Karachi Alerts News - KAN
News and Updates

انصاف کے بغیر گھر نہیں چلتے، ایک نظریاتی ملک کیسے چلے گا۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

نوجوانوں کے شعور کو اُس حد پر لیکر جانا ہے جہاں کوئی کوٹہ سسٹم کسی کی حق تلفی نہ کر سکے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

0

جِس کی جہاں اکثریت ہو وہاں کی تعلیم، روزگار اور کاروبار پر پہلا حق بھی اُسی کا ہونا چاہیئے۔ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چئیرمین اور وفاقی وزیر برائے تعلیم وپیشہ ورانہ تربیت اور سائنس اور ٹیکنالوجی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں واقع گورنمنٹ کمپری ہنسیو ہائی اسکول میں پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ویب لیب کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور شرکاء سے خطاب کیا۔

تقریب میں تعلیمی نظام سے متعلق مختلف امور نصاب میں موجود کمزوریوں اور طلباء طالبات کو جدید علوم سے آراستہ کرنے کی جانب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی توجہ مبذول کروائی گئی۔ شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اس تیز رفتار دُنیا میں صِرف وہی نہیں بدلا جس نے خود کو بدلنے کا ارادہ نہیں کیا ہو، اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ طالب علموں کو سوال کرنا سکھائیں، تشخص کا ہونا نہایت ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کو نیچے کس سطح تک لے کر جانا ہے جب ایک بہتر معاشرہ بنانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو معاشرتی علوم بھی پڑھا لیں گے۔

ٹیکسٹائل، فیشن ڈزائننگ، آئی ٹی اور دورِ جدید کے مکمل فنون سے ہم آہنگ جامعات کا قیام جلد کراچی میں ہونے جارہا ہے، کراچی کو تعلیم یافتہ کر دیا تو پورا ملک علم کے زیور سے آراستہ ہو جائے گا اِس شہر کے پیلے اسکولوں نے وطن عزیز کو قیمتی نگینے فراہم کیئے ہیں، نوجوانوں کے شعور کو اُس حد پر لیکر جانا ہے جہاں کوئی کوٹہ سسٹم کسی کی حق تلفی نہ کر سکے اور وہ ملکی معیشت کی باگ ڈور سمبھالنے کے اہل ہوسکیں علم سے دانش کو کشید کر کے جدید دُنیا سے مسابقت کرتے ہوئے تعلیم کو سیاست سے بالاتر کیا جانا وقت کی ضرورت میں سے ہے۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کراچی نے اسلام آباد کو بنا دیا اب اسلام آباد کی ذمہ داری ہے کے وہ کراچی کی جانب بھی نظر کرم کرے، اس شہر میں نل کے نہیں آنکھوں کے پانی کا مسئلہ ہے، صنعتی، معاشی اور اقتصادی دارالحکومت کا اعزاز کراچی سے کوئی نہیں چھین سکتا، پاکستان میں جمہوری روایات کی اصل امین ایم کیو ایم پاکستان ہے ایم کیو ایم نے ہی متوسط طبقے کے لوگوں کو ایوان میں بھیج کر عوامی نمائندگی کی حق دیا، یہ مطالبہ بھی ایم کیو ایم پاکستان کا ہی طرہ امتیاز ہے کہ جِس کی جہاں اکثریت ہو وہاں کی تعلیم، روزگار اور کاروبار پر پہلا حق بھی اُسی کا ہونا چاہیئے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا بننا مقصد نہیں تھا بلکہ پاکستان بنانے کا ایک مقصد تھا جو کہیں دفن کر دیا گیا ہے جسے دوبارہ ڈھونڈنا ہے بد قسمتی سے حکمران طبقے نے بدعنوانی رہزنی کرپشن کو صنعت کا درجہ دے دیا ہے، پہلے کرپشن ڈیولپمنٹ کی بائی پروڈ کٹ ہوتی تھی اب ڈیولپمنٹ کرپشن کی بائی پروڈکٹ ہے، دگذشتہ ۱۵ سالوں میں نیشنل فائنانس کمیشن کے ذریعے صوبائی حکومت کو 22 ہزار ارب روپے ملے ہیں مگر نظر کہیں نہیں آتے، ہم این ای ڈی کا کیمپس بنانا چاہتے تھے وزیر اعلی سندھ نے کہا کے یہ معیشت پر بوجھ ہوگا، کراچی میں تعلیم یافتہ باشعور نوجوانوں کا قتل ناصرف نسل کُشی ہے بلکہ کسی خاص مقصد کی جانب نشان دہی کرتا معلوم ہوتا ستم ظریفی یہ کہ عدالتوں کی جانب مجرمانہ خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے کسی بھی ریاستی ادارے کواپنے فیصلے ڈومیسائل کی بنیاد پر نہیں کرنے چاہیئیں۔

اس موقع پر رکن صوبائی اسمبلی عادل عسکری اور پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے سربراہ ایچ یو خان بھی موجود تھے۔

Comments
Loading...