں گے۔ اس ایکسپریس وے پر 6 انٹرچینج اور 2 ٹول پلازہ ہوں گے جبکہ یہ ای بی ایم کازویز جام صادق علی پل سے شروع ہوکر کاٹھور پر اختتام ہوگا۔

نیاز سومرو نے مزید بتایا کہ اس ایکسپریس وے کے فیز 1 جو جام صادق پل سے قائد آباد تک کا ہے اس کا 53 فیصد کام مکمل جبکہ اس کے بعد کے دوسرے فیز پر زمینی کام 10 فیصد سے زائد مکمل کرلیا گیا ہے۔ دونوں فیز کے درمیان میں ریلوے لائن کے اوپر سے اوور ہیڈ پل کی تعمیر کے لئے پاکستان ریلوے سے اجازت نامے کے لئے درخواست دی گئی ہے، جس کے بعد دوسرے فیز کا کام بھی تیزی سے شروع کردیا جائے گا۔

بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر بلدیات محمد مبین جمانی نے کہا کہ آج یہاں پر دورے کا مقصد ایک طرف کام کی رفتار کا جائزہ لینا تھا اور دوسری جانب اس کام کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ حائل ہو تو اس کے ازالے کے لئے اقدامات کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کام کی رفتار کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ منصوبہ جو نہ صرف کراچی کے عوام کے لئے بلکہ اندرون سندھ سے کراچی آنے والوں کے لئے ایک خوبصورت تحفہ ہوگا۔ محمد مبین جمانی نے کہا کہ اس ایکسپریس وے کے مکمل ہونے کے بعد ڈیڑھ سے دو گھنٹے کا سفر صرف 35 سے 40 منٹ تک محدود ہوجائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں نگران صوبائی وزیر محمد مبین جمانی نے کہا کہ صوبے بھر میں جتنے ترقیاتی منصوبے 15 اگست تک منظور ہوئے ان پر کام جاری رہے گا اور الیکشن کمیشن نے ان تمام منصوبوں پر کام جاری رکھنے کی ہدایت کردی ہے اور اگر کوئی عوامی مفاد کے منصوبے اس کے بعد بھی منظور ہوئے ہیں تو اس کو دیکھیں گے اور ضروری سمجھا تو اس کے لئے الیکشن کمیشن سے درخواست بھی کریں گے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے مطالبات یا تحفظات اپنی جگہ پر ہم تین یا چھ ماہ رہیں گے اپنا کام کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر وہ کریں گے جو سوچ کر آئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بلڈرز اگر زیادتیاں کریں گے تو ہم عوام کو ساتھ دیں گے۔ میں نے ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بلایا تھا اور انہیں واضح ہدایات دی ہیں کہ ماضی میں جو ہوا وہ اب نہیں ہوگا۔ سسٹم کے سوال کے جواب میں نگران صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ مجھے نہیں پتہ کوئی سسٹم ہے، اگر کوئی سسٹم بنتا ہے تو وہ سرکاری افسر نہیں بناتا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو اگر پولیس کی مدد ہوئی تو انہیں ضرور یہ مدد فراہم کریں گے۔ ایک اور سوال کے جواب میں محمد مبین جمانی نے کہا کہ ہم نے محکمہ بلدیات میں اچھے افسران لگائے ہیں اور اب کالی بھیڑوں کو برداشت نہیں کریں گے۔تمام اداروں میں اچھے افسران لائیں گے کیونکہ ہماری نیت صاف ہے ہم ایمانداری سے کام کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے ابھی اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے بتایا ہے کہ ملیر کے دیہات کے جو تحفظات تھے وہ ختم کردئیے گئے ہیں۔ اس منصوبے کی زمینوں پر جو تحفظات تھے وہ ختم کیئے گئے ہی۔ اس روڈ کی وجہ سے اب کوئی مسائل نہیں ہیں، ہم کوشش کریں کہ اس کو بہتر یوٹیلائیز کریں اور اس کے اطراف اس منصوبے میں بیوٹیفکیشن پلان بھی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی کا نام نہیں لیتا۔ کل جو کچھ ہوا اس کا میں ذمے دار نہیں ہوں۔ ایک سوال پر محمد مبین جمانی نے کہا کہ میں نے کہا تھا اللہ نے مجھے اپنی گاڑی دی ہے میں کوئی گاڑی یا مراعات نہیں لوں گا۔

محمد مبین جمانی نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ جب تک ہم اس حکومت کا حصہ ہیں حق و سچ کی بات اور کام کریں گے اور عوام کے لئے ہر وہ کام کریں گے، جس سے ان کو ریلیف ملے۔

Comments
Loading...