Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

​پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت کی مزید کوئی گنجائش باقی نہیں رہی، نئے انتظامی یونٹس کا قیام اب اس ملک کا مقدر بن چکا ہے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

اب ظالموں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کا وقت آچکا ہے، 29 نومبر بروز اتوار کو شاہراہ فیصل کی جانب تاریخی قافلہ نکلے گا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

0

​ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کیں، سندھ سمیت چاروں صوبوں میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کیلئے آئین کے تحت ریفرنڈم کروایا جائے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے تحت پی آئی بی گراؤنڈ کے ایم سی پارک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ایسٹ کا جنرل ورکرز اجلاس منعقد کیا گیا۔ جس کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ مجید سے کیا گیا۔ اجلاس میں چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار، سابق میئر کراچی و سینئر رہنما وسیم اختر، سینئر مرکزی رہنما سید امین الحق، اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی، اراکین سی او سی، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی،انچارج ڈسٹرکٹ ایسٹ، مختلف ٹاؤن انچارجز اور ارکان کمیٹی سمیت کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان و وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے ضلع شرقی کے کارکنان، ماؤں اور بہنوں کو سلامِ تحسین اور شاباش پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب ظالموں اور جابروں کے خلاف مظلوموں کی صف بندی کا وقت آچکا ہے. پاکستان کے وسائل اور اقتدار کو گلی محلوں تک پہنچانا ہے اور ہمیں ایسی جمہوریت کی ہرگز ضرورت نہیں جس کے ثمرات عام پاکستانیوں تک نہ پہنچیں. پاکستان سے خاندانی حکومتوں اور جاگیردارانہ جمہوریت کا خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ ایسا ایوان جہاں مزدوروں کی نمائندگی سرمایہ دار کرے وہ جمہوریت نہیں کہلا سکتی اور ہماری نمائندگی کا حق صرف اور صرف مڈل کلاس کے نمائندوں کو حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چالیس پینتالیس سال پہلے طلبہ تحریک نے نئے صوبے کا مطالبہ کیا تھا جو آج پورے ملک بالخصوص سندھ کے شہری علاقوں کی آواز بن چکا ہے۔ جو لوگ پوچھتے ہیں کہ آپ کا صوبہ کہاں بنے گا ان کو ہمارا واضح جواب ہے کہ ہم اپنے حصے کی زمین اس دھرتی پر ساتھ لائے تھے۔ ہم نے ہندوستان میں اپنی زمینیں پاکستان کے نام پر قربان کی تھیں اور پاکستان میں غیر مسلموں کی چھوڑی ہوئی متروکہ جائیدادیں قانونی طور پر ہماری ہیں، 30 ستمبر 1986ء کو حیدرآباد میں مہاجروں کا قتل عام کیا گیا، سانحہ سہراب گوٹھ اور قصبہ علی گڑھ جیسے المناک سانحات برپا کیے گئے لیکن یہ تحریک پھر بھی نہیں رکی اور مسلسل آگے بڑھتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ 29 نومبر بروز اتوار کو شاہراہ فیصل کی طرف ایک پرعزم قافلہ نکلے گا جس کے نکلتے ہی شاہراہ فیصل کو جانے والے سارے راستے مسدود ہو جائیں گے اور پورا پاکستان ایم کیو ایم کی جانب دیکھ رہا ہے کیونکہ نئے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس کی تحریک کی قیادت اب ایم کیو ایم ہی کرے گی اور آج کے اس تاریخی اجتماع سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ کارکنان نے جو قدم بڑھایا ہے وہ براہِ راست منزل کی جانب گامزن ہے اور اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانے کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔

سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ایم کیو ایم پاکستان کی جدوجہد رنگ لا رہی ہے، ہر انسان کی عزتِ نفس کی حفاظت کی جانی چاہیے کیونکہ جب شہریوں کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے تو محرومی بڑھے گی، یہ چار صوبے چند خاندانوں کی اجارہ داری کو جاری رکھنے کی مشینری ہیں، اب پاکستان میں شراکتی و شمولیتی جمہوریت اور گورننس کو نچلی سطح تک لے جانے کی سخت ضرورت ہے، سندھ کو پیپلز پارٹی نے اٹھارہ سالوں میں تباہ و برباد کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی میں قیامِ پاکستان سے اب تک پینتالیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس شہر کی آبادی چار کروڑ سے زائد ہو چکی ہے، کراچی سے پشاور تک تمام پختون اور ہر زبان بولنے والے ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں اور سب یہ کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے چھٹکارا دلایا جائے، جب ہمارا انتظامی یونٹ بنے گا تب بھی ہم سندھی ٹوپی اور اجرک پہنیں گے۔

انکا کہنا تھا کہ اب ان کی بدانتظامی پر فل اسٹاپ لگ چکا ہے اور انتظامی یونٹس کے قیام کے لیے آئین کے تحت ریفرنڈم کروایا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق میئر کراچی وسیم اختر نے تنظیمی صورتحال اور تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالی، کارکنان کو چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں متحد اور منظم رہنے کا پیغام دیا۔

اجلاس میں تنظیمی ذمہ داران سمیت کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

Comments
Loading...