بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ نے لوگوں کی زندگی مشکل ترین بنادی۔ عارف اعظم
حکومت نے نوٹس نہ لیا تو صنعتوں کو تالا لگ جائیگا۔ عارف اعظم
بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ نے لوگوں کی زندگی مشکل ترین بنادی۔ عارف اعظم
کراچی : مہاجر قومی موومنٹ (پاکستان) کے سیکریٹری جنرل عارف اعظم نے آفاق احمد کی رہائش گاہ پر کورنگی انڈسٹریل ایریا سے آئے صنعت کاروں کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ کے دن ہو یا رات بجلی کی آنکھ مچولی معمول بن چکی ہے جس نے شہریوں کی زندگی مشکل ترین بنادی ہے،کے الیکٹرک کی جانب سے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، اوور بلنگ حکومتی عصبیت کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے فی الفور ختم نہ کیا گیا تو قوم کے پاس سڑکوں پر نکلنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچتا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکمران سیاسی انتقام اور مہاجر فوبیا میں اپنا ذہنی توازن کھو چکے ہیں،جو انتقام کی آگ میں ملک کے معاشی حب کو ہی صفحہ ہستی سے مٹانے پرلگے ہوئے ہیں۔
عارف اعظم نے کہا کہ ملک کے معاشی حب کو اجاڑنے کا مقصد ملک کا دیوالیہ نکالنا ہے جس کیلئے صنعتی شعبہ جات میں بجلی، گیس اور پانی کی قلت پیدا کرکے صنعتی شعبہ جات کو بند گلی میں دانستہ دھکیل دیا گیا ہے، جسکی مہاجر قومی موومنٹ ناصرف بھرپور مذمت کرتی ہے بلکہ حکومت اور ارباب اختیار کو باور کراتی ہے کہ کے الیکٹرک کا جولائی میں ختم ہونے والے معاہدے کو آگے بڑھانے کے بجائے عوامی رائے اور خواہشات کااحترام کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے فارغ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صنعتی اداروں کو دیوالیہ ہونے سے بچانے اور ملک کی خوشحالی کیلئے انرجی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا جس کیلئے کے الیکٹرک سے نجات اور ملٹی پل کمپنیوں کو بجلی کی ترسیل کی ذمہ داری دی جائے تاکہ کمپنیوں کی سہولیات اور قیمتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صارفین کے پاس ملٹی پل آپشن ہونے چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ طویل لوڈشیڈنگ کے سبب صنعتی ادارے وقت مقررہ پر آرڈر کی تکمیل میں ناکام ہورہے ہیں جسکے باعث یا تو آرڈر ختم کردیے جاتے ہیں یا بھاری بھر کم جرمانے صنعتی شعبوں کے شدید نقصان پہنچانے کا باعث بن رہے ہیں،جسکے ازالے کیلئے مربوط اور دیرپا نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ایجنڈے پر کارفرما عناصر نے بیرونی اشاروں پر صنعتی شعبہ جات کو اپنا ہدف بنایا ہوا ہے حکومت نے نوٹس نہ لیا تو ناصرف صنعتوں کو تالا لگ جائیگا بلکہ اس کے نتیجے میں آنے والا بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان سب بہا لے جائیگا۔
عارف اعظم نے کہا کہ ملک کی سلامتی اور خودمختاری قائم رکھنے کیلئے حکومت کو عصبیت کی عینک اتار کر تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سے ملکی مفاد میں فیصلے کرنا ہونگے کیونکہ آج ملک نازک دور سے گزر رہا ہے ایسے میں اقتدار اور سیاست سے زیادہ عزیز ملکی سلامتی و بقاء ہونی چاہیے۔