شدید گرمی میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بھاری بھرکم بل شہریوں کو بھیجے جارہے ہیں۔ علی خورشیدی
کے-الیکٹرک کی انتظامیہ رعونت کا لبادہ اتار کر عوامی نمایندوں سے بات کرے اور عوام پر جاری مظالم فلفور بند کرے۔ علی خورشیدی
شدید گرمی میں روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ اور بھاری بھرکم بل شہریوں کو بھیجے جارہے ہیں۔ علی خورشیدی
کراچی : کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن اور شاہ فیصل کالونی میں علاقہ مکینوں کی جانب سے کے الیکٹرک کے آفس کے باہر احتجاج کیا گیا۔احتجاج میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے منتخب رکن اسمبلی و سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف علی خورشیدی، رکن قومی و صوبائی اسمبلی آسیہ اسحاق، سکندر خاتون، سینیٹر خالدہ اطیب اور عبداللہ شیخ نے شرکت کی۔
احتجاج کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے علی خورشیدی نے کہا کہ کراچی کے شہری پورے پاکستان میں سب سے زیادہ مہنگی بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہیں اُس کے باجود شدید گرمی میں کراچی کے شہری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا عذاب جھیل رہے ہیں۔ کے الیکٹرک کی جامب سے روزانہ کی بنیاد پر بجلی کی گھنٹوں طویل لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ بھاری بھرکم بل بھی بھیجے جارہے ہیں، مہنگائی کے ستائے شہری لوڈشیڈنگ اور بوگس بلنگ سے تنگ آگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک عوامی ردِعمل کو دعوت دے رہی ہے جس کی ذمہ دار کے الیکٹرک کی انسانیت دشمن انتظامیہ ہے۔
علی خورشیدی نے مزید کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک پاکستان کا اتنا طاقتور ادارہ ہے جس کا کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا, ہم کے الیکٹرک کی انتظامیہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ اس دنیا کی کوئی طاقت عوامی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکی ہے، کے الیکٹرک کی انتظامیہ رعونت و تکبر کا لبادہ اتار کر عوامی نمایندوں سے بات کرے اور عوام پر جاری مظالم فلفور بند کرے۔ شاہ فیصل کالونی میں عوامی احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی آسیہ اسحاق نے کہا کہ کے الیکٹرک کے اپنے اہلکار بجلی چوری میں ملوث ہیں، مونس علوی سے کے الیکٹرک سنبھل نہیں رہا تو وہ استعفی دیں، غریب عوام بجلی کے حد سے بڑھے بل ادا کرنے میں زرا سی دیر کردیں تو کے-الیکٹرک کا رشوت خور عملہ بجلی منقطع کرنے پہنچ جاتا ہے لیکن کےالیکٹرک کے اہلکار بذات خود لوگوں سے رشوت کے عوض کنڈے ڈال رہے ہیں جس کے ہمارے پاس ثبوت موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مونس علوی کے الیکٹرک کو نہیں سنبھال پارہے تو ایم کیوایم کے الیکٹرک کو سنبھالنے اور چلانے کیلئے تیار ہے۔ آسیہ اسحاق نے احتجاجی مظاہرے کے دوران حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک کی اس بربریت کو مد نظر رکھتے ہوئے مزید کمپنوں کو بجلی کی فراہمی و سپلائ کا ٹھیکا دیا جائے۔ نیپرا کے قوانین میں ہے کہ 10 گھنٹوں سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جاسکتی مگر یہاں 18، 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ لی جارہی ہے۔ آج ایم کیوایم نے پورے کراچی کے مختلف مقامات پر کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔