کل بروز اتوار شام 4بجے شاہراہ فیصل پر”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“ ہر صورت میں کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا ادارہ نورحق میں مردم شمار ی کے سلسلے میں محکمہ شماریات پاکستا ن کی اسلام آباد میں بریفنگ میں شرکت 30اپریل کو شاہراہ فیصل پر ہونے والے احتجاجی مارچ کی تفصیلات کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب
کل بروز اتوار شام 4بجے شاہراہ فیصل پر”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“ ہر صورت میں کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن
کراچی: جماعت اسلامی امیر کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کل بروز اتوار شام 4بجے شاہراہ فیصل پر”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“ہر صورت میں کیا جائے گا۔ کراچی کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ ہر زبان،ہر نسل اور ہر پارٹی ورکرز سے تعلق رکھنے والے شہری مارچ میں بھرپور شرکت کریں اور اپنی گنتی درست کروائیں۔ ”فراڈ مردم شماری نامنظور مارچ“میں کراچی کی خواتین بھی بھرپور شرکت کریں گی جن کے لیے علیحدہ سے ٹریک مخصوص کیا جائے گا۔ جب تک کراچی کی آبادی کو 100فیصد مکمل مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا تو ہم ایسی کسی مردم شماری کو نہیں مانیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ کراچی میں سو سے زائد کیمپس لگائے جاچکے ہیں، موبائل وین بھی گشت کررہی ہیں۔ وفاق نے 15دن کی توسیع کی ہے، ہم ان 15دن کی مانیٹرنگ بھی کریں گے۔ وفاقی حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ ہم کراچی کی آبادی کو درست کریں گے۔ اگر کراچی کی آبادی درست طریقے سے کی جائے گی تو ہم تعاون کریں گے بصورت دیگر ہم فراڈ مردم شماری قبول نہیں کریں گے۔ ماضی میں کراچی سے مینڈیٹ لینے والی پارٹیوں نے وڈیروں اور جاگیرداروں کو کراچی کے مینڈیٹ کو فروخت کیا اور اس وقت بھی وہ پارٹیاں یہی سازشیں کررہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چند وزارتیں حاصل کر کے کراچی کے وسائل اور مینڈیٹ فروخت کردیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کراچی کی آبادی کے حوالے سے سوداگری کی جارہی ہے۔ ہم واضح کردینا چاہتے ہیں کہ کراچی کی آبادی پر کسی صورت سوداگری نہیں کرنے دیں گے، ہر فورم پر بے نقاب کریں گے۔ ہمارا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ کراچی کی آبادی کو درست کیا جائے اور اس کے مطابق وسائل دیے جائیں اور صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی ساڑھے تین کروڑ ہے اسے درست شمار کیا جائے،اگر کسی اییک فرد کو بھی شمار نہیں کیا گا تو ہم ایسی مردم شماری کو قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان کے جتنے بھی ادارے اور جتنے اسٹیک ہولڈرز ہیں سب کو کراچی کی پشت پر کھڑا ہونا چاہیئے۔ انتہائی افسوس کا مقان ہے ک بڑی بڑی پارٹیاں کراچی کے دیرینہ مسئلے سے بالکل خاموش ہیں۔ مسلم لیگ ن، پی ٹی آئی اور پیپلزپارٹی اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں اور کراچی کی درست آبادی پر آواز اٹھائیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آصف علی زرداری صاحب کہتے ہیں کہ ہم کراچی کے خیر خواہ ہیں،انہوں نے کبھی بھی کراچی میں خیر خواہی کا کام نہیں کیا ہمیشہ کراچی کا بیڑہ غرق کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کل کے اجلاس میں ۲ گھنٹے شرکت کی لیکن کراچی کی گنتی پر کوئی بات نہیں کی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے اربن سندھ کے شہروں کی بات تو کی لیکن کراچی کی بات نہیں کی۔ ملک میں این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کا 80فیصد شیئرز ہوتے ہیں،شہروں کو اس کی آبادی کے حساب سے حصہ ملتا ہے۔ صوبائی حکومت چاہے کسی کی بھی ہو ہم کراچی کا حق ہر صورت میں حاصل کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ 7مئی کو خالی نشستوں پر ہونے والے بلدیاتی انتخابات کو بھی ملتوی کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ صوبائی اسمبلی کی نشستیں بھی آبادی کے حساب سے طے کی جاتی ہیں۔ اگر سندھ اسمبلی میں اربن سندھ سے نشستیں کم کر کے شہرسے زیادہ کردی جائیں تو اسمبلی وڈیروں کا راج ختم ہوجائے گا۔ پیپلزپارٹی نے اسی وڈیرہ شاہی کو برقرار رکھنے کے لیے سول ایجنٹس کو استعمال کرتے ہوئے کراچی کی آبادی کو کم کیا ہے۔ کراچی سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی نشستیں جان بوجھ کر کم کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کس کو خوش کرنے کے لیے کراچی سے قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستیں کم کی جارہی ہیں۔ ہم میرٹ کے حق میں ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا سندھ بھی ترقی کرے اور شہر بھی ترقی کرے۔ اندرون سندھ سے بھی جبر کا نظام ختم ہونا چاہیے ،وڈیرے اور جاگیردار شہر کو بھی غلام بنانا چاہتے ہیں۔ ایک بار پھر سے کراچی کی آبادی کو کم کرنے کے سارے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں جو ماضی میں کیے گئے۔ 2017کی مردم شماری کو بنیاد بنا کر کراچی کے عوام پر شب خو ن مارا جارہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 2017کی مردم شماری بھی غلط اور ناجائز تھی جس پر ہم نے اس وقت بھی احتجاج کیا تھا۔ 2017کی مردم شماری میں پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مل کر وفاقی کابینہ سے منظور کروایا۔ اگر 2017کی مردم شماری کو بنیاد بنا لیا جائے تو موجودہ مردم شماری میں آبادی بڑھنے کے بجائے کم کیسے ہوگئی۔ ڈیجیٹل مردم شماری میں ایک کروڑ 40لاکھ آبادی کراچی کی آبادی ظاہر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کراچی کی آبادی پر آواز نہیں اٹھائی جاتی تو اسی پر رپورٹ مرتب کردی جاتی۔ ہمیں لاڑکانہ سمیت دوسرے شہروں کی درست آبادی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ہمارا واضح اور دوٹوک مطالبہ ہے کہ کراچی کی آبادی کو درست شمار کیا جائے اور جو جہاں رہتا ہے اسے شمار کیا جائے۔ مردم شماری کا کام وفاق کا ہے لیکن خانہ شماری اور مردم شماری صوبائی حکومت کے تعاون سے ہوتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سول سروسز سے تعلق رکھنے والے پیپلزپارٹی کی بی ٹیم کا رول ادا کررہے ہیں۔ یہی کام انہوں نے بلدیاتی انتخابات میں کیا اورزبردستی پیپلزپارٹی کی من پسند نشستیں ان کی جھولی میں ڈال دی۔ مردم شماری کے عملے کو تربیت نہیں دی گئی اور ہزاروں بلاکس کو شمار ہی نہیں کیا۔ کراچی میں 32ہزار ہائی رائز بلڈنگز ہیں جنہیں مردم شماری میں شمار نہیں کیا گیا۔ محکمہ ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق 40فیصد علاقہ جات میں خانہ شماری ہی نہیں کی گئی۔ جب مردم شماری کے عملے کو خانہ شماری نہ کرنے پر شکایات کی گئی تو عملے کی جانب سے سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں خاص طور پر پشتونوں کو شمار نہیں کیا جارہا، ہمیں خیرات نہیں چاہیئے جو جہاں ہیں اسے شمار کیا جائے۔ ڈیفیکٹو اور ڈی جور نہیں جو جہاں رہتا ہے اسے شمار کیا جائے۔ کراچی کی کم سے کم آدھی آبادی ایسی ہے جسے گنا نہیں گیا۔
اس موقع پر نائب امراء جماعت اسلامی کراچی راجا عارف سلطان، انجینئر سلیم اظہر،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، مردم شماری مانیٹرنگ سیل کے نگراں عمران شاہد ودیگر بھی موجود ہیں۔