ایک سال کے دوران کراچی واٹر بورڈ نے کراچی میں 32 ہزار سے زائد مین ہول کورز لگائے ہیں۔ سعید غنی
شاہ فیصل کالونی میں کھلے مین ہول میں گرنے سے بچے کی ہلاکت پر ہمیں شدید افسوس ہے لیکن اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لئے حکومت اور اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ سعید غنی
ایک سال کے دوران کراچی واٹر بورڈ نے کراچی میں 32 ہزار سے زائد مین ہول کورز لگائے ہیں۔ سعید غنی
کراچی (اسٹاف رپورٹر) وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں کھلے مین ہال میں گرنے سے بچے کی ہلاکت پر ہمیں شدید افسوس ہے لیکن اس طرح کے واقعات کے روک تھام کے لئے حکومت اور اداروں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک سال کے دوران کراچی واٹر بورڈ نے کراچی میں 32 ہزار سے زائد مین ہال کورز لگائے ہیں، جبکہ ایک اندازے کے مطابق شہر میں تقریبا 4 لاکھ سے زائد مین ہال ہیں۔ ہم نے تمام یوسیز کے فنڈز میں اضافہ کے بعد انہیں ہدایات دی ہے کہ گوکہ مین ہالز کورز ان کی ذمہ داری نہیں لیکن وہ کم سے کم 50 سے 100 مین ہال کورز بنا کر رکھیں تاکہ ان کی یوسی میں فوری کھلے مین ہال کا سدباب ہوسکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی جانب سے شاہ فیصل کالونی میں بچے کی کھلے مین ہال میں گرنے سے ہلاکت کے سوال کے جواب میں کیا۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے اوع اس طرح کے پہلے بھی واقعات ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بچہ کسی کا بھی ہوسکتا ہے اور حکومت کبھی نہیں چاہتی کہ اس طرح کے واقعات ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ مین ہالز پر ڈھکن لگائے جاتے ہیں اور دوسرے روز یا تو ان کو توڑ دیا جاتا ہے یا پھر چوری کرلئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں جس لائن پر یہ مین ہال بنا ہوا تھا وہ 48 انچ کی سیوریج لائن تھی اور اس پر مین ہال کا ڈھکن کیوں نہیں تھا یا کب سے نہیں تھا اس کی لازمی انکوائری کروائی جائے گی۔
سعید غنی نے کہا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران واٹر بورڈ نے شہر میں 32 ہزار مین ہال کے ڈھکن لگائے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق شہر میں 4 لاکھ مین ہالز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یوسیز کے فنڈز میں اضافہ کیا تو انہیں پابند کیا ہے کہ گوکہ مین ہال کور ان کی نہیں واٹر بورڈ کی ذمہ داری ہے لیکن وہ اپنی یوسی میں 50 سے 100 مین ہال ڈھکن بنوا کر رکھیں تاکہ اگر کسی جگہ ضرورت پڑے تو فوری ڈھکن لگایا جاسکے۔ سعید غنی نے کہا کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مین ہالز کے ڈھکن میں موجود سریا چوری کرنے کے لئے یا تو ان کو توڑ دیا جاتا ہے یا پھر اس کو چوری کرلیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، اداروں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی اس میں اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی اور اگر ان کے سامنے کوئی ڈھکن توڑتا یا چوری کرتا ہے تو وہ اس کو روکیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آئی ہیں کہ اس طرح کی کارروائی پر آس پاس کی عوام خاموش بنی رہتی ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں شہر کی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے ڈھکن توڑنے یا چوری کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں۔