شہد کا ہے مقام کیسا افق کے اس پار جا کے دیکھو۔۔۔ حیات تازہ کے کیا مزے ہیں ذرا یہ گردن کٹا کہ دیکھو
امت مسلمہ کے عظیم لیڈر جہاد فی سبیل اللہ کے علمبردار، یہود کی آنکھ کا سب سے بڑا کانٹا، فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ منیب وسیم
شہد کا ہے مقام کیسا افق کے اس پار جا کے دیکھو۔۔۔ حیات تازہ کے کیا مزے ہیں ذرا یہ گردن کٹا کہ دیکھو
کراچی : نارتھ ناظم آباد یوسی 2، وارڈ 1 کونسلر منیب وسیم نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ شہد کا ہے مقام کیسا افق کے اس پار جا کے دیکھو۔۔۔ حیات تازہ کے کیا مزے ہیں ذرا یہ گردن کٹا کہ دیکھو۔ امت مسلمہ کے عظیم لیڈر جہاد فی سبیل اللہ کے علمبردار، یہود کی آنکھ کا سب سے بڑا کانٹا، فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہانیہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون اللہ
انہوں نے مزید کہا کہ غریق رحمت کرے۔ اسماعیل ہانیہ کی شہادت امت مسلمہ کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، اسرائیلی قصاب یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی درحقیقت مزاحمت کو ایک اور سنگ میل مل گیا ہے۔ زخموں سے بدن گلزار سہی۔۔ تم اپنے شکستہ تیر گنو۔۔ خود اہل ترکش کہہ دیں گے۔۔ یہ بازی کس نے ہاری ہے۔۔۔ یہ بازی خون کی بازی ہے۔۔ یہ بازی تم ہی ہارو گے ۔۔ ہر گھر سے اسماعیل نکلے گا۔۔ تم کتنے اسماعیل مارو گے۔۔ دو ریاستی حل کی جے جےکار کرنے والے ہمارے حکمران اور لنڈے کے لبرل طبقے پر ایک اور سوال کھڑا ہوتا ہے کہ اب کہاں ہے آپ کی امن پسندی؟؟ کہاں ہے آپ کا دو ریاستی حل؟؟
انہون نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور جارحانہ نسل کشی میں کوئ کمی نہیں آئ جس کا واضع مطلب یہ ہے کہ تمام عالمی ریاستیں ایک پیج پر ہیں یعنی مظلوم فلسطینیوں کی نسل کشی اور گریٹر اسرائیل کا قیام۔ افسوس اس بات پر ہے کہ 57 اسلامی ممالک بشمول پاکستان کے حکمران اور ان کی افواج بھی مغلوب ہیں اور ظاہری یا غائبانہ طور پر اس پیج پر جمع ہیں۔ اب وقت آچکا ہے کہ پاکستانی حکمران اپنی نام نہاد اخلاقی حمایت سے بڑھ کر قدم اٹھائیں اور اسرائیل کو لگام دیں۔ پاکستانی افواج پر مبنی امن دستہ فلسطین روانہ کریں اور مظلوموں کی اعانت کریں۔