کراچی کے لوگوں کو یہ تسلیاں نہیں چاہیے کام چاہیے۔ منعم ظفر
ہماری مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ہم شہریوں کو اس حال میں نہیں چھوڑ سکتے۔ منعم ظفر
کراچی کے لوگوں کو یہ تسلیاں نہیں چاہیے کام چاہیے۔ منعم ظفر
کراچی : منعم ظفر عبوری امیر جماعت اسلامی کراچی، شہر میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کراچی کی پریس کانفرنس۔ پریس کانفرنس سے امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کراچی معاشی حب ہے کراچی آگے بڑھتا ہے تو پورا پاکستان آگے بڑھتا ہے۔ اس موقع پر سیف الدین ایڈووکیٹ، مسلم پرویز و دیگر رہنماء موجود تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے اوپر ڈکیتوں کا راج ہے لاقانونیت ہے۔ ایک سرسری جائزہ لیں ان اعداد و شمار کا جو سرکار کی جانب سے جاری کئے گئے ہیں۔ تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہزاروں لوگ اس لاقانونیت کا شکار ہوئے ہیں۔ نوے ہزار وارداتیں 2023 میں ہوئیں اور 2024 میں اب تک 17 ہزار وارداتیں ہوچکی ہیں۔ 2022 2023 اور 2024 میں کم و بیش 285 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جس کی وجہ سے لوگ اپنے پیاروں سے محروم۔ہوئے۔ اس کی وجہ سے جو نفسیاتی مسائل ہوتے ہیں وہ الگ ہیں۔ اس کی ذمہ دار سولہ سال سے صوبے پر حکومت کرنے والی پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ کس کا اختیار ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ وزیر داخلہ اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہتے ہیں کہ جب کاروبار زندگی چلتا ہے تو اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ وزیر داخلہ صاحب اس شہر نے بہت دکھ سہے ہیں بہت لاشیں اٹھائی ہیں۔ تھوڑا امن ہوا تو پھر وہی حالات ہوگئے۔ ہم نے دیکھا کہ کاروبار یہاں سے منتقل ہوا۔ کاروبار زندگی تب چلتا ہے جب شہر میں امن ہو لوگوں کی زندگی محفوظ ہو۔ ایک وزیر کراچی کا مقابلہ نیویارک سے کرتے ہیں۔ نئے آئی جی کہتے ہیں کہ ان اعداد و شمار کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔ رمضان المبارک میں 19 افراد ڈکیٹوں کی بھینٹ چڑھے۔ وزیر داخلہ سے کہتے ہیں کہ آپ کو یہ روکنا ہوگا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ نہیں کیا گیا تو شہریوں کو پھر یہ نہیں پتا ہوگا کہ ریڈ زون کیا ہے۔ ہم ہر ادارے کے سامنے احتجاج کریں گے۔ ہماری مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ہم شہریوں کو اس حال میں نہیں چھوڑ سکتے۔ ہم نے کل دیکھا کہ بادشاہ سلامت نے کل چارگھنٹے کا دورہ کیا۔ فارم 47 کے پیداوار ارکان کو جمع کیا اور ڈیڑھ سو بسیں کراچی کو دینے کا اعلان کیا۔ ایسے اعلان ہم نے بہت سنے ہیں۔ پھر کاروباری برادری سے کہا کہ 1 مئی کو اسلام آباد تشریف لائیں۔ میں کاروباری برادری کو سلام پیش کرتا ہوں کہ اس وقت بھی کے الیکٹرک کی بات کی۔ اور جاتے جاتے کراچی کے ٹرانسپورٹ سسٹم کی تعریف کی۔ سرمایہ کار کیسے ائیں گے جب شہرکا انفراسٹرکچر تباہ ہوگا۔ کراچی کے لوگوں کو یہ تسلیاں نہیں چاہیے کام چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آپ نے نگران وزیر اعظم کے طور پر کہا تھا کہ اگر حکومت ملی تو کے فور منصوبہ مکمل کریں گے۔ کے فور کے نتیجے میں پانی کم کر کے 260 ایم جی پانی کردیا گیا۔ اور بتایا گیا ہے کہ یہ مکمل بھی ہوجایے تو شہریوں کو پانی میسر نہیں آسکتا۔ لائنیں بوسیدہ ہیں منصوبہ مکمل ہونے کے بعد بھی پانی ملنے میں 3 سال لگیں گے۔ واٹر بورڈ نے بتایا کہ آج سے کام شروع ہوگا تو 2027 تک مکمل ہوگا جس میں اربوں روپے لگیں گے۔ گرمیوں کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں چودہ چودہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ لگتا ہے کہ کے الیکٹرک کا ڈکیٹوں سے رابطہ ہے کہ اندھیرے میں ڈاکہ ڈالا جائے۔ کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی نے پوری تحریک چلائی ہے۔ اپنا قبلہ درست کریں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ہی لوگ مسائل کا شکار تھے سردیوں میں بھی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور گرمی میں بھی ہورہی ہے۔ دس مہینے سے زیادہ ہوگا کے ایم سی کے نظام۔کو۔بنے ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود قبضہ مئیر اب تک سٹی کونسل کمیٹیوں کی تشکیل نہیں کرسکے نہ ہی فنڈز جاری کرسکے۔ ہم۔اپنا پلان بنارہے ہیں جلد آپ کے سامنے پورا معاملہ رکھیں گے۔ 28 اپریل بروز اتوار نو منتخب امیر جماعت اسلامی پاکستان کراچی تشریف لارہے ہیں۔ ان کے استقبال کے لئے عوامی استقبالیہ تشکیل دیا گیا ہے۔ کراچی والوں سے کہوں گا کہ بھرپور شرکت کریں۔ حافظ نعیم نے ہر جگہ کراچی والوں کو مقدمہ لڑا ہے۔ ان کا استقبال بھی شاندار ہو۔ نشتر پارک میں رات 7 بجے تقریب ہوگی۔ خواتین کی بھی شرکت ہوگی وہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوں۔