Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

وزارت صحت کی اولین کوشش یہ ہو گی کہ عوام کو بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی بچایا جائے۔ مصطفیٰ کمال

پاکستان آبادی کے دباؤ اور بیماریوں کے طوفان سے دوچار ہے، اب روک تھام پر توجہ دینا ہوگی۔ مصطفیٰ کمال

0

وزارت صحت کی اولین کوشش یہ ہو گی کہ عوام کو بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی بچایا جائے۔ مصطفیٰ کمال

اسلام آباد : ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما و وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ پاکستان آبادی کے بے قابو اضافے، ماحولیاتی آلودگی اور کمزور نظامِ صحت کی وجہ سے ایک بڑے بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔ محض ہسپتال بنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، جب تک روک تھام، احتیاط اور پائیدار حکمتِ عملی کو ترجیح نہیں دی جاتی۔

وہ اسلام آباد میں منعقدہ “امراض کی روک تھام اور مضبوط نظامِ صحت کی تیاری” کے موضوع پر پہلی قومی ہیلتھ کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے اس وقت دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے، اور 2030 تک ہم انڈونیشیا کو بھی پیچھے چھوڑ کر چوتھے نمبر پر آ جائیں گے۔ پاکستان میں شرح نمو 2.6 فیصد جبکہ شرحِ تولید 3.6 فیصد ہے، جو آبادی کے بڑھتے ہوئے بوجھ کی واضح علامت ہے۔

وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان میں 68 فیصد بیماریاں آلودہ پانی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں، اور صاف پانی کی فراہمی سے ان کا خاتمہ ممکن ہے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گلگت کی چوٹی سے کراچی کے ساحل تک سیوریج کا گندا پانی پینے کے پانی میں شامل ہو رہا ہے، اور ملک میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا کوئی نظام موجود نہیں۔ پاکستان ہیپاٹائٹس سی اور ذیابیطس جیسے امراض میں دنیا میں سرفہرست ہے، جبکہ 40 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں۔

جو اپنی عمر کے مطابق نشوونما حاصل نہیں کر پاتے، یہ آنے والے وقت میں ایک بڑا انسانی بحران بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو جیسا مرض اب صرف پاکستان اور افغانستان میں باقی رہ گیا ہے، جو ہمارے نظامِ صحت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ملک میں صحت کی سہولیات کی طلب بڑھتی جا رہی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں سہولیات کا فقدان ہے۔

ہمارے بڑے ہسپتال جیسے پمز اس انداز میں بھرا ہوا ہوتا ہے جیسے کوئی جلسہ ختم ہوا ہو۔ جو ہسپتال چند ہزار مریضوں کے لیے بنایا گیا تھا، آج وہاں لاکھوں کا بوجھ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ “روک تھام علاج سے بہتر ہے” کا اصول اب صرف قول نہیں بلکہ قومی پالیسی بننا چاہیے۔ ہم صرف ہسپتال بنانے کی بات کرتے ہیں۔ جب تک بیماری کو ہونے سے نہ روکا جائے، اربوں روپے لگا کر بھی ہسپتال ناکافی ہوں گے۔

مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا کہ حکومت “یونیورسل میڈیکل ریکارڈ” سسٹم متعارف کروا رہی ہے، جس میں شناختی کارڈ نمبر ہی ہر فرد کا طبی ریکارڈ نمبر ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹیلی میڈیسن سروسز کے آغاز سے ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکے گا، جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر سسٹم کو فعال اور جدید بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات ان کی دہلیز پر مل سکیں۔

آخر میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان کی وزارت کی اولین کوشش یہ ہو گی کہ عوام کو بیماری میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی بچایا جائے۔

Comments
Loading...