Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

صحت اور تعلیم کے منصوبے زیادہ مؤثر کیے جانے چاہئیں۔ روبینہ خالد

وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے صحت اور تعلیم سے متعلق پروگرام وقت کی ضرورت ہے۔ روبینہ خالد

0

کراچی (اسٹاف رپورٹر) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ وفاق کو مضبوط بنانے کے لیے صحت اور تعلیم سے متعلق پروگرام وقت کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز حکومت سندھ کے سماجی تحفظ محکمہ کے تحت سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی (ایس ایس پی اے) کے دفتر کے دورے کے موقع پر کیا۔

اس موقع پر وزیر محنت و افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے ان کا استقبال کیا۔ جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ایس ایس پی اے، ارشاد سودھر نے انہیں بریفنگ دی۔

اس موقع سماجی تحفظ محکمہ کے سیکریٹری، خادم حسین چنا، سنئیر پروجیکٹ مینیجر ذوالفقار مٹھانی جبکہ این ایس ای آر کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عاصم اعجاز، بی آئی یس پی سندھ کے ڈی جی عدنان الحسن، ٹیکنیکل کنسلٹنٹ بی آئی ایس پی محمد نعمان علی، نوید خان بی آئی ایس پی ہنر مند پروگرام سندھ کے آؤٹ ریچ کوآرڈینیٹر اور دیگر بھی موجود تھے۔ چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا بنیادی سپورٹ پروگرام وفاقی سطح پر برقرار رہنا چاہیے، تاہم صحت اور تعلیم کے منصوبے زیادہ مؤثر کیے جانے چاہئیں۔

سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی سندھ کے ساتھ ڈیٹا انٹیگریشن کا انتظام قائم کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا: “ہم سمجھتے ہیں کہ وفاق اس وقت مضبوط ہوگا جب صوبوں کے ساتھ مل کر سماجی تحفظ کے پروگرام چلائے جائیں گے۔

اس موقع پر صوبائی وزیر سعید غنی نے چیئرپرسن کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی آئی ایس پی کے ساتھ وسیع تر تعاون اور ڈیٹا شیئرنگ معاہدوں پر جاری غور و فکر کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس تعاون سے سندھ کے لاکھوں مستفیدین کو سماجی معاونت پروگراموں تک رسائی بہتر اور آسان ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ “ہم دیگر سندھ سرکاری محکموں کے ساتھ بھی ہم آہنگی کر رہے ہیں تاکہ ایک مرکزی ڈیٹا ذخیرہ قائم کیا جا سکے۔

اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر بی آئی ایس پی، عاصم اعجاز نے بتایا کہ سندھ میں تقریباً 9.8 ملین گھرانے ہیں جن میں سے 9.1 ملین بی آئی ایس پی رجسٹری میں درج ہیں۔ اس وقت 2.65 ملین گھرانے بینظیر کفالت پروگرام کے تحت غیر مشروط نقد امداد حاصل کر رہے ہیں۔

چیف ایگزیکٹو ایس ایس پی اے، ارشاد سودھر نے اجلاس کو بی آئی ایس پی اور نادرا کے ساتھ موجودہ ڈیٹا شیئرنگ پروٹوکولز کے بارے میں آگاہ کیا، جن کے ذریعے ممتا پروگرام کے تحت اندراج میں سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت سندھ کے 15 اضلاع میں 9 لاکھ 10 ہزار ماؤں کو رجسٹر کیا گیا ہے اور اب تک 40 لاکھ سے زائد اسپتال چیک اپ مکمل کیے جا چکے ہیں۔

Comments
Loading...