Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

معاشی بحران سے نکلنے کا واحد حل صاف و شفاف انتخابات ہی میں ہے۔ سعید غنی

سعید غنی نے کہا کہ آج یقینی 21 ستمبر خوشی کا دن ہے کہ آج چیئرمین کی ولادت کا دن ہے۔

سندھ میں کوئی وزیر پیپلز پارٹی کا نہیں البتہ وفاق اور پنجاب میں ایسے بہت سے وزراء ہیں جن کا تعلق نون لیگ سے ہے۔

0

کراچی (اسٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر و سابق صوبائی وزیر سینیٹر سعید غنی نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران سے نکلنے کا واحد حل صاف و شفاف انتخابات ہی میں ہے۔ الیکشن 90 روز میں ہونے تھے اگر حلقہ بندیوں کا معاملہ ہے اور سیٹیں تبدیل نہیں ہونی تو یہ کام 30 سے 40 دن میں ہوسکتا ہے اور سارا عمل انتخابات کے ساتھ 4 ماہ میں مکمل ہوسکتے ہیں۔ آج پوری دنیا چیئرمین بلاول بھٹو کی سیاسی صلاحیتوں کو مانتی ہے۔ اگر صوبہ سندھ کے 22 گریڈ کے افسر کو ہٹا کر رپورٹ کرایا جائے گا تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز پیپلز ڈاکٹرز فورم کراچی کے زیر اہتمام چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری جاوید ناگوری، ڈپٹی انفارمیشن سیکرٹری محمد آصف خان، پیپلز ڈاکٹرز فورم کراچی کے صدر ڈاکٹر عاشق علی، چنیسر ٹائون کے چیئرمین فرحان غنی، صفورا ٹائون کے چیئرمین راشد خاصخیلی کے علاوہ ڈاکٹرز فورم کے عہدیداروں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سعید غنی نے کہا کہ آج یقینی 21 ستمبر خوشی کا دن ہے کہ آج چیئرمین کی ولادت کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں 35 برس کی عمر کچھ نہیں ہوتی لیکن پیپلز پارٹی کے بانی شہید بھٹو بعد ازاں شہید بی بی نے کم عمری میں سیاست کا لوہا منایا تھا اور آج چیئرمین کی 35 سال کی عمر میں پوری دنیا ان کی سیاسی صلاحیتوں کو دنیا مانتی ہے۔

سعید غنی نے کہا کہ سوا سال قبل جب چیئرمین وزیر خارجہ بنے اور جن حالات میں وہ بنے انہوں نے پاکستان کو دنیا میں تنہائی سے نکالا۔ آئی ایم ایف کے معاملات عمران نیازی ہی وجہ خراب ہوئے تھے ان کو درست سمت پر چیئرمین لایئے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے 20 لاکھ گھروں کے بنانے کا جو وعدہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کیا تھا اور دنیا بھر میں ان متاثرین کا مقدمہ عالمہ سطح پر لڑا اور آج ان میں سے 5 لاکھ سے زائد مکانات بن گئے ہیں اور آئندہ ایک سال میں 20 لاکھ گھر بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ان متاثرین کو نہ صرف گھر بنا کر دئیے بلکہ ان کو زمین کی ملکیت بھی دلوائی۔ سعید غنی نے کہا کہ صوبہ سندھ میں آج پورے ملک میں صحت کے شعبہ میں آگے ہونے ہے پیچھے بھی بلاول بھٹو کا ہاتھ ہے۔ میڈیا کے سوالات کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ میں 5 سال وزیر رہا اور اس دوران اہم محکمہ بھی رہے۔ مجھے 5 سالہ دور میں اپنے محکمہ کے حوالے سے کوئی دبائو نہیں تھا اور آزادانہ محکمہ چلائے۔ میں اس بات سے انکاری نہیں کہ کرپشن نہیں ہوئی ہوگی لیکن یہ مسئلہ پورے ملک میں ہے اور یہ کسی پارٹی کا نہیں بلکہ ملک کا المیہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ پی ڈی ایم بنی اس وقت بھی کہا۔تھا کہ یہ اتحادی ہیں لیکن الیکشن میں اتحادی نہیں ہیں۔ بلاول جو بات کررہے ہیں وہ حقائق پر مبنی ہے۔ آئین میں واضح ہے کہ نگران حکومت مقررہ وقت پر انتخابات کرائے۔ سندھ میں کوئی وزیر پیپلز پارٹی کا نہیں البتہ وفاق اور پنجاب میں ایسے بہت سے وزراء ہیں جن کا تعلق نون لیگ سے ہے۔ اگر صوبہ سندھ کے 22 گریڈ کے افسر کو ہٹا کر رپورٹ کرایا جائے گا تو یہ تاثر پیدا ہوگا کہ سندھ کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ لیول پلینگ فیلڈ ملنی چاہیے تو اس کا یہ مقصد نہیں کہ ہمیں نگران حکومت میں وزارتیں دی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن نے وفاق کو خط لکھا کہ جو وزراء سیاسی ہیں ان کو ہٹایا جائے اور اسی طرح کے پی کے میں سیاسی وزراء کو ہٹایا گیا تو سندھ میں ایسا کیوں نہیں ہوتا اس کی واضح مثال یہاں کے گورنر ہیں جو اس وقت بھی ایم۔کیو ایم کے عہدیدار ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مقدمات سیاسی وفاداری تبدیل کرنے کے لئے کئے جائیں گے تو اس کی پہلے بھی مذمت کی ہے اور اب بھی کریں گے۔

Comments
Loading...