Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اس شہر کو جنگل بنا دیا گیا ہے جس میں کوئی قانون نہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

جب کراچی کا دیا پیسہ کراچی اور کراچی کے رہنے والوں پر نہیں لگے گا تو پھر کہیں نہیں لگے گا۔ ڈاکٹر فاروق ستار

0

اس شہر کو جنگل بنا دیا گیا ہے جس میں کوئی قانون نہیں۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دیگر زمہ داران کے ہمراہ فیڈرل بی ایریا عرشی پلازہ کی مکینوں سے اظہار یکجہتی کے لئے عرشی پلازہ کا دورہ کیا اور متاثرین سے ملاقات کی اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار, ڈپٹی کنوینر انیس احمد قائمخانی, اراکینِ رابطہ کمیٹی۔ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے فاروق ستار کے ہمراہ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عرشی شاپنگ کی صورتحال آپ کے سامنے ہے، نگران وزیراعلیٰ سندھ کھل کر بتائیں ان کے پاس کتنے اختیارات ہیں، گزشتہ 15 سال سے اس شہر پر باہر کے لوگ مسلط ہیں، پاکستان کے واحد میٹروپولیٹن سٹی میں رشوت کے علاوہ کوئی قانون نہیں، اس شہر کو جنگل بنا دیا گیا ہے۔ جس میں کوئی قانون نہیں، جنگل کے بھی کچھ قوانین ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 15 سال سے اس شہر پر لٹیروں کا قبضہ ہے۔ کراچی کو گزشتہ 15 سالوں سے باہر کے لوگوں سے چلایا جارہا ہے، انتہا کے سارے پیمانے حد کو پہنچ چکے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ بتائیں کراچی کے شہری جو اپنوں سے محروم سے ہوئے کس سے جواب طلب کریں، شہری کس کا گریبان پکڑیں، شہری کس دروازے پر انصاف کی بھیک مانگیں۔ خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ اس شہر میں ہم ظلم کیخلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں، کبھی انصاف اس شہر میں دیوار گرا دیتا ہے۔

دوسری جانب فاروق ستار نے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب کراچی کا دیا پیسہ کراچی اور کراچی کے رہنے والوں پر نہیں لگے گا تو پھر کہیں نہیں لگے گا،کراچی کو لیکر اگر اب حکمران سنجیدہ نہیں ہوتے تو پھر کراچی والوں پر بھی یہ لازم ہے کہ وہ جو ہر سال چار ہزار ارب کا ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کے ذریعے سارا پاکستان چلتا ہے دینا بند کردیں جب کراچی کا دیا پیسہ کراچی پر نہیں لگے گا۔ یہاں کے رہنے والوں پر نہیں لگے گا تو پھر کہیں نہیں لگے گا۔

انہوں نے کہا کہ خالد بھائی نے بڑی سنجیدگی سے کراچی کے مسائل پر روشنی ڈالی، آتشزدگی کے واقعے پر پانچ قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لوگ اپنی زندگی بھر کی کمائی سے محروم ہوئے ہیں،انتظامیہ کا کوئی نمائندہ یہاں موجود نہیں جو بتائے کے انکے گھر کا سامان محفوظ ہے،کوئی بتانے والا نہیں جو انکے مال کو محفوظ ہونے کی تسلی دے انہوں نے کہا کہ حادثے سے بڑا حادثہ یہ ہوا کے لوگ روکے نہیں حادثہ دیکھ کر آگ بجھانے کا انتظام نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ یہاں موجود نہیں ہیں جو لوگوں کو دلاسہ دے سکیں، ابھی آر جے مال کی دکانیں نہیں کھلی ہیں، یہ سوالات صرف حکومت سے نہیں ریاست سے بھی ہے، لوگوں کو تباہ و برباد کیا جا رہا ہے۔کوئی دیکھنے والا نہیں۔

Comments
Loading...