ہمدرد ہاتھ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت فلسطینیوں کے نہتے مسلمانوں سے یکجہتی کے لئے مارچ نکالا گیا
مارچ کا آغاز کلفٹن کلاک ٹاور سی ویو سے ہوا۔
ہمدرد ہاتھ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت فلسطینیوں کے نہتے مسلمانوں سے یکجہتی کے لئے مارچ نکالا گیا
کراچی (اسٹاف رپورٹر) ہمدرد ہاتھ ویلفیئر فاؤنڈیشن کے تحت فلسطینیوں کے نہتے مسلمانوں سے یکجہتی کے لئے مارچ نکالا گیا۔ مارچ کا آغاز کلفٹن کلاک ٹاور سی ویو سے ہوا۔ اس موقع پر متعدد این جی اوز اور فلسطین کے لئے کام کرنے والی ایسوسی ایشنز اور جماعتوں کے رہنمائوں اور کارکنان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
مارچ میں الخدمت، رحمت کرم، فلسطین فاونڈیشن، امید کا اجالا، سندھو نامہ سمیت دیگر آرگنائزیشن نےحصہ لیا۔ اس مارچ میں بڑی تعداد میں تاجر اور صنعتکار برادری نے اپنی فیملی کے ساتھ شرکت کی اور فلسطین کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ مارچ کے شرکاء نے اپنے ہاتھوں میں فلسطین کے پرچم تھامے ہوئے تھے اور انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف نعرے لگائے۔ مارچ میں شامل نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی اس موقع پر موجود تھی اور شرکاء نے مظلوم فلسطینی بھائی، بہنوں، بچوں اور بزرگوں کی مدد کے لئے بڑی تعداد میں فنڈز بھی دئیے۔
اس موقع پر ہمدرد ہاتھ کے سید رافع علی قندھاری، عمیر زبیر، حظیفہ حیدر، انیق حنیف و دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت امت مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک آواز ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت لاکھوں کی تعداد میں فلسطینی بھائی بہن بے سرو سامان کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور عالم اسلام کی خاموشی لمحہ فکریہ ہے۔
عمیر زبیر نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس ملک کا نوجوان اپنے فرض کو سمجھے اور اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمدرد ہاتھ ویلفیئر فاؤنڈیشن رواں سال اب تک ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد کی اپنے ان فلسطینی مظلوموں کی مختلف طریقے سے مدد کرچکی ہے۔ جس میں ادویات، کھانے پینے کی اشیاء، بچوں اور خواتین کی ضروریات کا سامان و دیگر شامل ہے۔
جبکہ ہمدرد ہاتھ کے تحت کھانے کا ایک کچن بھی 24 گھنٹے وہاں کام کررہا ہے۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے مظلوم فلسطینی بھائی بہنوں کا سہارا بنیں اور جس طرح آج ہمدرد ہاتھ ویلفیئر فاؤنڈیشن نے تاجروں، صنعتکاروں اور نوجوانوں کے ساتھ مل کر یہ مارچ اور فنڈ ریزینگ کا کام کیا ہے اس کو مزید بڑھانا ہوگا تاکہ ہم زیادہ سے زیادہ اور جلد از جلد اپنے مسلمان فلسطینیوں کی مدد کرسکیں۔