ایم کیو ایم میں اب فیصلے کسی فردِ واحد کی پسند ناپسند پر نہیں بلکہ کارکنان کی اجتماعی مشاورت سے ہوں گے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
سینیٹ ٹکٹوں کی سرِعام منڈی لگانے والے تحریک کے نظم و ضبط اور نظریے سے غداری کے مرتکب ہوئے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
تحریک کو اب کرائے کے ماہرین کی نہیں بلکہ نظریاتی و فکری بنیادوں پر کام کرنے والے مخلص کارکنوں کی ضرورت ہے۔ چیئرمین ایم کیو ایم
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ کے چیئرمین و وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مرکز بہادر آباد پر ٹاؤن و یوسی کے ذمّہ داران کی تربیتی نشست سے فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کسی کی ذاتی جاگیر نہیں بلکہ یہ ان مخلص کارکنوں کے خون سے سینچی ہوئی امانت ہے جنہوں نے ہر مشکل دور میں تحریک کے نظریے کا پہرہ دیا، اب تنظیم میں فیصلے کسی ایک شخص کی مرضی سے نہیں بلکہ کارکنان کی مرضی اور “اجتماعی مشاورت” سے کیے جائیں گے کیونکہ اجتماعی قیادت ہی تحریک کی اصل طاقت ہے۔
انہوں نے حالیہ سینیٹ انتخابات کا تذکرہ کرتے ہوئے سخت الفاظ میں کہا کہ جس طرح سرِعام ٹکٹوں کی خرید و فروخت کی گئی وہ تحریک کے نظریاتی وجود پر حملہ تھا، تنظیم کو ایسی سرگرمیوں کا علم ہو چکا تھا اور غداری و ضمیر فروشی کرنے والوں کے لیے ایم کیو ایم میں اب کوئی جگہ نہیں۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا کہ ایم کیو ایم کو اب کسی “ایکسپرٹ” کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں ایسے نظریاتی ماہرین درکار ہیں جو تحریک کو فکری بلندی عطا کر سکیں، انہوں نے اپنی دہائیوں پر محیط تنظیمی جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کارکنان یاد رکھیں کہ ایم کیو ایم کی دعوتِ شمولیت دراصل اپنے آرام، گھر بار اور ذاتی مفادات کے “نقصان کا سودا” قبول کرنا ہے، لیکن جو کارکن قوم کی خاطر اس ذاتی نقصان کو بخوشی قبول کر لیتا ہے وہی اصل حق پرست ہے۔
ایم کیو ایم میں آنے کا ایک دروازہ اور جانے کے سو دروازے کھلے ہیں ہم کسی پر زبردستی کے قائل نہیں بلکہ مخلصانہ جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، تحریک اب اپنی صفوں کو ہر قسم کے مفاد پرستوں سے پاک کر رہی ہے، کارکنان کسی بھی افواہ یا پروپیگنڈے کا شکار ہونے کے بجائے اپنی تمام تر توانائیاں تحریک کے نظریاتی استحکام اور تنظیم کو اس کے اصل کی جانب واپس لے جانے میں صرف کریں۔
اس موقع پر مرکزی رہنماؤں شبّیر قائم خانی،ارشاد ظفیر، محمد ابو بکر، ارشد حسن، مسعود محمود سمیت انچارج فرقان اطیب و اراکین سی اؤ سی بھی موجود تھے۔