Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات دئیے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز مختلف ارکان سندھ اسمبلی کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں کیا۔

0

سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات دئیے ہیں۔

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات دئیے ہیں۔ جلد ہی یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلز کے لئے ایک گائیڈ لائن جاری کررہے ہیں کہ ان کو ملنے والی او زی ٹی کو کس کس مد میں خرچ کہا کہاں کیا جاسکتا پے۔ حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن لطیف آباد اور قاسم آباد سمیت پورے حیدرآباد میں صاف پانی کی فراہمی اور سیوریج کی نکاسی کے لئے اقدامات کررہے ہے، البتہ بجلی کی بندش کے باعث انہیں سیوریج کے پمپنگ اسٹیشنز جنریٹرز کی موجودگی کے باوجود اپنی مکمل پرفارمنس نہیں دے سکتے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز مختلف ارکان سندھ اسمبلی کی جانب سے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں کیا۔ اپوزیشن رکن محمد ریحان راجپوت کی جانب سے ان کے حلقہ لطیف آباد سیوریج سسٹم اور واٹر سپلائی کی متاثرہ لائنوں کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا کہ حالیہ بارشوں کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہوئی ہے، جس کے باعث گھروں میں صاف پانی کی سپلائی کی مقدار میں کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی میں حیدرآباد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن بنانے کی منظوری کے بعد وہ ابتدائی مراحل میں ہے اور تیزی سے کام کررہی ہے۔ البتہ مسئلہ بجلی کی بندش کا ہے، گو کہ وہاں جنریٹرز نصب ہیں لیکن بجلی کی بندش کے بعد وہ اس استطاعت سے کام نہیں کررہے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ حیدرآباد کا سیوریج سسٹم پمپنگ اسٹیشن پر منحصر ہے اور لطیف آباد میں 7 سیوریج کے پمپنگ اسٹیشن درست چل رہے ہیں۔ صرف بجلی کی بندش سے جنریٹر کے باوجود وہاں کچھ مسائل آئے ہیں۔

اپوزیشن رکن محمد فاروق کی جانب سے ٹاﺅن اور یوسیز کے چیئرمینوں کو اختیارات کی منتقلی کے سوال پر صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت نے سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، مالی اور انتظامی اختیارات دئیے ہیں۔ جلد ہی یونین کمیٹیوں اور یونین کونسلز کے لئے ایک گائیڈ لائن جاری کررہے ہیں کہ ان کو ملنے والی او زی ٹی کو کس کس مد میں خرچ کہا کہاں کیا جاسکتا پے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 میں تمام بلدیاتی اداروں کے اختیارات اور ان کے فرائض درج ہیں اور وہ اس قانون کے تحت اپنے تمام اختیارات استعمال کرسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت قانون کے مطابق بلدیاتی منتخب نمائندوں کے پاس سب کچھ موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ معزز رکن نے سندھ سولڈ ویسٹ کی بات کی ہے تو انہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ خود سے کوئی کام نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی قانون میں کچرا اٹھانے کی کراچی کی حد تک یہ ذمہ داری ڈی ایم سیز کے پاس تھی اور ان تمام نے اپنی کونسلز سے منظوری کے بعد یہ اختیار سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کو دیا تھا۔ اسی طرح کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کا قانون 90 کی دہائی کا ہے، اس کے اختیارات پہلے سندھ حکومت کے پاس تھے۔ سندھ حکومت نے یہ اختیارات پہلے نعمت اللہ خان اور بعد ازاں مصطفٰی کمال کے دئیے اور اب یہ اختیار مئیر کراچی کے پاس ہے، جس کی ڈیمانڈ اس ایوان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے کی تھی۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت واٹر بورڈ میں بحیثیت وزیر زیرو مداخلت ہے۔ اسی طرح کلک کوئی ادارہ نہیں بلکہ یہ ایک پروجیکٹ ہے اور آج بھی ٹائونز کی اسکیموں کو اس کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا سراسر غلط ہے کہ بلدیاتی منتخب نمائندوں کو کوئی اختیارات نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے معزز دوست نے 140-اے کا ذکر کیا کہ اس قانون کے تحت صوبائی حکومت بلدیاتی ادارے قائم کرے گی، لیکن اس میں کہی یہ نہیں لکھا کہ ان کو کتنی سیاسی، انتظامی یا مالی اختیار دیا جانا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ اس وقت کے ایم سی ہو، یونین کمیٹیاں یا یونین کونسلز ہوں ان کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات دئیے گئے ہیں۔ ہم نے تمام ٹائونز میں ان کے ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کو محفوظ بنانے کے لئے ان کے او زی ٹی شئیر میں اضافہ کرکے انہیں مالی طور پر مستحکم کیا ہے، ہم اربن ایریا کی یونین کمیٹیوں کی او زی ٹی 5 لاکھ سے بڑھا کر 12 لاکھ جبکہ یونین کونسلز کی 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ کردی ہے اور انہیں ملازم کی تنخواہیں 4 لاکھ تک محدود رکھنے۔کی ہدایات بھی دی ہیں تاکہ ان یوسیز میں چھوٹے موٹے کام ہوسکیں۔

سعید غنی نے کہا کہ جلد ہی تمام یونین کونسلز اور یونین کمیٹیوں کو ایک گائیڈ لائن دے رہے ہیں کہ انہیں ملنے والی او زی ٹی کہاں خرچ کرنی ہے اور ہر ماہ کی رپورٹ بھی مرتب کی جائے گی تاکہ ان میں مالی بحران کو کنٹرول کیا جاسکے۔ اپوزیشن رکن شارق جمال کے توجہ دلائو نوٹس کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ معزز رکن کا جب توجہ دلائو نوٹس آیا تو میں نے میں نے ٹائون میونسپل کمیٹی ماڈل کالونی سے معلومات حاصل کی کہ وہ بارشوں کے بعد کی صورتحال پر کیا کرنے جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے جواب ملا کہ ہم نے اپنی ایک اسکیم کلک کی معرفت دی ہے، جس پر جلد کام شروع ہوجائے گاجبکہ دیگر سڑکوں کی مرمت اور پیچ ورک کے لئے ٹی ایم سی ماڈل ٹاؤن نے 15 ستمبر سے کام کے آغاز کی یقین دہانی کروائی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ کے ایم سی 100 سے زائد سڑکوں پر کام شروع کررہی ہے، جس میں 1400 ملین سڑکوں پر، 200 ملین اسٹریٹ لائٹس جبکہ 400 ملین پلوں کی مرمت پر خرچ کئے جائیں گے۔ جبکہ ٹائونز کی حدود میں سڑکوں کو ٹھیک کرنے کے لئے ٹائونز کے پاس وسائل موجود ہیں، اگر نہیں ہوں گے وزیر اعلٰی سندھ کے توسط سے ان کا مالی معاملہ بھی حل کریں گے۔

Comments
Loading...