مردم شماری آڈٹ صوبائی حکومت کے بجائے تھرڈ پارٹی سے کروایا جائے۔ سید مصطفی کمال
پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف زرداری آج بھی کراچی کی آبادی 3کروڑ پر قائم ہیں جبکہ انکا وزیر اعلیٰ کراچی سے تعصب برت رہا ہے۔ سید مصطفی کمال
مردم شماری آڈٹ صوبائی حکومت کے بجائے تھرڈ پارٹی سے کروایا جائے۔ سید مصطفی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں سینئرڈپٹی کنوینرز سید مصطفی کمال،ڈاکٹر فاروق ستار کی حالیہ مردم شماری میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر پر یس کانفرنس سے خطاب۔
سید مصطفی کمال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بہت اہم شہر ہے اس سے پاکستان چل رہا ہے مردم شماری ہماری ریڈ لائن ہے، ہم اس پر خاموش نہیں رہیں گے،ہمیں درست شمار نہیں کیا گیا تو ہم سے کوئی امید نا رکھی جائے جیکب آباد 49فیصد، کشمور38فیصد، شکار پور 34فیصد، لاڑکانہ 28فیصداضافہ ہے جب کے کراچی جہاں پاکستان بھر سے لوگ آرہے ہیں وہ 20فیصد کاہندسہ کراس نہیں کر سکا یہ ماننے والی بات نہیں پیپلز پارٹی کے چیئر مین آصف زرداری آج بھی کراچی کی آبادی 3کروڑ پر قائم ہیں جبکہ انکا وزیر اعلیٰ کراچی سے تعصب برت رہا ہے۔
پوسٹ انومیریشن آڈٹ تھرڈ پارٹی سے کروایا جائے کیونکہ اگر خرابی پیدا کرنے والے لوگ ہی یہ آڈٹ کریں گے تو پھرکچھ ٹھیک نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی افراتفری میں پوسٹ انومیریشن کی تاریخ گزرچکی ہے اورعوام نے ڈیجیٹل مردم شماری کے بعد کاغذ پر کوائف دینے سے منع کر دیاہے یہاں ایک طبقہ حکومت گرانے تو دوسرا بچانے میں لگا ہوا ہے کسی کو کوئی فکر نہیں کہ عوام کے ساتھ ہو کیا رہا ہے ادارہ شماریات کے جاری کردہ نمبرز کو ایم کیو ایم تسلیم نہیں کرتی اس سلسلے میں کنوینر ڈاکٹر خالدمقبول صدیقی نے وفاقی وزیربرائے منصوبہ بندی احسن اقبال سے رابطہ کر کے مردم شماری کے بعد ہونے والے سروے کی تاریخ میں اضا فے کا مطالبہ کیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ سندھ کے دیگر اضلاع میں ناقابل فہم اضافہ ہو رہا جبکہ کراچی و حیدر آباد میں 20فیصد کا فگر کراس نہیں ہو رہا، انہوں نے مزید کہا کہ 07 اپریل کو 98 فیصد سندھ کی آبادی کو گنے جانے کی خبریں اخبارات میں لگیں جس میں کراچی کی آبادی 1 کروڑ 33 لاکھ دکھائی گئی تھی اس دن کے بعد سے آج تک ہماری حکام بالا سے 55 سے زائد میٹنگز ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں تمام شواہد کے بعد56 لاکھ کی آبادی کا اضافہ ایم کیو ایم کی جدوجہد کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والوں کی اولادیں آج اپنی گنتی پوری نہیں کروا پارہے ہماری صوبائی حکومت اتنی متعصب ہے جو ہمیں صحیح گنے جانے کو تیار نہیں یہاں سندھ کا وزیر اعلی کراچی کو پانی دینے کے لئے وزیراعظم سے اضافی پانی کی مانگ کر رہا ہے جبکہ سندھ کی آبادی کا 50 فیصد یہاں موجود ہے، 90 فیصد ریونیو یہ شہر دیتا ہے اور اس مردم شماری میں شمار کنندگان نے لوگوں کو گنا نہیں ہے۔
ان ساری خرابیوں کو اگر ختم نا کیا گیا تو ایم کیو ایم اس مردم شماری کو نہیں مانے گی اگر ریاست اور اسکے اداروں کو شہری سندھ کو صحیح گنے جانے کی توفیق نہیں تو ہم سے اچھی توقعات نا رکھیں یہ لوگ ہیں، بھیڑ بکریاں یا جانور نہیں، انہیں حقوق نا ملے تو یہ اپنے عمل میں آزاد ہوں گے ہمیں سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نا چھوڑا جائے۔
صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں مصطفی کمال نے کہا کہ وزیر اعلی نے جیکب آباد، کشمور اور اندرون سندھ لوگوں کا اضافہ کروایا ہے جبکہ ہماری جانب سے منعقدہ متعلقین کی کانفرنس میں پلڈاٹ سمیت دیگر اہم اداروں کے افراد نے ہمارے موقف کو درست تسلیم کیا انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ وزیر اعلی کی نیت ٹھیک ہو لیکن نیچے اے سی ڈی سی کے کام ٹھیک نہیں ہیں زرداری صاحب کراچی کی 03 کروڑ کی آبادی کو آج بھی اون کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ڈرٹی ہیری، جانور اور دیگر برے القابات سیاستدان کہتے رہے ہیں یا دیگر لوگ؟15 سالوں تک شہریوں کو پانی سے محروم رکھنا، کیا اسٹیبلشمنٹ ایسا کر رہی ہے؟06 فیصد ووٹ لینے والی پیپلز پارٹی کے پاس شہر کا کوئی مینڈیٹ نہیں ہے۔