اس شہر پر دو تین ہزار ووٹ لینے والے مسلط کردیے گئے۔ منعم ظفر خان
امیر جماعت اسلامی منعم ظفر خان کی ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس
اس شہر پر دو تین ہزار ووٹ لینے والے مسلط کردیے گئے۔ منعم ظفر خان
کراچی : منعم ظفر خان، امیر جماعت اسلامی کراچی نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دو تین موضوعات پر آج گفتگو کرنی ہے۔ پانچ فروری پوری دنیا میں یوم یکجحتی کشمیر بنایا جاتا ہے۔ آج صبح پینتیس سال قبل مرحوم قاضی حسین نے سب کو اس تحریک میں کھڑا کیا۔ 1947 میں ایک سازش کے تحت بھارت نے کشمیر پر قبضہ کرلیا۔ اپنے فوجیں داخل کی، غیور قبائلی عوام نے آگے بڑھ کر بھارتی فوج کا مقابلہ کیا۔ بھارت یہ کشمیر کا مسئلہ عوام متحدہ میں لے گیا۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو رائے شماری کا حق دیا۔ لیکن آج تک اقوام متحدہ اس پر عمل درآمد نا کروا سکا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ہنوز موجود ہے، کشمیری ایک لاکھ مسلمانوں بے جانیں دی۔ اس پوری جدوجھد میں نوے کی دہائی میں تیزی آئی۔ بھارت کی آٹھ لاکھ سے زائد افواج کشمیر میں موجود ہے۔ سید علی گیلانی کی قیادت میں مزاحمت کی شمع روشن کی۔ کشمیر کے طول و عرض میں بھرتیوں سے سید علی گیلانی کی تربیت کی وجہ سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ مودی نے اپنے نظریہ کے تحت پانچ اگست کو ریاستی خود مختاری پر قبضہ کرلیا۔ نوجوانوں نے آگے نکل کر احتجاج کیا لیکن اُنہیں بلٹ گنز سے نشانہ بنایا گیا۔ اقوام متحدہ خاموش بیٹھی ہوئی ہے۔ ایک جانب کہتے ہیں قوموں کو آزادی حاصل ہیں لیکن کشمیریوں کے لیے کچھ نہیں کیا۔ آج مغرب امریکہ کی قیادت کی فلسطین کی دشمن بنی ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کشمیر سے دستبرداری پاکستان کے موقف ساٹ غداری کے مترادف ہے۔ بھارت سے کشمیریوں کے خون پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔ کوئی حل ہے تووہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں رائے شماری ہے۔ جماعت اسلامی پورے پاکستان کی اظہار یکجحتی کر رہی ہے۔ پانچ فروی کو جیل سے کورنگی سے مزار قائد لیاقت بلوچ کی قیادت میں ریلی نکالی جائے گی۔ پوری قوت کے ساتھ کشمیر کا مقدمہ لڑتے رہیں گے۔ اہل کراچی سے اپیل کرتا ہوں اس ریلی میں بڑی تعداد میں شرکت کریں۔ آج سے دو دن قبل سندھ اسمبلی نے جامعات کی خود مختاری پر ضرب لگائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پورے صوبے میں تعلیم پر وار کر رہی ہے۔ یونیورسٹی ایکٹ کی صورت جامعات پر حملہ کیا گیا۔ اساتذہ اپنے حق کے لیے آواز بلند کرتے رہے لیکن پیپلز پارٹی کی جعلی جمہوری حکومت نے مذاکرات تک نہیں کیے۔ یہ صرف جامعہ کراچی کے نہیں پورے سندھ کے اساتذہ احتجاج کر رہے ہیں۔ جامعہ کراچی میں ایوننگ میں 20 شعبہ بند ہوچکے ہیں۔ تین تین ماہ سے لوگوں کو سیلری نہیں ملی ہے۔ کنٹریکٹ کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کیا جائے گا۔ پھر پیسوں کو دھندا چلے گا۔ آپ بیوروکریٹ کو وائس چانسلر بنائیں گے۔ اس کے لیے کوئی تعلیمی بیک گراؤنڈ ہونا لازمی نہیں، ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم استاذہ اور طلبہ کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نہ پیکا ایکٹ پر دستخط کیا۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، نون لیگ نے مل کر آزادی صحافت کا گلا گھونٹا۔ ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کر رہے ہیں لیکن نورا کشتی کر رہے ہیں۔ گذشتہ سال الیکشن میں ڈاکہ ڈالا گیا۔ اس شہر پر دو تین ہزار ووٹ لینے والے مسلط کردیے گئے۔ پہلے قوانین پاس کرتے ہیں جیسے باجوہ کو توسیع دینے ہو۔ ماشاء اللہ سے اس میں تحریک انصاف بھی شامل ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا شہر کی بہتری کے کیے ایم کیو ایم سے بات کرینگے۔ لیکن آپ اسے پہلے ہی تباہ کرحکے ہے۔ چارجڈ پارکنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کہاں استعمال ہورہی ہے۔ موٹر وہیکل ٹیکس کہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ٹاؤنز کو اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں۔ نعمت اللہ صاحب کے دور میں بلا تخصیص فنڈز دیے۔ پہلے دوسرے سال پینتیس لکش اور تیسرے 64 لاکھ یونین کونسل کو دیے۔ ہمارا مطالبہ ه ہر ٹاؤن کو کم از کم دو ارب دیجئے۔ ہر یونین کونسل کو کم از کم پانچ کروڑ دیجئے۔ یہ بارہ لاکھ کیا ہوتا ہے،۔ ایک وزیر نے کہا بسوں کے کراے میں اضافہ کر رہے ہیں کا اس سے بیسن خریدیں گے۔ کراچی کو تین ہزار بسوں کی ضرورت ہے آپ نے اب تک تین سو بسیں دی ہیں۔ آپ نے کراچی کو چنگچی تک پہنچا دیا ہے۔ یہ بھی پیپلز پارٹی کا تحفہ ہے۔ گزشتہ مہینے پینتالیس لوگ اپنی جان سے چلے گئے۔ اس میں پانچ لوگ ڈکیتی کہ دوران قتل کیے گئے۔ کون ہے اسکا زمہ داری کوئی بتائیں گا۔
انہون نے کہا کہ پولیس اور رینجرز اس شہر میں موجود ہے۔ یہ کنٹرول کرنا قانون نافذ کرنے والے اداروں کی زمہ داری ہے۔ بچوں کو روزآنہ اغواء کیا جا رہا ہے۔ گارڈن سے 14 جنوری کو بچوں کو اغواء کیا گیا آج تک نہیں ملے۔ انکے والدین احتجاج کرتے ہیں، صوبائی حکومت انکے گھر تک نہیں گئی۔ اس ساری صورتحال کا سدباب ہونے چاہیے۔ پیپلز پارٹی یہ سارے کام کرنے کے کیے تیار نہیں ہے۔ کراچی کے نوجوانوں کو ریلیف دینے کے کیے کام کر رہے ہیں۔