ہماری ہی حمایت سے اب ملک کا وزیراعظم اور وزیر اعلی بنے گا۔ سید مصطفی کمال
ہم اختیارات اب وزیراعلی ہائوس سے نکال کر یوسی ناظم ، کونسلر ، ٹائون کو دینا چاہتے ہیں۔ سید مصطفی کمال
ہماری ہی حمایت سے اب ملک کا وزیراعظم اور وزیر اعلی بنے گا۔ سید مصطفی کمال
کراچی : متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر سید مصطفی کمال نے کہا کہ قصبہ علیگڑھ کے لوگوں نے آج ہی ایم کیو ایم کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے یہ ٹاؤن کا اجتماع ہے جلسے کی شکل اختیار کیا گیا ہے،پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی والے پریشان ہیں پیپلزپارٹی کو کہنا چاہتا ہوں 1993 میں بھی تمہاری حکومت تھی پیپلزپارٹی والوں تم ہمارے خلاف آپریشن کرتے تھے۔ نوجوانوں کو مارتے تھے۔ پیپلزپارٹی کو ووٹوں کی بھیک مانگنے کے لیے ہمارے دروازے پر آنا پڑا گا۔ آصف علی زرداری کو ہمارے دروازے پر آنے سے پہلے شہداء قبرستان میں جا کر شہیدوں سے معافی مانگنی پڑی۔
ہم نفرت بیچنے والے لوگ نہیں ہیں پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اس شہر میں مہاجروں کو پختونوں سے لڑایااب ایم کیو ایم لیاری ،سہراب گوٹھ ،کیماڑی اور بنارس کی ہے اس شہر میں اب کسی کی لڑائی نہیں ہو رہی،اگر پی پی والوں میں اتنا دم ہے تو کریں اعلان کہ آج کے بعد کھبی ہمارے دروازے پر ووٹ کی بھیک مانگنے نہیں آئیں گے مجھے معلوم ہے کہ لوگ کھبی یہ اعلان نہیں کریں گے انہوں نے کہا کہ پی پی کے دور میں مردم شماری ہو رہی تھی سات اپریل کو انکے ڈی سیز نے اے سیز نے اعلان کر دیا کہ مردم شماری مکمل اور کراچی کی ابادی ایک کڑور تیس لاکھ ہے ہم نے کوشش کر کے 73 لاکھ لوگ مردم شماری میں بازیاب کروائے۔ اندرون سندھ سے ایک قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشست کراچی آگئی یہ ایم کیو ایم کا کارنامہ ہے پی پی کو کہتا ہوں ہمت کرو اعلان کرو کہ آئندہ ہمارے دروازے پر ووٹ مانگنے نہیں آئؤں گےزرداری کو کہتا ہوں کہ یہ آپ کے جو لوگ ہیں یہ بلاول بھٹو کی راہ میں مائنز بیچا رہے ہیں ۔
ہمیں گالیاں دے کر، ایم کیو ایم ساتھ نہیں تو بلاول بھٹو اس جنم میں وزیراعظم بنے کا خواب چھور دیں بلاول بھٹو سے کہتا ہے کہ بزرگوں کو کیوں لاڈلا بنا رہے ہو۔ مجھے لاڈلا بنائو دوسروں کو لاڈلا کہتے ہو اور خود لاڈلا بنے کی سی وی لیے پھر رہے ہو ڈاکٹر عاصم کو نیا نیا جیالا بنے کا شوق ہوا ہے وہ سینٹرل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے ،کل تین یوسی سینٹرل سے جیتے ہیں اب نئے طریقے سے پیسہ خرچ کرکے سینٹرل کو خریدنا چاہتے ہیں نالے پر جو یہ اسپتال بنا ہوا ہے ،نالے پر قبضہ کرکے یہ اسپتال بنایا ہے جس دن ہماری حکومت آئی تو کہیں یہ اسپتال نہ رہے پھر ہم دیکھیں گے کہ نالے کے درمیان کیا کچھ ہے پھر جو بیچ میں آیا اسکو گرائیں گے جب غریب کا گھر گر سکتا ہے تو نالے پر بنا اسپتال کیوں نہیں گر سکتا،حافظ نعیم کو بھی بہت تکلیف ہے ہمارے بائیکاٹ کی خیرات پر یہ بلدیاتی الیکشن میں اسی یوسی جیتے ہیں نعیم صاحب کہتے ہیں یہ پاکستان والی اصل ایم کیو ایم نہیں لندن والی اصل ایم کیو ایم ہے آج تمھیں الطاف حسین یاد آرہے ہیں۔
حافظ نعیم شکر کرو انکا دور ختم ہوگیا ورنہ تم نے جتنے بینرز لگائے ہیں اس شہر میں تم آج گھر سے نہیں نکل پاتے نہ ہی آزادانہ طریقے سے گھوم رہے ہوتے اتنے بینرز اور تصویریں لگانے پر آج بینرز پر تمھاری تصویر لگی ہوتی اور برسی منائی جارہی ہوتی تمھاری، وزارتوں کی بات اب بعد میں ہوگی پہلے اختیارات اور وسائل کی بات ہوگی ہم اختیارات اب وزیراعلی ہائوس سے نکال کر یوسی ناظم ، کونسلر ، ٹائون کو دینا چاہتے ہیں،ہمارے ناقدین کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ہمیشہ حکومت کا حصہ ہوتی ہے الیکشن کیا اپوزیشن میں بیٹھنے کے لیے یا ڈیسک بجانے کے لیے لڑا جاتا ہے اگلی حکومت میں بھی جائیں گے ، حکومت کا حصہ بنیں گےحکومت بنا نہیں سکتے تو کیا ہوا حکومت کا حصہ تو بن سکتے ہیں اور بنیں گے جماعت اسلامی کی طرح ہر جمعے کو مسجد کے باہر احتجاج کرنے سے مردم شماری میں ایک شخص کا اضافہ نہیں ہوا۔
ہماری ہی حمایت سے اب ملک کا وزیراعظم اور وزیر اعلی بنے گاان خیالات کا اظہار انہوں نے قصبہ علی گڑھ ٹاؤن کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 245 اور صوبائی نشست پی ایس 119 کے مرکزی الیکشن دفتر کا افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر انیس قائم خانی سمیت دیگر رہنماؤں بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ آج ایک سیاسی جماعت کی نیندیں حرام ہوگئی ہیں پندرہ سال حکمرانی کو ہوگئے ایک ماڈل یوسی نہیں دکھا سکتے پندرہ ہزار ارب خرچ کرکے ایک یوسی نہیں بتا سکتے جہاں کام کیا ہو انکی حکمرانی کے باعث آج کراچی انسانوں کے رہنے کی چار بدترین شہر میں شمار ہوتا ہے اس شہر کا حال یہ ہے کہ دنیا چاند پر جارہی ہے اور اس شہر میں بچے گٹر میں گر کر مر رہے ہیں پندرہ سال حکمرانی کی پی پی نے ایک قطرہ پانی کا اضافہ نہ کرسکے میرے زمانے میں میں نے جو پانی کی لائنیں ڈالی ان پر انھوں نے ہائیڈرنٹ بنا کر ہمارا پانی ہمیں فروخت کررہے ہیں انکا بس چلے تو اس شہر کو غزہ اور فلسطین سے بھی بدتر جگہ بنا دیتے یہ ایم کیو ایم ہے جس نے انکو لگام ڈالی ہوئی ہے۔
نہ کچرہ اٹھانے کا سسٹم ہے ،نہ سیوریج کا کوئی نظام ہے انہوں نے کہا کہ اس شہر کو دوبارہ ایم کیو ایم بنائے گی بس اب چند مہینوں کی بات ہے یہ ایم کیو ایم الیکشن یا ووٹ چھینے نہیں دے گی ہم دوبارہ 2008 والی پوزیشن پر جائیں گے آج پی پی پریشان ہے ،الزام تراشی اور گالیاں دے رہے ہیں وہ اپنا کام نہیں دکھا پا رہے انکو اپنے کاموں پر اسراء نہیں ہے انکا سہارا لندن کے بائیکاٹ پر ہے۔
پیپلز پارٹی والے روانہ آواز لگا رہے ہیں کہ لندن سے بائکاٹ ہوگا تو انکو کچھ سہارا ملے گا اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے رکن سید امین الحق نے کہا کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایم کیو ایم مضبوط ہوتی جا رہی ہے کچھ سیاسی جماعتیں شب خون مارنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ ،2018 کے انتخابات میں ایم کیو ایم کو ہرانے کے لیے آر ٹی ایس کا بٹھا دیا گیا جن لوگوں کو لاڈلہ بنا کر حکومت بنائی گئی وہ کہاں ہیں آج انہوں نے کہا کہ خان صاحب آپ کے دعوؤں کا پوسٹ مارٹم کر لیتے ہیں۔
خان صاحب آپ نے ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھاخان صاحب آپ نے لوگوں کو بے روزگار کیا خان صاحب آپ نے پچاس لاکھ گھر بنا کر دیے خان صاحب نے تیسرا وعدہ کیا تھا گورنر ہاؤس ،سی ایم ہاؤس اور وزیر اعظم ہاؤس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرینگے،نو مئی کو شہداء اور حساس اداروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا آپ کا اگلے الیکشن میں چیپٹر کلوز ہو چکا ہےانکا اب کوئی سیاسی مستقبل نہیں ،تحریک انصاف کے جو چند لوگ رہے گئے ہیں اپنے ساتھیوں سے کہتا ہوں ان سے رابطہ کریں اور پارٹی میں لے کر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ریاست کے ساتھ کھڑی ہےایم کیو ایم پاکستان زندہ باد کے نعرے اور پاک افواج کے ساتھ کھڑی ہے ،آنے والے الیکشن میں آپ کو خوشخبری اور بڑے سرپرائز ملیں گے آئندہ صوبائی حکومت ایم کیو ایم کی ہوگی انہوں نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں ہم نے پانی کے مسائل حل کیے ،اورنگی ٹاؤن میں ہم انڈر پاس بھی بنائیں گے اورنگی ٹاؤن میں جلد پارک کا بھی افتتاح کیا جائے گا انشاءاللہ ہم مل کر تمام منصوبوں کو مکمل کریں گے انشاءاللہ بورڈ آفس سے آنے والی اورنج لائن کو بہار کالونی تک لائیں گے،حق پرست نامزد امیدوار این اے 245حفیظ الدین,نے کہا کہ اس شہر میں پاکستان کی دولت ہے۔
بلاول بھٹو نے ایک دن پہلے کہا سندھو دیش بن سکتا ہے سرائیکی دیش بن سکتا ہے اپنی کتاب سے وہ صفحے پھاڑ دو بلاول تم کہتے تھے پنجاب کو لاڑکانہ بناؤ گے اس ملک کو پسماندگی سے نکالنے کے لیے ایم کیو ایم کام کر رہی ہےاورنگی کے لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں گےانہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی تاریخ بدلے گی اوراس شہر سے محرومیوں کا خاتمہ کرینگے۔