جماعتِ اسلامی نے کراچی میں پانی کی بندش پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان
کراچی کے لوگوں سے پیپلزپارٹی کے لیے نفرت کا انتقام لیا جا رہا ہے
جماعتِ اسلامی نے کراچی میں پانی کی بندش پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ حافظ نعیم الرحمان
کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا پریس کانفرنس سے خطاب۔ حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اِس وقت شہر میں پانی کا بہت بڑا کرائسس ہے۔ بجاۓ اِس مسلئے کا حل نکالا جاتا ، سندھ حکومت کے سرپرستی سے جو ہائیڈریٹ چل رہے ہیں انہیں بند کیا جاتا۔ قبضہ مئیر کراچی نے اورنگی ، نارتھ کراچی کا پانی بند کردیا۔ جس طرح کربلا میں پانی بند کیا گیا تھا اس پر کل ہر جگہ محافل ہورہی تھی اس ہی دوران قبضہ مئیر نے کراچی کے بڑے حصے کا پانی بند کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے لوگوں سے پیپلزپارٹی کے لیے نفرت کا انتقام لیا جا رہا ہے۔ لوگ کل پانی کی بندش کی وجہ سے سراپا احتجاج تھے۔ جماعتِ اسلامی نے کراچی میں پانی کی بندش پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔ انتقامی سیاست ہم کبھی نہیں چلنے دیں گے۔ پانی کی بندش کیخلاف ہم کل دس مقامات پر دھرنا دیں گے۔ 4 اگست کو واٹر بورڈ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اربوں روپے حب ڈیم کی لائن پر خرچ ہوچکے ہیں۔ اِس ہی حکومت میں 15 سال سے مئیر کراچی مختلف عہدوں پر فائز رہے ہیں ہے اور اب ہمیں مسائل گنوا رہے ہیں۔ سرجانی والوں سے ووٹ نا دینے کا انتقام لیا جا رہا ہے۔ کل ہم کراچی کے 10 مقامات پر احتجاج کرینگے۔ 4 اگست کو واٹر بورڈ کے باہر احتجاج کرینگے۔ ناجائز ہائیڈریٹ کو بند کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کس سے سوال کرتے ہیں بلاول صاحب۔ پانی بند کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں پانی پورا نہیں ہورہا۔ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ بجلی مہنگی کردی گئی۔ 50 روپے فی یونٹ پر غریب عوام کیا کرے۔ کراچی میں میڈل کلاس لوگ رہتے ہیں۔ زراعت پر ٹیکس لگانے کے بجائے بجلی کی قیمت میں ناجائز اضافہ کردیا گیا۔ ابھی لوگوں کے لئے بل بھرنا مشکِل ہوگیا ہے۔ 7 روپے اضافے کے بعد لوگ کیا کرے مر جائیں، اپنی عیاشیوں پر قابو نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے ان عیاش پرستوں کے لیے نئی گاڑیاں لینے کی منظورِ ی دے دی گئی ہے۔ ان پر ٹیکس کیوں نہیں لگتا ان جاگیرداروں پر ٹیکس کیوں نہیں لگتا۔ ان کی عیاشی کا ملبہ غریب عوام پر ڈالا جارہا ہے۔ عوام کو اٹھنا پڑےگا اپنے حقوق کے لئے۔ آپس میں عوام نہ لڑے یہاں کوئی مہاجر سندھی مسلہء نہیں یہاں کوئی شیا سنی کا مسئلہ نہیں۔ سب یکجا ہوکر اپنے مسائل پر آواز اٹھائیں۔ پانی کے اِس بحران پر ہم ہر گز خاموش نہیں رہینگے۔ کل ہم بروز 31 جولائی کو احتجاج کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جتنے ٹاؤن چیئرمین ہیں سب عوام کو احتجاج کے لئے اکٹھا کرینگے۔ ایم کیو ایم ایک مرتبہ پھر سے سندھ حکومت کے ساتھ مل کر فرینڈلی نگراں حکومت بنانے جارہی ہے۔ ایم کیو ایم پہلے بھی ان وڈیروں کے ساتھ مل کر شہرِ کراچی مسائل پر سمجھوتہ کرتی رہی۔ سندھ اسمبلی میں جو کچھ ہوا قابل مذمت ہے۔ اب یہ دونوں مل کر ایسی نگراں حکومت بنانا چاہتے ہیں جو ان کی اشارے پر چل سکیں۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی جے یو آئی (ف) کے جلسے میں بم دھماکہ کی شدید الفاظ میں مذمت۔ جمعیت علماء اسلام کے جلسے میں دھماکہ کھلی دہشتگردی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن کا جمعیت علماء اسلام کے کارکنان کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کے لئے جلد صحت یابی کے لیے دعا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ بم دھماکے کی فی الفور اور مکمل تحقیقات کروائی جائے۔ ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔