Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

آپ سمجھ لیں کہ یہ آپ کی ایم کیو ایم نہیں ہے، جو بک جاتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن

اس کے باوجود میں ایک دفعہ پھر آفر کررہا ہوں کہ مینڈیٹ تسلیم کیجئے، بیٹھ کر بات کیجئے۔ سارے اختلافات کے باوجود بھی ہم مل کر کراچی کی بہتری کے لئے کام کریں گے۔ حافظ نعیم الرحمن

0

آپ سمجھ لیں کہ یہ آپ کی ایم کیو ایم نہیں ہے، جو بک جاتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن

کراچی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارے نمبر زیادہ ہیں۔ اس کو تسلیم کیا جائے اور اگر کوئی اس کو تسلیم نہیں کرے گا تو یہ آپ سمجھ لیں کہ یہ آپ کی ایم کیو ایم نہیں ہے جو بک جاتی ہے آپ کے ہاتھوں بار بار، یہ جماعت اسلامی ہے۔ ہم اپنا آئینی، جمہوری اور عدالتی حق استعمال کریں گے۔ ہم پوری دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ آپ جو یہ سوہانے خواب دیکھ رہے ہیں مستقبل کے۔ اس میں آپ کا اصل چہرا کیا ہے یہاں پر۔ اس لئے آپ یماعت اسلامی کو یہ مت سمجھے کہ وہ کراچی سے دستبردار ہو جائیں گے۔ ہم بے نقاب کریں گے۔ ہر جگہ کریں گے اور پوری دنیا میں کریں گے۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جمہوریت دوست کون ہے اور جہوریت دشمن کون ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے باوجود میں ایک دفعہ پھر آفر کررہا ہوں کہ مینڈیٹ تسلیم کیجئے، بیٹھ کر بات کیجئے۔ سارے اختلافات کے باوجود بھی ہم مل کر کراچی کی بہتری کے لئے کام کریں گے۔ لیکن مینڈیٹ تسلیم نہیں کرو گے۔ دھاندلی اور قبضہ کو بنیاد بنا کر کام کرو گے تو وہ اپوزیشن کریں گے انشااللہ کہ شاید آپ کو اس کی عادت نہیں ہے۔ آپ کے پاس کیا ہے؟ آپ کے پاس طاقت ہے، آپ کے پاس حکومت ہے۔ آپ بندوں کو غائیب کرسکتے ہیں، لوگوں کو گرفتار کرسکتے ہیں۔ آپ لوگوں کو مار سکتے ہیں اس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ آج یہ طاقت آپ کو حاصل ہے تو پچلوں سے سبق سیکھ لو۔ جس جس کو یہ طاقت حاصل رہی، آج اس کو حاصل نہیں ہے۔ کل آپ کو بھی حاصل نہیں رہے گی۔ جس اسٹیبلشمنٹ کی بنیاد پر آج آپ اتنے خوش ہیں، اس کی ترجیہات بدل گئیں تو آپ کہاں کھڑے ہوں گے؟ آپ نے کیا کیا ہے اس صوبے کی عوام کے لئے۔ کب تک آپ بھٹو صاحب کا نام لے کر جیتے رہے گے۔ اب سندھ کے لوگوں کو پتہ چل گیا ہے کہ آپ نے کچھ نہیں کیا ہے صوبے کی عوام کے لئے۔ اب تو طاقت صرف آپ کی بیس ہے اور آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ آپ کے ساتھ ہے۔ اس کی ترجی بدلے گی تو آپ کہیں دور جاکر گریں گے۔ اس لئے حالات آنے سے پہلے اس کا اندازہ کیجئے۔

Comments
Loading...