غزہ میں اسرائیلی نسل کُشی کے دوران امریکہ کی اسلام دشمنی دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔ شجاع الدین شیخ
پاکستان کا سلامتی کونسل میں غزہ کے حوالے سے عالمی فورس پر امریکی قرارداد کی حمایت کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔شجاع الدین شیخ
نیٹو طرز کا مسلم ممالک کا عسکری اتحاد بننے تک ابلیسی اتحادِ ثلاثہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ رکھے گا۔ شجاع الدین شیخ
لاہور : پاکستان کا سلامتی کونسل میں غزہ کے حوالے سے عالمی فورس پر امریکی قرارداد کی حمایت کرنا انتہائی تشویش ناک ہے۔غزہ میں اسرائیلی نسل کُشی کے دوران امریکہ کی اسلام دشمنی دنیا پر عیاں ہو چکی ہے۔ نیٹو طرز کا مسلم ممالک کا عسکری اتحاد بننے تک ابلیسی اتحادِ ثلاثہ مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ رکھے گا۔ اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیر شجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ امریکہ کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنا، نان نیٹو اتحادی بنانا اور ایف-35 طیاروں جیسی مراعات کی فراہمی کا مقصد اسرائیل کو تسلیم کروانا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پُرجوش مصافحوں، مسکراہٹوں اور بیانات کی شہ سرخیوں میں امریکی مفادات اور تضادات واضح نظر آتے ہیں۔ غزہ میں قیام امن کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاس ہونے والی قرارداد پر تبصرہ کرتے ہوئے امیر تنظیم اسلامی نے کہا کہ ٹرمپ کی طرف سے پیش کردہ غزہ میں قیام امن کا فارمولا فلسطینی مسلمانوں کی خواہشات اور امنگوں کا ترجمان نہیں اورحکومتِ پاکستان کا اس قرارداد کی حمایت کرنا انتہائی شرم ناک ہے۔ لہٰذا اس قرارداد کے نتیجے میں پاکستان کو مختلف ممالک کی افواج پر مشتمل بین الاقوامی استحکام فورس کا ہرگز حصّہ نہیں بننا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے نام نہاد امن معاہدے سے غزہ میں امن قائم نہیں ہو سکا کیونکہ اس معاہدے کا ایک فریق ، ناجائز صہیونی ریاست سرائیل، مسلسل ہٹ دھرمی، وعدہ خلافی اور جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی فورسز کے مظالم کی وجہ سے آج بھی غزہ میں ہسپتالوں کے ملبے سے فلسطینی شہداء کی لاشیں برآمد ہو رہی ہیں۔ جب تک مسلم ممالک متحد ہو کر نیٹو طرز کا عسکری اتحاد نہیں بنائیں گے اس وقت تک اسرائیل، امریکہ اور بھارت پر مشتمل ابلیسی اتحاد ثلاثہ دنیا بھر کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیے رکھے گا۔