آج پورے پاکستان میں مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ منعم ظفر خان
پیپلزپارٹی کی صوباءی حکومت نے کے-الیکٹرک اور نیپرا کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے۔ منعم ظفر خان
کے-الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں کا جینا مشکل کردیاہے۔ منعم ظفر خان
کراچی : امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر مہنگی بجلی ، طویل لوڈ شیڈنگ اور عوام دشمن بجٹ کے خلاف ملک گیر احتجاج کے سلسلے میں امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا کالا پل محمودآباد پر مرکزی احتجاجی مظاہرے سے خطاب۔
انہوں نے کہا کہ آج پورے پاکستان میں مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ کراچی میں شہری بجلی کے بلوں میں اضافے اور طویل لوڈ شیڈنگ کے باعث سراپا احتجاج ہیں۔ پیپلزپارٹی کی صوباءی حکومت نے کے الیکٹرک اور نیپرا کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے۔ کے الیکٹرک ظلم کی داستاں پیش کررہی ہے، کے الیکٹرک نے کراچی کے شہریوں کا جینا مشکل کردیاہے۔ کے الیکٹرک 1994 میں سرکاری تحویل میں تھا اور منافع بخش ادارہ تھا۔ وقت کے آمر اور سابق جنرل پرویز مشرف نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر فروخت کردیا ۔ جب کے ای ایس سی کو فروخت کیا تو شہریوں کو سنہرے خواب دکھاءے گءے۔ جب کے ای ایس سی کو نجی تحویل میں دیا گیا تو معاہدہ کیا گیا تھا کہ ہم لوڈشیڈنگ ختم ،سستی بجلی فراہم کی جاءے گی۔
انہوںنے مزید کہا کہ 2005 میں پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کے ساتھ مل کر دوسری بار فروخت کیا۔ کراچی کے صارفین پر فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز، فکس سر چارجز سمیت دیگر چارجز لگاءے جارہے ہیں۔ کراچی میں میٹرک اور انٹر کے امتحانات ہورہے ہیں لیکن کوءی کے الیکٹرک کو پوچھنے والا نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی سے کہا جاتا ہے کہ جماعت اسلامی کے الیکٹرک کی دشمن ہے۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہم کے الیکٹرک کے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم کسی صورت میں بھی اضافی سرچارجز قبول نہیں کریں گے۔ 2005 میں کے الیکٹرک کو کھمبوں کی قیمت میں فروخت کیا گیا اور خریدنے والوں نے تانبے کے تاروں کو بھی چوری کرلیا۔
انہوں نے کہا کہ جب کے ای ایس سی کو نجی تحویل میں دیا گیا اس کے بعد سے کے اب تک کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ نہیں کیا۔ آج اہل کراچی مطالبہ کررہے ہیں کہ کے الیکٹرک کا لاءسنس منسوخ کیا جائے۔