Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس پر ضرور بات کریں گے۔ سعید غنی

کیا سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے لئے بنی ہے۔ کوئی ایک جج اگر کسی کے عشق میں مبتلا ہے تو وہ بے شک مبتلا ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں

0

اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس پر ضرور بات کریں گے۔ سعید غنی

کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر محنت و افرادی قوت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ کیا سپریم کورٹ پی ٹی آئی کے لئے بنی ہے۔ کوئی ایک جج اگر کسی کے عشق میں مبتلا ہے تو وہ بے شک مبتلا ہو ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں لیکن سپریم کورٹ 17 ججوں کا پر مشتمل ہے۔ جج کو یہ بات اپنے دماغ سے نکال دینا چاہیے کہ ان کے بیوی اور بچے کس کو ووٹ دیتے ہیں۔ اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم اس پر ضرور بات کریں گے کیونکہ ہم نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی میں قرارداد پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے شہید ذوالفقار بھٹو پھانسی دی، 12 سال سے ریفرنس سپریم کورٹ میں پڑا ہوا ہے، ہم کہہ رہے ہیں اس ریفرنس سنیں اور فیصلہ کریں۔

سعید غنی نے کہا کہ تاحیات نا اہلی کیس میں اب عطا بندیال صاحب کہتے ہیں یہ کالا قانون ہے جبکہ انہوں نے ہی پہلے یہ فیصلہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جج کو دماغ سے نکال دینا چاہیے کہ ان کے بیوی اور بچے کس کو ووٹ دیتے ہیں، ایسے ججوں کو استعفی دے دینا چاہیے اور اس پارٹی جوائن کریں اور اسمبلی آجائیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اج ایوان میں جو قرارداد پیش کی گئی ہے یہ قرار داد تو آئین بنانے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کےلیے ہیں، انہوں نے کہا کہ جتنی سہولیات اور جتنا تیز ترین انصاف تحریک انصاف کو ملتا ہے ، وہ بھی اس آئین کے تحت مل رہا ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ ہمارے حلف میں لکھا ہے کہ میں آئین کی پاسداری کروں گا۔ ججز کے حلف میں ایک چیز مختلف ہے اور یہ وہ ہے کہ میں سپریم جوڈیشل کونسل کے کوڈ آف کنڈکٹ کو فالو کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ افتخار چودھری ، ثاقب نثار نے جو کچھ چیف جسٹس کے منصب پر بیٹھ کیا ۔ انہوں نے آئین کو وائلیٹ کیا۔سعید غنی نے کہا کہ اسی آئین میں لکھا ہے آپ فوج پر بات نہیں کرسکتے۔ اگر ججز آئین کو وائلیٹ کریں گے میں بات کروں گا۔ ہم نے اس آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے۔

اگر کوئی آئین کی خلاف ورزی کرے گا تو ہم بات کریں گے۔ سپریم کورٹ کے ججز خلاف ورزی کریں گے تو ہم اس پر بھی بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس منصور علی شاہ ، اطہر من اللہ ،مندو خیل اور دیگر کے کردار پر کوئی بات نہیں کرسکتا ہے۔ لیکن کیا تین ججز ملک کو چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ائین کا آرٹیکل 5 کہتا ہے ریاست سے وفاداری ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔انہون نے کہا کہ اس ملک میں مہنگائی اور موجودہ صورتحال کا ذمہ دار ایک شخص ہے۔ وہ کبھی امریکہ کو تو کبھی باجوا کو غلط کہہ کر بھونچال مچاتا ہے۔

ہم تو جب فوج غلط کررہی تھی تب بول رہے تھے۔ یہ ہمیں پکڑ کررہے تھے۔ آج جب فوج کہتی ہے ہم سیاست سے باہر ہیں تو عمران خان صبح شام کہتا ہے آپ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود اپنے ارکان کی فوجیوں کے سامنے پیشی کراتا تھا کہ وہ بجٹ پر ووٹ دیں۔ سعید غنی نے کہا کہ اگر بات کرنی ہے تو شہباز شریف ، بلاول بھٹو ، مولانا فضل الرحمن سے بات کریں۔ ہم بھی چاہتے ہیں کہ الیکشن ہوں اور شفاف انتخابات ہوں۔ ہم یہ چاہتے ہیں ان کو الیکشن لڑنے کا موقع ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آئین میں کہا لکھا ہے کہ عمران خان اسمبلی توڑ سکتا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ ریکارڈنگ موجود ہے کہ نقوی صاحب سے بات کی ہے، نقوی نے خود آپ کو پھنسوایا ہے ۔ عدالتی فیصلے لینے میں یہ خود پھنسے ہیں۔ سعید غنی نے کہا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کو غلط توڑا تھا۔ ان پر آرٹیکل 6 لگنا چاہیے تھا ۔ سعید غنی نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی ترمیم کسی بھی صورت عدالتوں میں چیلنج نہیں ہوسکتی ہے۔

Comments
Loading...