ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیو ایم ہے جو سندھ کے شہری علاقوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
الیکشن کمیشن کے چند افسران نے انتخابی فہرستیں ایسی بنائی ہیں کہ لوگ پورا دن پولنگ اسٹیشن ڈھونڈتے پھریں گے،ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیو ایم ہے جو سندھ کے شہری علاقوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے پچھلے پانچ سال شہر کے امن کو خراب نہیں ہونے دیا ہے اور پچھلے پانچ سالوں میں شہری سندھ کے عوام کی ایک موثر آواز ثابت ہوئی ہے جبکہ درجن بھر لوگ ایم کیو ایم لندن کے نام پر اس شہر کا امن خراب کرنا چاہتے ہیں۔
ایم کیو ایم لندن کے نام سی نکالی جانے والی ریلی سے جو تاثر پھیلایا جارہا ہے وہ ایک سازش نظر آتی ہے، جو لوگ اس سازش کا شکار ہوکر اس شرارت کا حصہ دار بن رہے ہیں اُن سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شہر کے امن کے خلاف حصہ دار نہ بنیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد سے متصل پارک میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، ڈپٹی کنوینر انیس قائمخانی، اراکین رابطہ کمیٹی اور حق پرست اراکین اسمبلی موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان نے 22 اگست 2016 کو پاکستان کے نعرے کی خاطر اپنی لیڈرشپ کو خیرباد کہا تھا اور اپنے شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا، ایم کیو ایم پاکستان ہی ایم کیو ایم ہے جو سندھ کے شہری علاقوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ مردم شماری میں شہری سندھ بلخصوص کراچی کے ساتھ ہاتھ کیا جانا تھا مگر ایم کیو ایم پاکستان نے اُس کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کردیا جس کی وجہ سے اتنی بڑی زیادتی نہ ہوسکی جس کا منصوبہ تھا۔
ایم کیو ایم پاکستان کی عملی جدوجہد سے خائف عناصر شہر کا امن تباہ کرنا چاہتے ہیں کیوں کہ ایم کیو ایم پاکستان اُن کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے اسی لئے بار بار وہ آواز جو ہمیشہ کراچی مین ایک اندیشہ اور خطرے کا احساس پیدا کرتی تھی اسکو ایڈریس کرنے کے بجائے ایم کیو ایم ہی نشانے پر ہے۔
کراچی کے عوام ایسی کسی سازش کا شکار نہ ہوں جس کے نشانے پر خود اُن کی اپنی جماعت ایم کیو ایم ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پرانی مردم شماری اور حلقہ بندیوں پر انتخابات ناقابلِ قبول ہیں، اس شہر کے خلاف مسلسل سازشیں کی جارہی ہیں جس کے ثبوت ہم وفاق کو دیتے آرہے ہیں ووٹر لسٹوں میں ایک بڑے منصوبے کے تحت الیکشن کمیشن کے چند افسران نے ووٹر لسٹ ایسی بنائی ہے کہ لوگ پورا دن پولنگ اسٹیشن ڈھونڈتے ہوئے گزر جائے گا۔
وہ شہر جس کے چلنے سے اس ملک کی معیشت وابستہ ہے کوشش یہی رہی کہ امن قائم رہے لیکن انصاف کے بغیر امن قائم نہیں رہ سکتا، ہم وفاق سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے کئے جائیں، یہ شہر صاف و شفاف مردم شماری، حلقہ بندی اور انتخابات چاہتا ہے۔ 2018 کے بعد ہم دونوں حکومتوں سے کیے جانے والے مطالبے اب تک پورے نہیں کئے گئے، ہمارے مطالبات میں ایک مطالبہ مردم شماری اور صحیح حلقہ بندیاں ہیں دوسرا ہمارے لاپتہ کارکنان کی بازیابی کا ہے۔
اس شہر میں حلقہ بندیاں لسانی تفریق سے کی گئیں ہیں اسے الیکشن سے پہلے ٹھیک کیا جانا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات وقت پر ہونے چاہیے لیکن شفاف انتخابات نئی مردم شماری، نئی حلقہ بندیوں اور نئی ووٹر لسٹوں پر ہونے چاہیے۔وفاقی حکومت اور خاص طور پر مسلم لیگ ن سے بھی مخاطب ہیں کہ ہم نے آپکا مشکل وقت میں ساتھ دیا اور ہم آپ کے براہ راست اتحادی ہیں، مسلم لیگ ن کی ذمہ داری ہے کہ الیکشن سے لیکر دیگر اہم معاملات پرہمیں اعتماد میں لے، شفاف الیکشن کے لیے ایک غیر جانبدار نگراں حکومت ہو۔
ہماری رائے کے بغیر کوئی بھی فیصلہ کیا جائے گا تو وہ ہمارے حق پر ڈاکہ مارنا تصور کیا جائے گا ہم نے موجودہ اور سابقہ حکومتوں سے جو وعدے کیے تھے وہ سو فیصد پورے کیے تھے لیکن ایم کیو ایم ابھی بھی اتحادیوں کے وعدے پورے ہونے کی منتظر ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مردم شماری کے بعد 56 لاکھ لوگوں کو ایم کیو ایم نے گنوایا جنہیں گنا ہی نہیں گیا تھا,ایم کیو ایم نے ثبوت شواہد کے بعد 56 لاکھ لوگوں کو گنوایا کراچی کی مردم شماری میں 56 لاکھ لوگ لاپتہ کردیے گئے تھے۔