کے-الیکٹرک نے ماہانہ قسط کرنے کا سسٹم ہی ختم کردیا۔ جتنا بھی بل ہو پورا جمع کرانا ہوگا۔
کے-الیکٹرک نے ماہانہ قسط کرنے کا سسٹم ہی ختم کردیا۔ جتنا بھی بل ہو پورا جمع کرانا ہوگا۔
بلاگ پوسٹ : کراچی شہر میں مختلف زبان بولنے والے موجود ہیں۔ جو جہاں رہتے اور کماتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں پاکستان پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی بھی موجود ہے۔ دیگر جماعت بھی ہیں لیکن وہ اتنی زیادہ تعداد میں نہیں جتنی کہ یہ 4 جماعتیں ہیں۔ لیکن کراچی شہر میں رہنے والوے پریشان ہی نظر آتے ہیں۔ ان جماعتوں کے لیڈربات کرتے ہیں، احتجاج کرتے ہیں، دھرنے دیتے ہیں، لیکن اس کا نتیجہ کچھ بھی سامنے نہیں آتا ہے۔
حال ہی میں ایک صاحب نے اپنے گھر کا مئی کا بل جمع نہیں کیا۔ جون کا بل اس کے ساتھ لگ کر آیا۔ جو تقریبا 40 ہزار کے قریب تھا۔ اس بل پر لکھا ہوا تھا کہ بل جمع نا کرنے کی صورت میں بجلی کاٹ دی جائے گی۔ ایک ساتھ 40 ہزار جمع کرانا کافی مشکل ہوجاتا ہے آج کل کی مہنگائی کو دیکھ کر۔
ان صاحب نے کے-الیکٹرک کے آفس جاکر بل کی دو قسط کرانی چاہی۔ لیکن کے-الیکٹرک کے وہاں موجود لوگوں نے صاف منع کردیا کہ اس بل کی قسط نہیں ہوسکتی ہے۔ آپ کو کچھ بھی کرکے پورا بل جمع کرانا ہوگا۔ دوسری طرف ابھی بل پر لکھی ہوئی آخری تاریخ مین 2 دن باقی تھے کہ کے-الیکٹرک کی ٹیم بجلی کاٹنے ان کے گھر آگئی۔ انکا کہنا تھا کہ ہمیں آڈر ہے کہ جس نے پچھلا بل جمع نہیں کرایا ہے اس کے لئے کوئی آخری تاریخ نہیں یا تو آپ آج ہی بل جمع کرایں ورنہ ہم کل آپ کی بجلی کاٹ دیں گے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ عوام کے لئے کون میدان میں آئے گا؟؟ کون ان عوامی مسائل کو اسمبلی میں ناصرف اٹھائے گا بلکہ اس پر کوئی ایکشن بھی کرائے گا جو عوام کے حق میں ہو۔ سیاسی تنظیم عوام کو سہولت فراہم کرنے کی بات کرتی ہیں لیکن اس پر کوئی عمل درآمد نہیں ہوتا بس وہ اپنی سیاست چمکا کر آگے بڑھ جاتی ہیں۔